🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

850. ذِكْرُ وَفَاةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی وفات کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6495
حدَّثَناه الشيخ أبو محمد المُزَني، حدثنا القاضي أبو خَلِيفة، حدثنا إبراهيم ابن أبي سُوَيد الذارع، حدثنا عُمارة بن زاذانَ، حدثني مكحول قال: بَيْنا أنا مع ابن عمر إذ نَصَبَ الحجَّاجُ المَنجَنيقَ على الكعبة وقَتَلَ ابن الزُّبير، فأنكرَ عبدُ الله بنُ عمر ذلك وتكلَّم بما ساء الحجَّاجَ سماعُه، فأمر الحجاجُ بقتلِه، فضربه رجلٌ من أهل الشام ضربةً، فلما بَلَغَ الحجَّاجَ فَصَدَه عائدًا، فقال له ابنُ عمر: أنت قتلتَني والآن تَجِيئُني عائدًا؟! كَفَى بالله حَكَمًا بيني وبينَك (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6357 - عمارة ضعيف
مکحول سے روایت ہے کہ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا جب حجاج نے کعبہ پر منجنیق نصب کی اور سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما کو شہید کیا، تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس عمل کی سخت مذمت کی اور ایسی باتیں کیں جو حجاج کو ناگوار گزریں، چنانچہ حجاج نے ان کے قتل کا خفیہ حکم دے دیا اور ایک شامی نے انہیں ضرب لگائی، جب حجاج عیادت کے لیے آیا تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تم نے ہی مجھے قتل کیا ہے اور اب عیادت کو آئے ہو؟! میرے اور تمہارے درمیان اللہ کا فیصلہ ہی کافی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6495]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن إن شاء الله. مكحول: هو الأزدي البصري.» [ترقيم الرساله 6495] [ترقيم الشركة 6418] [ترقيم العلميه 6357]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6496
أخبرني أحمد بن يعقوب الثَّقَفي، حدثنا موسى بن زكريا، حدثنا خَليفة ابن خيَّاط قال: قَدِمَ عبد الله بن عمر البصرةَ، وأتى فارسَ غازيًا، قَدِمَها، ومات بمكة سنةَ أربعٍ وسبعين.
خلیفہ بن خیاط سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بصرہ تشریف لائے اور فارس کے علاقے میں غازی بن کر گئے، آپ کی وفات مکہ مکرمہ میں 74 ہجری میں ہوئی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6496]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 6496] [ترقيم الشركة 6419]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں