المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
849. عِيَادَةُ الْحَجَّاجِ ابْنَ عُمَرَ
حجاج کا سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی عیادت کرنا
حدیث نمبر: 6494
حدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا فُضَيل بن مرزوق، عن عطيَّة قال: قلت لمولًى لابن عمر: كيف كان موتُ ابنِ عمر؟ قال: إنه أَنكرَ على الحجَّاج بن يوسف أفاعيلَه في قتل ابن الزُّبير، وقام إليه فأسمَعَه، فقال الحجَّاجَ: اسكُتْ يا شيخُ، قد خَرِفتَ، فلما تفرَّقوا أمرَ الحجَّاجُ رجلًا من أهل الشام فضربه بحَرْبتِه في رِجْله، ثم دخل عليه الحجاجُ يَعُودُه فقال: لو أعلمُ الذي أصابك لضربتُ عنقَه، فقال: أنت الذي أصبْتَني، قال: كيف؟ قال: يومَ أدخلتَ حَرَمَ اللهِ السلاحَ (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6356 - عطية ضعيف
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6356 - عطية ضعيف
عطیہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ایک آزاد کردہ غلام سے پوچھا کہ ان کی وفات کیسے ہوئی؟ انہوں نے بتایا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے حجاج بن یوسف کے ان افعال پر سخت نکیر فرمائی جو اس نے سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما کی شہادت کے وقت کیے تھے، آپ نے اس کے سامنے کھڑے ہو کر اسے سخت کلمات کہے تو حجاج نے کہا: ”اے بوڑھے! خاموش ہو جا، تیری عقل ٹھکانے نہیں رہی۔“ پھر جب لوگ وہاں سے چلے گئے تو حجاج نے ایک شامی شخص کو حکم دیا جس نے آپ کے پاؤں پر نیزے سے وار کیا، پھر حجاج عیادت کے لیے آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا: ”کاش مجھے معلوم ہو جائے کہ آپ کو کس نے زخمی کیا ہے تو میں اس کی گردن اڑا دوں،“ آپ نے فرمایا: ”تمہی نے تو مجھے زخمی کیا ہے،“ اس نے پوچھا: وہ کیسے؟ آپ نے فرمایا: ”اس لیے کہ تم نے اللہ کے حرم میں اسلحہ داخل کیا (جس کی حرمت پامال ہوئی)۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6494]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف عطية» [ترقيم الرساله 6494] [ترقيم الشركة 6417] [ترقيم العلميه 6356]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف