🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

870. ذِكْرُ بَيْعَةِ الصَّغِيرِ
کم عمر بچے کی بیعت کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6552
أخبرني محمد بن المؤمل بن الحسن، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا أحمد بن حَنبل، حدثنا الحَكَم بن نافع، حدثنا إسماعيل بن عيّاش، عن هشام ابن عُرْوة، عن أبيه: أنَّ عبد الله بن الزُّبير وعبد الله بن جعفر بايَعَا النبيَّ ﷺ وهما ابنا سبعِ سنين، وأنَّ رسول الله ﷺ لما رآهما تَبسَّم وبَسَطَ يدَه فبايَعَهما (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6410 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر اور سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی جبکہ وہ دونوں صرف سات سال کے تھے، اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تبسم فرمانے لگے اور اپنا دستِ مبارک پھیلا کر ان دونوں سے بیعت لی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6552]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل إسماعيل بن عيّاش.» [ترقيم الرساله 6552] [ترقيم الشركة 6474] [ترقيم العلميه 6410]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6553
أخبرني أبو الحسين محمد بن أحمد بن تَميم القَنطَري، حدثنا أبو قِلابةَ، حدثنا أبو عاصم، أخبرنا ابن جُرَيج، عن جعفر بن خالد بن سارَةَ، عن أبيه، عن عبد الله بن جعفر قال: لو رأيتَني وعُبيد الله وقُثَمَ ونحن نلعبُ، إذْ مرَّ بنا رسول الله ﷺ فقال:"ارفَعُوا هذا إليَّ"، فحَمَلَني أمامَه، وقال لقُثَم:"ارفَعُوا هذا إليَّ"، فجعله وراءَه، وكان عبيدُ الله أحبَّ إلى عبّاس من قُثَم، ما استَحيَى من عمِّه، قال: قلت: ما فعل قثمُ؟ قال: استُشهِد، قال: قلت: اللهُ ورسولُه أعلمُ بالخِيَرةِ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6411 - صحيح
جعفر بن خالد بن سارہ اپنے والد سے، وہ سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: کاش تم مجھے، عبیداللہ اور قثم کو دیکھتے جب ہم بچے تھے اور کھیل رہے تھے، اسی دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہمارے پاس سے گزر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اٹھا کر میرے پاس لاؤ،“ اور مجھے اپنی سواری پر اپنے سامنے بٹھا لیا، پھر قثم کے متعلق فرمایا: ”اسے بھی اٹھا کر میرے پاس لاؤ،“ اور اسے اپنے پیچھے بٹھا لیا، جبکہ عبیداللہ (اپنے بھائی) قثم کی نسبت سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو زیادہ محبوب تھے، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا سے حیا فرمائی (کہ ان کا ایک ہی بیٹا سواری پر لیا)۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: قثم کا کیا بنا؟ انہوں نے کہا: وہ شہید ہو گئے۔ میں نے کہا: ”اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں کہ کسے کیا خیر عطا فرمانی ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6553]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل خالد بن سارة. وهو مكرر (1394).» [ترقيم الرساله 6553] [ترقيم الشركة 6475] [ترقيم العلميه 6411]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں