المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
890. كفالة النبي لعيال أبي طالب
نبی کریم ﷺ کا ابو طالب کے بچوں کی کفالت کرنا
حدیث نمبر: 6606
أخبرنا أبو محمد الحسنُ بن محمد بن يحيى بن الحسن ابنُ أخي أبي طاهرٍ العَقِيقيّ، حدثني جدِّي يحيى بن الحسن، حدثني عَبْد الله بن عُبيد الله الطَّلْحي، حدثنا أَبي، حدثني يحيى بن محمد بن عبَّاد بن هانئ الشَّجَري، عن محمد بن إسحاق، حدثني ابن أبي نَجِيح، عن مجاهد بن جَبر أبي الحجَّاج: كان من نِعَمِ الله على عليِّ ابن أبي طالب ما صَنَعَ الله له وأرادَه به من الخير؛ أنَّ قريشًا أصابتهم أزمةٌ شديدةٌ، وكان أبو طالب في عِيالٍ كثير، فقال رسول الله ﷺ لعِّمه العبّاس، وكان من أيسَرِ بني هاشم:"يا أبا الفَضْل، إنَّ أخاك أبا طالبٍ كثيرُ العِيَال، وقد أصاب الناسَ ما تَرَى من هذه الأَزْمة، فانطَلِقْ بنا إليه نُخفِّفْ عنه من عيالِه، أَخُذُ من بَنيه رجلًا وتأخذُ أنت رجلًا، فنكفُلُهما عنه" فقال العبّاس: نعم، فانطَلَقا حتى أتَيا أبا طالبٍ فقالا: إنا نريدُ أن نُخفِّفَ عنك من عِيالِك حتى يَنكشِفَ عن الناس ما هم فيه، فقال لهما أبو طالب: إذا تركتُما لي عَقيلًا فاصنَعَا ما شئتُما، فَأَخَذَ رسول الله ﷺ عليًّا فضَمَّه إليه، وأَخَذَ العبّاس جعفرًا فضَمَّه إليه، فلم يَزَلْ عليٌّ مع رسول الله ﷺ حتى بَعَثَه الله نبيًّا فَاتَّبَعَه وصَدَّقه، وأخذ العبّاس جعفرًا، ولم يَزَلْ جعفرٌ مع العباس حتى أسلمَ واستَغْنى عنه (1) .
مجاہد بن جبر ابوالحجاج سے روایت ہے کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ پر اللہ تعالیٰ کے احسانات اور ان کے لیے خیر کے ارادے کی ایک صورت یہ بھی تھی کہ قریش سخت قحط کا شکار ہوئے اور ابوطالب عیال دار (زیادہ بچوں والے) تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا (جو بنو ہاشم میں سب سے زیادہ مالدار تھے): ”اے ابوالفضل! آپ کے بھائی ابوطالب کے اہل و عیال زیادہ ہیں اور لوگوں پر یہ سخت وقت آ پڑا ہے جو آپ دیکھ رہے ہیں، پس آئیے ان کے پاس چلیں اور ان کے عیال کا بوجھ بانٹیں، میں ان کے بیٹوں میں سے ایک کو اپنے پاس رکھ لیتا ہوں اور ایک کو آپ رکھ لیں، ہم ان کی کفالت کر لیں گے۔“ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے حامی بھر لی، وہ دونوں ابوطالب کے پاس آئے اور کہا: ”ہم چاہتے ہیں کہ آپ کے اہل خانہ کا بوجھ ہلکا کریں یہاں تک کہ لوگوں کی یہ مشکل ٹل جائے۔“ ابوطالب نے ان سے کہا: ”اگر تم میرے پاس عقیل کو رہنے دو تو پھر جو چاہو کرو۔“ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اپنے ساتھ ملا لیا اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے جعفر کو اپنے ساتھ لے لیا، پس سیدنا علی رضی اللہ عنہ مسلسل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی بنا کر بھیجا تو انہوں نے آپ کی اتباع اور تصدیق کی، اور سیدنا عباس نے جعفر کو اپنے پاس رکھا اور وہ مسلسل ان کے ساتھ رہے یہاں تک کہ وہ اسلام لائے اور ان سے مستغنی (آزاد) ہو گئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6606]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف يحيى بن محمد بن عباد الشجري، ومَن دونه، إلَّا أنهم توبعوا عن محمد بن إسحاق صاحب السيرة، لكن تبقى علَّة الخبر إرساله، فإنَّ مجاهد بن جبر تابعي ولم يبيّن ممن سمع هذا الخبر.» [ترقيم الرساله 6606] [ترقيم الشركة 6527]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لضعف يحيى بن محمد بن عباد الشجري