المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
901. ذِكْرُ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو الْمُزَنِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا عائذ بن عمرو مزنی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر
حدیث نمبر: 6628
أخبرني أحمد بن يعقوب الثَّقفي، حدثنا موسى بن زكريا، حدثنا خَليفة ابن خيَّاط قال: عائدُ بن عَمرو بن هلال بن عُبيد بن رَوَاحة بن زَبِينةَ (1) بن عَدِيّ بن عامر بن عبد الله بن ثَعلَبة بن هُذْمة بن لاطِم بن عثمان بن عَمْرو، يُكنَى أبا هُبَيرة، مات في إمْرة ابن زياد، وله بالبَصْرة دارٌ مشهورة.
احمد بن یعقوب ثقفی نے ہمیں خبر دی، وہ موسیٰ بن زکریا سے، وہ خلیفہ بن خیاط سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: عائذ بن عمرو بن ہلال بن عبید بن رواحہ بن زبینہ بن عدی بن عامر بن عبداللہ بن ثعلبہ بن ہذمہ بن لاطم بن عثمان بن عمرو، جن کی کنیت ابو ہبیرہ تھی، ان کی وفات ابن زیاد کے دورِ امارت میں ہوئی اور بصرہ میں ان کا ایک مشہور گھر ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6628]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 6628] [ترقيم الشركة 6549]
حدیث نمبر: 6629
حدثنا أبو علي الحسين بن علي الحافظ، أخبرنا عَبْدان الأَهْوازي، حدثنا زيد بن الحَرِيش، حدثنا حَشرَجُ بن عبد الله بن حَشرَج، حدثني أَبي، عن أبيه، عن عائذ بن عَمرو المُزَني قال: أصابني رَمْيَةٌ وأنا أقاتلُ بين يَدَي رسولِ الله ﷺ يومَ حُنَين في وجهي، فلمّا سالتِ الدماءُ على وجهي ولحيتي وصَدْري تَناوَلَ النبيُّ ﷺ فسَلَتَ الدمَ عن وجهي وصدري إلى ثَندُوَتيَّ، ثم دعا لي. قال حَشرجٌ: فكان يخبرنا بذلك عائدٌ في حياته، فلمَّا هَلَكَ وعَسَّلناه نَظَرْنا إلى ما كان يَصِفُ لنا من أثَر يدِ رسول الله ﷺ إلى مُنتَهى ما كان يقولُ لنا من صدرِه، وإذا غُرَّةٌ سائلةُ كغُرَّة الفَرَس (2) . ذكر أَخيه رافع بن عمرو المُزَني ﵁-
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6486 - إسناده فيه مجهولان
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6486 - إسناده فيه مجهولان
سیدنا عائذ بن عمرو مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: غزوہ حنین کے دن جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دشمن سے لڑ رہا تھا تو میرے چہرے پر ایک تیر لگا، جب خون میرے چہرے، داڑھی اور سینے پر بہنے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دستِ مبارک پھیرا اور میرے چہرے اور سینے سے خون پونچھتے ہوئے میرے سینے کے نچلے حصے تک پہنچایا، پھر میرے لیے دعا فرمائی۔ حشرج کہتے ہیں کہ سیدنا عائذ اپنی زندگی میں ہمیں یہ واقعہ سنایا کرتے تھے، پھر جب ان کا انتقال ہوا اور ہم نے انہیں غسل دیا تو ہم نے ان کے جسم کے اس حصے کو دیکھا جس کا وہ ہمیں وصف بتایا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ مبارک کا اثر ان کے سینے کے اس مقام تک موجود تھا جہاں تک وہ ہمیں بتاتے تھے، اور وہاں «غرة» (سفید نشان) اس طرح چمک رہا تھا جیسے گھوڑے کی پیشانی کی سفیدی چمکتی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6629]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لجهالة حشرج بن عبد الله وأبيه وجدّه.» [ترقيم الرساله 6629] [ترقيم الشركة 6550] [ترقيم العلميه 6486]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف