🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

938. ذِكْرُ سَوَادِ بْنِ قَارِبٍ الْأَزْدِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا سواد بن قارب ازدی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6703
حدثنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه إملاءً، حدثنا هلال العلاء بن الرَّقِّي، حدثنا عثمان بن عبد الرحمن الوقَّاصي، عن محمد بن كعب القُرَظي، قال: بَيْنا عمرُ بن الخطاب قاعدٌ في المسجد إذ مرَّ رجلٌ في مُؤخَّر المسجد، فقال رجلٌ: يا أميرَ المؤمنين، أتعرِفُ هذا المارَّ؟ قال: لا، فمن هو؟ قال: سَواد بن قارِب، وهو رجلٌ من أهل اليمن من بيتٍ فيهم شَرَف وموضِعٌ، وهو الذي أتاه رَئيُّه بظهور النبيِّ ﷺ فقال عمر: عليَّ به، فدُعِي به فقال: أنتَ سَوادُ بن قارب؟ قال: نعم، قال: فأنت الذي أتاك رئيُّك بظُهور رسول الله ﷺ؟ قال: نعم، قال: فأنت على ما كنتَ عليه من كِهانتِك (1) ؟ فغضب غضبًا شديدًا، وقال: يا أمير المؤمنين، ما استقبلني بهذا أحدٌ منذ أسلمتُ، فقال عمر: يا سبحانَ الله! والله ما كنَّا عليه من الشِّرك أعظمُ ممّا كنتَ عليه من كهانتك، أخبرني بإتيانك رَئيُّك بظُهورِ رسول الله ﷺ، قال: نعم يا أميرَ المؤمنين، بَينا أنا ذاتَ ليلة بين النائم واليقظان إذ أتاني رَئِيٌّ فضربني برجله، وقال قُمْ يا سَوادَ بنَ قاربٍ، فافهَمْ واعقِلْ إن كنتَ تعقِلُ، إنه قد بُعِث رسولُ الله ﷺ من لُؤي بن غالب يدعو إلى الله وإلى عبادتِه، ثم أنشأَ يقول: عَجبتُ للجِنِّ وتَجْساسِها … وشَدِّها العِيسَ بأحلاسِها تَهوِي إلى مكةَ تَبْغي الهُدَى … ما خَيِّرُ الجنِّ كأنجاسِها فارحَلْ إلى الصَّفْوة من هاشمٍ … واسمُ بعَيَنيْكَ إلى راسِها قال: فلم أرفَعْ بقوله رأسًا، وقلتُ: دعني أنَمْ، فإني أمسيتُ ناعسًا، فلما أن كانت الليلةُ الثانية أتاني فضربَني برجلِه، وقال: ألم أقُلْ لك يا سوادَ بنَ قارب: قُمْ فافهَمْ واعقِلْ إن كنتَ تعقلُ؟! قد بُعِثَ رسولٌ من لُؤَي بن غالب، يدعو إلى الله وإلى عبادتِه، ثم أنشأ الجنِّيُّ يقول: عَجبتُ للجِنِّ وتَطْلابِها (2) … وشَدِّها العِيسَ بأقْتابِها تَهوْي إلى مكةَ تَبْغي الهُدى … ما صادقُ (1) الجنِّ ككَذَّابِها فارحَلْ إلى الصَّفوةِ من هاشمٍ … بينَ زَواياها وحُجَّابِها قال: فلم أرفَعْ بقوله رأسًا، فلما أن كان الليلةُ الثالثة أتاني فضربَني برجلِه، وقال: ألم أقلُ لك يا سوادَ بنَ قارب: افهَمْ واعقِلْ إن كنتَ تَعقِل (2) ؟! أنه قد بُعث رسولُ الله من لؤي بن غالب، يدعو إلى الله وإلى عبادتِه، ثم أنشأَ يقول: عجبتُ للجِنِّ وأخبارِها … وشدِّها العِيسَ بأكْوارِها تَهوِي إلى مكةَ تَبْغي الهُدَى … ما مُؤمنو الجنِّ ككفَّارِها فارحَلْ إلى الصَّفوةِ من هاشمٍ … ليس قُدَامَاها كأدبارِها قال: فوقع في نفسي حبُّ الإسلام ورغبتُ فيه، فلما أصبحتُ شَدَدتُ على راحلتي فانطلقت متوجهًا إلى مكة، فلما كنتُ في بعض الطريق أُخبرتُ أنَّ النبيَّ ﷺ قد هاجر إلى المدينة، فأتيتُ المدينة فسألتُ عن النبيِّ ﷺ، فقيل لي: في المسجد، فانتهيتُ إلى المسجد، فعَقَلتُ ناقتي ودخلتُ، وإذا رسولُ الله ﷺ والناسُ حولَه، فقلتُ: اسمع مَقَالتي يا رسولَ الله، فقال أبو بكر: ادُنْه، فلم يَزَلْ حتى صِرتُ بين يديه، قال:"هاتِ، فأخبِرْني بإتيانِك رَئيُّك" فقلتُ: أتاني نَجِيِّي (3) بعد هَدْءٍ ورَقْدةٍ … ولم يكُ فيما قد بَلَوتُ بكاذبِ ثلاثَ ليالٍ قولُه كلَّ ليلةٍ … أتاك رسولٌ من لؤيِّ بن غالبِ فشمَّرتُ من ذَيلي الإزارَ ووسَّطَتْ … بِيَ الذَّعَلِبُ الوَجْناءُ بينَ السَّباسبِ فأشهدُ أنَّ الله لا ربَّ غيرُهُ … وأنَّك مأمونٌ على كلِّ غائبِ وأنَّك أدنَى المُرسلينَ وَسيلةً … إلى الله يا ابنَ الأكرمينَ الأطايبِ فمُرْنا بما يأتيك يا خيرَ مَن مَشَى … وإن كان فيما جاءَ شَيْبُ الذُّوائبِ وكنْ لي شفيعًا يومَ لا ذو (1) شَفاعةٍ … سِواكَ بِمُعْن عن سَوَادِ بنِ قاربِ ففَرِحَ رسولُ الله وأصحابُه بإسلامي فرحًا شديدًا حتى رُئِيَ في وجوههِم، قال: فوَثَبَ عمرُ فالتزمه، وقال: قد كنتُ أُحِبُّ أن أسمعَ هذا منك (2) ذكرُ سَلْمان بن عامر الضَّبيِّ ﵁-
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6558 - الإسناد منقطع
محمد بن کعب قرظی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک مرتبہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں مسجد کے پچھلے حصے سے ایک شخص گزرا، تو ایک آدمی نے کہا: اے امیر المومنین! کیا آپ اس گزرنے والے کو جانتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: نہیں، یہ کون ہے؟ اس نے عرض کی: یہ سواد بن قارب ہیں، یہ اہل یمن کے ایک معزز اور بلند مرتبہ گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اور یہ وہی شخص ہیں جن کے پاس ان کے رئی (خبر لانے والے ہمراز جن) نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کی خبر پہنچائی تھی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اسے میرے پاس بلا لاؤ، چنانچہ انہیں بلایا گیا تو آپ نے پوچھا: کیا تم سواد بن قارب ہو؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ نے پوچھا: کیا تم وہی ہو جس کے پاس تمہارے ہمراز جن نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبعوث ہونے کی خبر پہنچائی تھی؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ نے پوچھا: کیا تم اب بھی اپنی اسی پرانی کہانت (نجوم و غیب گوئی) پر قائم ہو؟ اس پر وہ سخت غصہ ہوئے اور کہا: اے امیر المومنین! جب سے میں اسلام لایا ہوں مجھ سے کسی نے اس طرح بات نہیں کی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سبحان اللہ! اللہ کی قسم ہم جس شرک پر قائم تھے وہ تمہاری کہانت سے کہیں زیادہ سنگین تھا، (خیر غصہ تھوکیں اور) مجھے یہ بتائیں کہ تمہارے پاس تمہارے جن نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کی خبر کیسے پہنچائی تھی؟ انہوں نے کہا: جی ہاں اے امیر المومنین (سنئے!) ایک رات میں نیند اور بیداری کی درمیانی حالت میں تھا کہ میرا وہ ہمراز جن میرے پاس آیا اور مجھے اپنے پاؤں سے ٹھوکر مار کر کہا: اے سواد بن قارب! اٹھو اور سمجھو اگر تم سمجھ رکھتے ہو، بیشک لؤی بن غالب (قریش) کی اولاد میں سے اللہ کے رسول مبعوث ہو چکے ہیں جو اللہ کی طرف اور اس کی عبادت کی طرف بلاتے ہیں، پھر اس جن نے یہ اشعار پڑھے: مجھے جنوں اور ان کی جستجو پر تعجب ہوا، اور اس بات پر کہ انہوں نے اپنے اونٹوں پر کجاوے کس لیے باندھ رکھے ہیں، وہ ہدایت کی تلاش میں مکہ کی طرف لپک رہے ہیں، کیونکہ جنوں کے بہترین افراد ان کے ناپاک افراد جیسے نہیں ہوتے، پس تم بھی ہاشم کے برگزیدہ فرد کی طرف کوچ کرو اور اپنی آنکھوں سے ان کی عظمت کا مشاہدہ کرو۔ سواد کہتے ہیں: میں نے اس کی بات کی طرف کوئی توجہ نہ دی اور کہا: مجھے سونے دو کیونکہ میں تھکا ہوا ہوں، جب دوسری رات آئی تو وہ پھر آیا اور مجھے پاؤں سے ٹھوکر مار کر کہا: اے سواد بن قارب! کیا میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ اٹھو اور سمجھو اگر تم عقل رکھتے ہو؟ لؤی بن غالب کی اولاد میں سے ایک رسول مبعوث ہو چکے ہیں جو اللہ اور اس کی عبادت کی طرف بلاتے ہیں، پھر اس جن نے یہ اشعار پڑھے: مجھے جنوں اور ان کی طلب پر تعجب ہوا، اور اس بات پر کہ انہوں نے اپنے اونٹوں پر پالان کس لیے باندھ رکھے ہیں، وہ ہدایت کی تلاش میں مکہ کی طرف لپک رہے ہیں، کیونکہ جنوں کے سچے افراد ان کے جھوٹے افراد جیسے نہیں ہوتے، پس تم بھی ہاشم کے برگزیدہ فرد کی طرف کوچ کرو جو ان کی مخصوص جگہوں اور پردہ داروں کے درمیان (موجود) ہیں۔ سواد کہتے ہیں: میں نے اس بار بھی کوئی توجہ نہ دی، جب تیسری رات آئی تو وہ پھر آیا اور مجھے ٹھوکر مار کر کہا: اے سواد بن قارب! کیا میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ سمجھو اور عقل سے کام لو اگر تم عقل رکھتے ہو؟ لؤی بن غالب کی اولاد میں سے اللہ کے رسول مبعوث ہو چکے ہیں جو اللہ اور اس کی عبادت کی طرف بلاتے ہیں، پھر اس جن نے یہ اشعار پڑھے: مجھے جنوں اور ان کی خبروں پر تعجب ہوا، اور اس بات پر کہ انہوں نے اپنے اونٹوں پر کجاوے کس لیے تیار کر رکھے ہیں، وہ ہدایت کی تلاش میں مکہ کی طرف لپک رہے ہیں، کیونکہ جنوں کے مومن ان کے کافروں جیسے نہیں ہوتے، پس تم ہاشم کے برگزیدہ فرد کی طرف کوچ کرو جن کا ہر رخ (ظاہر و باطن) یکساں عظمت والا ہے۔ سواد کہتے ہیں: (یہ سن کر) میرے دل میں اسلام کی محبت اور رغبت پیدا ہو گئی، جب صبح ہوئی تو میں نے اپنی سواری تیار کی اور مکہ کی طرف روانہ ہو گیا، راستے میں مجھے خبر ملی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ ہجرت کر چکے ہیں، چنانچہ میں مدینہ آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں دریافت کیا تو بتایا گیا کہ آپ مسجد میں ہیں، میں مسجد پہنچا، اپنی اونٹنی کو باندھا اور اندر داخل ہوا تو دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہیں اور لوگ آپ کے گرد جمع ہیں، میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میری بات سماعت فرمائیں، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ان کے قریب ہو جاؤ، چنانچہ میں قریب ہوتا گیا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بتاؤ! تمہارے ہمراز جن نے تمہارے پاس آ کر تمہیں کیا خبر دی تھی؟ میں نے عرض کی: (اے اللہ کے رسول!) رات کے اندھیرے اور نیند کے سکون میں میرا ہمراز میرے پاس آیا، اور میرا تجربہ ہے کہ وہ اپنی بات میں کبھی جھوٹا نہیں رہا، اس نے تین راتیں مسلسل مجھ سے یہی کہا کہ لؤی بن غالب کی اولاد میں سے تمہارے پاس ایک رسول آ چکا ہے، (یہ سنتے ہی) میں نے اپنا تہبند سمیٹا اور میری تیز رفتار اونٹنی مجھے ریگزاروں اور میدانوں کے درمیان سے لے کر آپ کی طرف چل پڑی، پس میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی رب نہیں، اور آپ ہر غیب کی خبر پر امانت دار ہیں، اور اے معزز اور پاکیزہ باپ دادا کی اولاد! آپ اللہ کی طرف وسیلہ بننے میں تمام رسولوں سے زیادہ قریب ہیں، پس جو وحی آپ کے پاس آتی ہے ہمیں اس کا حکم دیں اے بہترین انسان! خواہ اس حکم کی تعمیل میں بالوں کی لٹیں ہی کیوں نہ سفید ہو جائیں (یعنی کتنی ہی مشقت کیوں نہ ہو)، اور آپ اس دن میرے سفارشی بن جائیے گا جس دن آپ کے سوا کوئی دوسرا سفارشی سواد بن قارب کے کام نہ آ سکے گا۔ (سواد کہتے ہیں:) میرے اسلام لانے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ اس قدر خوش ہوئے کہ ان کی خوشی ان کے چہروں سے عیاں تھی، راوی کہتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فوراً اٹھے اور انہیں گلے لگا لیا اور فرمایا: میں بہت چاہتا تھا کہ یہ واقعہ خود تمہاری زبان سے سنوں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6703]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًا،عثمان بن عبد الرحمن الوقاصي متروك الحديث. وأعلَّه الذهبي في "التلخيص" بالانقطاع، يعني أنَّ محمدًا القرظي روايته عن عمر مرسلة.» [ترقيم الرساله 6703] [ترقيم الشركة 6623] [ترقيم العلميه 6558]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں