🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

939. ذِكْرُ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا سلمان بن عامر ضبی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6703
حدثنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه إملاءً، حدثنا هلال العلاء بن الرَّقِّي، حدثنا عثمان بن عبد الرحمن الوقَّاصي، عن محمد بن كعب القُرَظي، قال: بَيْنا عمرُ بن الخطاب قاعدٌ في المسجد إذ مرَّ رجلٌ في مُؤخَّر المسجد، فقال رجلٌ: يا أميرَ المؤمنين، أتعرِفُ هذا المارَّ؟ قال: لا، فمن هو؟ قال: سَواد بن قارِب، وهو رجلٌ من أهل اليمن من بيتٍ فيهم شَرَف وموضِعٌ، وهو الذي أتاه رَئيُّه بظهور النبيِّ ﷺ فقال عمر: عليَّ به، فدُعِي به فقال: أنتَ سَوادُ بن قارب؟ قال: نعم، قال: فأنت الذي أتاك رئيُّك بظُهور رسول الله ﷺ؟ قال: نعم، قال: فأنت على ما كنتَ عليه من كِهانتِك (1) ؟ فغضب غضبًا شديدًا، وقال: يا أمير المؤمنين، ما استقبلني بهذا أحدٌ منذ أسلمتُ، فقال عمر: يا سبحانَ الله! والله ما كنَّا عليه من الشِّرك أعظمُ ممّا كنتَ عليه من كهانتك، أخبرني بإتيانك رَئيُّك بظُهورِ رسول الله ﷺ، قال: نعم يا أميرَ المؤمنين، بَينا أنا ذاتَ ليلة بين النائم واليقظان إذ أتاني رَئِيٌّ فضربني برجله، وقال قُمْ يا سَوادَ بنَ قاربٍ، فافهَمْ واعقِلْ إن كنتَ تعقِلُ، إنه قد بُعِث رسولُ الله ﷺ من لُؤي بن غالب يدعو إلى الله وإلى عبادتِه، ثم أنشأَ يقول: عَجبتُ للجِنِّ وتَجْساسِها … وشَدِّها العِيسَ بأحلاسِها تَهوِي إلى مكةَ تَبْغي الهُدَى … ما خَيِّرُ الجنِّ كأنجاسِها فارحَلْ إلى الصَّفْوة من هاشمٍ … واسمُ بعَيَنيْكَ إلى راسِها قال: فلم أرفَعْ بقوله رأسًا، وقلتُ: دعني أنَمْ، فإني أمسيتُ ناعسًا، فلما أن كانت الليلةُ الثانية أتاني فضربَني برجلِه، وقال: ألم أقُلْ لك يا سوادَ بنَ قارب: قُمْ فافهَمْ واعقِلْ إن كنتَ تعقلُ؟! قد بُعِثَ رسولٌ من لُؤَي بن غالب، يدعو إلى الله وإلى عبادتِه، ثم أنشأ الجنِّيُّ يقول: عَجبتُ للجِنِّ وتَطْلابِها (2) … وشَدِّها العِيسَ بأقْتابِها تَهوْي إلى مكةَ تَبْغي الهُدى … ما صادقُ (1) الجنِّ ككَذَّابِها فارحَلْ إلى الصَّفوةِ من هاشمٍ … بينَ زَواياها وحُجَّابِها قال: فلم أرفَعْ بقوله رأسًا، فلما أن كان الليلةُ الثالثة أتاني فضربَني برجلِه، وقال: ألم أقلُ لك يا سوادَ بنَ قارب: افهَمْ واعقِلْ إن كنتَ تَعقِل (2) ؟! أنه قد بُعث رسولُ الله من لؤي بن غالب، يدعو إلى الله وإلى عبادتِه، ثم أنشأَ يقول: عجبتُ للجِنِّ وأخبارِها … وشدِّها العِيسَ بأكْوارِها تَهوِي إلى مكةَ تَبْغي الهُدَى … ما مُؤمنو الجنِّ ككفَّارِها فارحَلْ إلى الصَّفوةِ من هاشمٍ … ليس قُدَامَاها كأدبارِها قال: فوقع في نفسي حبُّ الإسلام ورغبتُ فيه، فلما أصبحتُ شَدَدتُ على راحلتي فانطلقت متوجهًا إلى مكة، فلما كنتُ في بعض الطريق أُخبرتُ أنَّ النبيَّ ﷺ قد هاجر إلى المدينة، فأتيتُ المدينة فسألتُ عن النبيِّ ﷺ، فقيل لي: في المسجد، فانتهيتُ إلى المسجد، فعَقَلتُ ناقتي ودخلتُ، وإذا رسولُ الله ﷺ والناسُ حولَه، فقلتُ: اسمع مَقَالتي يا رسولَ الله، فقال أبو بكر: ادُنْه، فلم يَزَلْ حتى صِرتُ بين يديه، قال:"هاتِ، فأخبِرْني بإتيانِك رَئيُّك" فقلتُ: أتاني نَجِيِّي (3) بعد هَدْءٍ ورَقْدةٍ … ولم يكُ فيما قد بَلَوتُ بكاذبِ ثلاثَ ليالٍ قولُه كلَّ ليلةٍ … أتاك رسولٌ من لؤيِّ بن غالبِ فشمَّرتُ من ذَيلي الإزارَ ووسَّطَتْ … بِيَ الذَّعَلِبُ الوَجْناءُ بينَ السَّباسبِ فأشهدُ أنَّ الله لا ربَّ غيرُهُ … وأنَّك مأمونٌ على كلِّ غائبِ وأنَّك أدنَى المُرسلينَ وَسيلةً … إلى الله يا ابنَ الأكرمينَ الأطايبِ فمُرْنا بما يأتيك يا خيرَ مَن مَشَى … وإن كان فيما جاءَ شَيْبُ الذُّوائبِ وكنْ لي شفيعًا يومَ لا ذو (1) شَفاعةٍ … سِواكَ بِمُعْن عن سَوَادِ بنِ قاربِ ففَرِحَ رسولُ الله وأصحابُه بإسلامي فرحًا شديدًا حتى رُئِيَ في وجوههِم، قال: فوَثَبَ عمرُ فالتزمه، وقال: قد كنتُ أُحِبُّ أن أسمعَ هذا منك (2) ذكرُ سَلْمان بن عامر الضَّبيِّ ﵁-
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6558 - الإسناد منقطع
محمد بن کعب قرظی فرماتے ہیں: ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے، ایک آدمی مسجد کے دوسری جانب سے گزرا، ایک آدمی نے کہا: اے امیرالمومنین! آپ اس گزرنے والے کو پہچانتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: نہیں۔ یہ کون ہے؟ اس آدمی نے کہا: یہ سواد بن قارب ہے۔ یہ یمنی باشندہ ہے، یہ اپنے علاقے کے معزز خاندان کا آدمی ہے، اس شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کی پیشین گوئی کی تھی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس کو میرے پاس بلا کر لاؤ، اس آدمی کو بلایا گیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا: کیا تم سواد بن قارب ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: کیا تمہی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کی پیشین گوئی کی تھی؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: تم آج تک اسی کہانت پر قائم ہو، جس پر پہلے تھے، پھر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اس پر بہت سخت غصہ ہوئے، اس نے کہا: اے امیرالمومنین! میں جب سے اسلام لایا ہوں مجھے اس طرح کسی نے سمجھایا ہی نہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سبحان اللہ! تم تو کاہن تھے، ہم اسلام لانے سے پہلے تم سے بھی بڑے گناہ شرک میں مبتلا تھے۔ تم مجھے اپنی اس پیشین گوئی کا واقعہ سناؤ جو تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں دی تھی۔ وہ کہنے لگا: اے امیرالمومنین! ایک مرتبہ رات کے وقت میں نیند اور بیداری کی کشمکش میں تھا، ایک ناصح آیا اس نے اپنا پاؤں مجھے مار کر کہا: اے سواد بن قارب اگر تم عقل مند ہو تو خوب جان لو اور سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ کا رسول لؤی بن غالب کے قبیلے میں ظاہر ہو چکا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی طرف اور اس کی عبادت کی طرف دعوت دیتا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے درج ذیل اشعار پڑھے۔ میں نے اس کی بات پر کان نہ دھرا، سر اوپر اٹھائے بغیر کہا کہ مجھے میرے حال پر چھوڑ دو، کیونکہ مجھے شام سے ہی بہت نیند آ رہی ہے، اگلی رات پھر یہی واقعہ ہوا، وہ آیا، اپنا پاؤں مار کر مجھے جگایا اور کہا: اے سواد! میں نے تمہیں کہا نہیں تھا کہ اٹھ جا اور اگر تجھے کچھ عقل ہے تو خوب سمجھ لے کہ لؤی بن غالب میں اللہ کا رسول ظاہر ہو چکا ہے وہ اللہ تعالیٰ اور اس کی عبادت کی دعوت دیتا ہے، اس کے بعد اس جن نے وہی کل والے اشعار دوبارہ پڑھے۔ آپ فرماتے ہیں: میں نے اس مرتبہ اس کو کوئی جواب نہ دیا، وہ تیسری رات پھر آ گیا، پاؤں مار کر مجھے جگایا اور بولا: اے سواد! میں نے تجھے کہا نہیں تھا کہ اگر تجھے کچھ عقل اور سمجھ ہے تو خوب جان لے کہ لؤی بن غالب میں اللہ کا نبی ظاہر ہو چکا ہے وہ اللہ تعالیٰ اور اس کی عبادت کی دعوت دیتا ہے، اس کے بعد اس نے یہ اشعار کہے: اس کے بعد میرے دل میں اسلام کی محبت اور دلچسپی پیدا ہو گئی، صبح ہوتے ہی میں نے سواری تیار کی اور مکہ مکرمہ کی جانب روانہ ہو گیا، ابھی میں مکہ کے راستے ہی میں تھا کہ مجھے اطلاع ملی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کی جانب ہجرت کر گئے ہیں، چنانچہ میں بھی (مکہ کی بجائے) مدینہ شریف پہنچ گیا، میں نے وہاں پہنچ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں دریافت کیا تو مجھے بتایا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما ہیں، میں مسجد میں چلا گیا، میں نے مسجد سے باہر اپنی اونٹنی باندھی اور اندر آ گیا، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد بیٹھے تھے۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری بات سنیے، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مجھے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہو جاؤ، میں قریب ہوتے ہوتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بالکل سامنے پہنچ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے نصیحت گر کا واقعہ سناؤ، تب انہوں نے یہ اشعار کہے: * میری آنکھ لگنے کے بعد ایک سرگوشی کرنے والا میرے پاس آیا اور میں نے جو یہ سب کچھ دیکھا تھا اس میں کچھ بھی جھوٹ نہیں تھا۔ * وہ تین راتیں مسلسل میرے پاس آ کر کہتا رہا کہ تمہارا رسول لؤی بن غالب میں ظاہر ہو چکا ہے۔ * میں نے آنے کی تیاری کر لی اور تیز رفتار اونٹنی دشت و بیابان عبور کرتے ہوئے چلنے لگی۔ * میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور بے شک آپ ہر غالب سے محفوظ ہیں۔ * اے باعزت اور شریف لوگوں کے بیٹے، بیشک آپ کا مرتبہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تمام رسولوں میں اعلیٰ ہے۔ * اے کائنات کے بہترین شخص، آپ جو پیغام لائے ہیں وہ ہمیں دیجئے، (ہم اس پر عمل کریں گے) اگرچہ اس میں ہماری زندگیاں صرف ہو جائیں۔ * اور جس دن کسی کی شفاعت نہیں چلے گی، اس دن آپ میری شفاعت کرنا اور سواد بن قارب کو اپنے دامن رحمت میں چھپا لینا۔ میرے اسلام لانے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بہت خوش ہوئے، خوشی کے آثار ان سب کے چہروں پر واضح دکھائی دے رہے تھے، سیدنا عمر اچھل کر مجھ سے چپک گئے اور کہنے لگے: میں یہ باتیں تمہاری زبان سے سننا چاہتا تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6703]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6704
أخبرني أحمد بن يعقوب، حدثنا موسى بن زكريا، حدثنا خليفة بن خيَّاط، قال: سلمان بن عامر بن أوس بن حُجْر بن عمرو بن الحارث بن تَيْم بن ذُهْل بن مالك بن بكر بن سعد بن ضَبَّة، نزل البصرة، وله دارٌ حضرةَ الجامع، وبها تُوفِّي في خلافة عثمان.
خلیفہ بن خیاط نے ان کا نسب یوں بیان کیا ہے سلمان بن عامر بن اوس بن عمرو بن حجر بن عمرو بن حارث بن تیم بن ذہل بن مالک بن بکر بن سعد بن ضبہ ۔ آپ بصرہ میں مقیم رہے، جامع مسجد کے سامنے ان کا ایک گھر بھی تھا، سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی خلافت میں ان کا انتقال ہوا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6704]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں