🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1006. ثُبُوتُ الْخِلَافَةِ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا
سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کی خلافت کے ثابت ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6848
حَدَّثَنَا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا أحمد بن عبد الجبَّار، حَدَّثَنَا يونس بن بُكير، عن ابن إسحاق، حدثني الزُّهْري، حدثني عبد الملك بن أبي بكر ابن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام، عن أبيه، عن عبد الله بن زَمْعة بن الأسود بن المطَّلب بن أسد قال: لما استُعِزَّ (1) برسولِ الله ﷺ، وأنا عنده في نَفَرٍ من المسلمين دعا بلالٌ إلى الصلاة، فقال:"مُرُوا مَن يُصلِّي بالناس"، فخرجتُ فإذا عمرُ في الناس، وكان أبو بكر غائبًا، فقلتُ: يا عمر، قُمْ فصلِّ بالناس، فقام فلمَّا كَبَّر سَمِعَ رسولُ الله ﷺ، صوتَه، وكان عمر رجلًا جَهيرًا، فقال رسول الله ﷺ:"فأين أبو بكر؟ يَأبى اللهُ والمسلمون ذلك". فبعث إلى أبي بكر، فجاء بعد أن صلَّى عمرُ تلك الصلاةَ، فصلَّى بالناس. قال عبد الله بن زَمْعة: فقال عمرُ: وَيْحَكَ ماذا صنعتَ بي يا ابنَ زَمْعة؟ واللهِ ما ظننتُ حين أمرتَني إلَّا أنَّ رسولَ الله ﷺ أمرَكَ بذلك، ولولا ذلك ما صليتُ بالناس، قلتُ: والله ما أمرَني رسولُ الله ﷺ، ولكن حين لم أرَ أبا بكرٍ، رأيتُك أحقَّ من حضرَ بالصلاة بالناس (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. ذكرُ أبي أُمامة الباهلي ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6703 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ بن زمعہ بن اسود بن مطلب بن اسد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکلیف (مرض الوفات میں) بڑھ گئی اور میں مسلمانوں کی ایک جماعت کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، تو بلال رضی اللہ عنہ نے نماز کی اذان دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی کو کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے۔ میں باہر نکلا تو وہاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ موجود تھے جبکہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ (اس وقت وہاں) موجود نہ تھے، میں نے کہا: اے عمر! کھڑے ہوں اور لوگوں کو نماز پڑھائیں، وہ کھڑے ہوئے اور جب انہوں نے تکبیر کہی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آواز سن لی کیونکہ حضرت عمر بلند آواز والے شخص تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر کہاں ہیں؟ اللہ اور مسلمان اس (صورتحال) کو پسند نہیں کرتے۔ پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا گیا اور وہ اس وقت تشریف لائے جب حضرت عمر وہ نماز پڑھا چکے تھے، چنانچہ پھر انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ عبداللہ بن زمعہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: تمہارا برا ہو! اے ابن زمعہ، تم نے میرے ساتھ کیا کیا؟ اللہ کی قسم! جب تم نے مجھے (نماز پڑھانے کا) کہا تھا تو میرا یہی گمان تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں اس کا حکم دیا ہے، اگر یہ خیال نہ ہوتا تو میں ہرگز نماز نہ پڑھاتا، میں نے جواب دیا: اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کا حکم نہیں دیا تھا، لیکن جب میں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو وہاں نہیں پایا تو حاضرین میں آپ کو نماز پڑھانے کا سب سے زیادہ حقدار سمجھا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6848]
تخریج الحدیث: «ضعيف بهذا السياق، وهذا إسناد رجاله لا بأس بهم، لكن الراجح أن ابن إسحاق - وهو محمد بن إسحاق بن يسار - لم يسمعه من الزهري كما هو مبيَّن في التعليق على "مسند أحمد" و"سنن أبي داود".» [ترقيم الرساله 6848] [ترقيم الشركة 6768] [ترقيم العلميه 6703]

الحكم على الحديث: ضعيف بهذا السياق
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں