المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1008. قِصَّةٌ عَجِيبَةٌ لِأَبِي أُمَامَةَ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ کا ایک عجیب واقعہ
حدیث نمبر: 6850
حَدَّثَنَا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حَدَّثَنَا عبد الله أحمد بن بن حنبل، حدثني عبد الله بن سَلَمة بن عيّاش العامري، حَدَّثَنَا صَدَقة بن هُرمُز (2) القَسمَلي، عن أبي غالب، عن أبي أُمامة قال: بعثني رسولُ الله ﷺ إلى قومي أدعوهم إلى الله ﵎، وأَعرِضُ عليهم شرائعَ الإسلام، فأتيتُهم وقد سَقَوا إبلَهم وأحلَبُوها، وشَرِبوا، فلما رأَوني قالوا مرحبًا بالصُّدَي بن عَجْلان، ثم قالوا: بَلَغَنا أنك صَبَوتَ إلى هذا الرجل، قلتُ: لا، ولكن آمنتُ بالله وبرسولِه، وبعثني رسولُ الله ﷺ إليكم أعرِضُ عليكم الإسلامَ وشرائعَه، فبينا نحن كذلك إذ جاؤوا بقَصْعة دمٍ فوضعوها واجتمعوا عليها يأكلونها، فقالوا: هَلُمَّ يا صُدَي، فقلتُ: ويَحَكم، إنما أتيتُكم من عند من يُحرِّمُ هذا عليكم بما أنزله اللهُ عليه، قالوا: وما ذاك؟ قلتُ: نزلت عليه هذه الآية: ﴿حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الخِنزِيرِ﴾ إلى قوله: ﴿إِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ﴾ [المائدة: 3] ، فجعلتُ أدعوهم إلى الإسلام ويأبَونَ، فقلتُ لهم: وَيحَكم ايتُوني بشيءٍ من ماء فإنِّي شديدُ العطش، قالوا: لا، ولكن ندعُكَ تموتُ عطشًا، قال: فاعتممتُ وضربتُ رأسي في العِمامة ونمتُ في الرَّمضاء في حرٍّ شديد، فأتاني آتٍ في منامي بقَدَحِ زجاجٍ لم يَرَ الناسُ أحسنَ منه، وفيه شرابٌ لم يَرَ الناسُ ألذَّ منه، فأمكنني منها، فشربتُها، فحيث فرغتُ من شرابي استيقظتُ، ولا والله ما عطشتُ ولا عرفتُ عطشًا بعد تلك الشَّربة، فسمعتُهم يقولون: أتاكم رجلٌ من سَرَاة قومِكم فلم تَمجَعُوه بمَذْقة! فأَتوني بمُذَيقَتِهم (1) ، فقلتُ: لا حاجةَ لي فيها، إنَّ الله ﵎ أطعَمَني وسقاني، فأريتُهم بَطْني، فأسلموا عن آخرِهم (2) . ذكرُ معاوية بن حَيْدة القُشيري ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6705 - صدقة بن هرمز ضعفه ابن معين
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6705 - صدقة بن هرمز ضعفه ابن معين
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے میری قوم کی طرف بھیجا تاکہ میں انہیں اللہ عزوجل کی طرف بلاؤں اور ان کے سامنے اسلام کے قوانین پیش کروں، چنانچہ میں ان کے پاس ایسے وقت پہنچا جب وہ اپنے اونٹوں کو پانی پلا کر ان کا دودھ نکال چکے تھے اور خود بھی پی چکے تھے، جب انہوں نے مجھے دیکھا تو کہا: صدی بن عجلان کو خوش آمدید، پھر کہنے لگے: ہمیں معلوم ہوا ہے کہ تم اس شخص (محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) کے دین میں شامل ہو گئے ہو، میں نے کہا: نہیں، بلکہ میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لایا ہوں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تمہاری طرف بھیجا ہے تاکہ میں تمہارے سامنے اسلام اور اس کے قوانین پیش کروں، ہم اسی گفتگو میں تھے کہ وہ خون سے بھرا ہوا ایک پیالہ لے کر آئے اور اسے رکھ کر سب اس کے گرد کھانے کے لیے جمع ہو گئے، انہوں نے کہا: اے صدی! تم بھی آؤ، میں نے کہا: تم پر افسوس ہے، میں تمہارے پاس اس ہستی کی طرف سے آیا ہوں جس نے اللہ کے نازل کردہ احکام کے ذریعے تم پر یہ سب حرام کر دیا ہے، انہوں نے پوچھا: وہ کیا ہے؟ میں نے کہا: ان پر یہ آیت نازل ہوئی ہے: ﴿حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنزِيرِ﴾ ”تم پر مردار، خون اور سور کا گوشت حرام کر دیا گیا ہے“ [سورة المائدة: 3] ، پھر میں انہیں اسلام کی دعوت دینے لگا مگر وہ انکار کرتے رہے، آخر میں نے ان سے کہا: تم پر افسوس ہے، مجھے تھوڑا پانی دے دو کیونکہ مجھے شدید پیاس لگی ہے، انہوں نے کہا: نہیں، بلکہ ہم تمہیں پیاس سے مرنے دیں گے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنا عمامہ درست کیا، سر کو عمامے میں ڈھانپ کر سخت گرمی میں تپتی ہوئی زمین پر سو گیا، خواب میں میرے پاس ایک آنے والا شیشے کا ایک ایسا پیالہ لایا جس سے خوبصورت پیالہ لوگوں نے نہیں دیکھا ہو گا، اس میں ایسا مشروب تھا جس سے لذیذ مشروب لوگوں نے کبھی نہیں چکھا ہو گا، اس نے وہ پیالہ مجھے پکڑا دیا اور میں نے اسے پی لیا، جیسے ہی میں پی کر فارغ ہوا تو میری آنکھ کھل گئی، اللہ کی قسم! اس پیالے کے پینے کے بعد سے نہ تو مجھے کبھی پیاس لگی اور نہ ہی میں نے پیاس کی تکلیف محسوس کی، پھر میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا کہ تمہاری قوم کے معزز لوگوں میں سے ایک شخص تمہارے پاس آیا اور تم نے اسے لسی کا ایک گھونٹ تک نہ دیا! پھر وہ میرے پاس تھوڑی سی لسی لے کر آئے تو میں نے کہا: مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں، اللہ عزوجل نے مجھے کھلا بھی دیا ہے اور پلا بھی دیا ہے، پھر میں نے انہیں اپنا (بھرا ہوا) پیٹ دکھایا تو وہ سب کے سب اسلام لے آئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6850]
تخریج الحدیث: «إسناده ليِّن، أبو غالب - وهو البصري صاحب أبي أمامة - مختلف في اسمه، وهو ليّن الحديث، وقد تفرَّد بهذا الخبر. وصدقة بن هرمز نقل ابن أبي حاتم 4/ 431 عن ابن معين تضعيفه، وقد توبع. وعبد الله بن سلمة لم يؤثر توثيقه ولا تجريحه عن أحد، لكن روى عنه ...» [ترقيم الرساله 6850] [ترقيم الشركة 6770] [ترقيم العلميه 6705]
الحكم على الحديث: إسناده ليِّن