المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1009. ذكر معاوية بن حيدة القشيري رضي الله عنه
سیدنا معاویہ بن حیدہ قشیری رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر
حدیث نمبر: 6850
حَدَّثَنَا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حَدَّثَنَا عبد الله أحمد بن بن حنبل، حدثني عبد الله بن سَلَمة بن عيّاش العامري، حَدَّثَنَا صَدَقة بن هُرمُز (2) القَسمَلي، عن أبي غالب، عن أبي أُمامة قال: بعثني رسولُ الله ﷺ إلى قومي أدعوهم إلى الله ﵎، وأَعرِضُ عليهم شرائعَ الإسلام، فأتيتُهم وقد سَقَوا إبلَهم وأحلَبُوها، وشَرِبوا، فلما رأَوني قالوا مرحبًا بالصُّدَي بن عَجْلان، ثم قالوا: بَلَغَنا أنك صَبَوتَ إلى هذا الرجل، قلتُ: لا، ولكن آمنتُ بالله وبرسولِه، وبعثني رسولُ الله ﷺ إليكم أعرِضُ عليكم الإسلامَ وشرائعَه، فبينا نحن كذلك إذ جاؤوا بقَصْعة دمٍ فوضعوها واجتمعوا عليها يأكلونها، فقالوا: هَلُمَّ يا صُدَي، فقلتُ: ويَحَكم، إنما أتيتُكم من عند من يُحرِّمُ هذا عليكم بما أنزله اللهُ عليه، قالوا: وما ذاك؟ قلتُ: نزلت عليه هذه الآية: ﴿حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الخِنزِيرِ﴾ إلى قوله: ﴿إِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ﴾ [المائدة: 3] ، فجعلتُ أدعوهم إلى الإسلام ويأبَونَ، فقلتُ لهم: وَيحَكم ايتُوني بشيءٍ من ماء فإنِّي شديدُ العطش، قالوا: لا، ولكن ندعُكَ تموتُ عطشًا، قال: فاعتممتُ وضربتُ رأسي في العِمامة ونمتُ في الرَّمضاء في حرٍّ شديد، فأتاني آتٍ في منامي بقَدَحِ زجاجٍ لم يَرَ الناسُ أحسنَ منه، وفيه شرابٌ لم يَرَ الناسُ ألذَّ منه، فأمكنني منها، فشربتُها، فحيث فرغتُ من شرابي استيقظتُ، ولا والله ما عطشتُ ولا عرفتُ عطشًا بعد تلك الشَّربة، فسمعتُهم يقولون: أتاكم رجلٌ من سَرَاة قومِكم فلم تَمجَعُوه بمَذْقة! فأَتوني بمُذَيقَتِهم (1) ، فقلتُ: لا حاجةَ لي فيها، إنَّ الله ﵎ أطعَمَني وسقاني، فأريتُهم بَطْني، فأسلموا عن آخرِهم (2) . ذكرُ معاوية بن حَيْدة القُشيري ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6705 - صدقة بن هرمز ضعفه ابن معين
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6705 - صدقة بن هرمز ضعفه ابن معين
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک قوم کی جانب اللہ تعالیٰ کے دین اور شریعت مطہرہ کے احکام کی تبلیغ کے لئے بھیجا، میں ان کے پاس آیا، انہوں نے اپنے اونٹوں کو پانی سے سیراب کیا، ان کا دودھ دوہا اور پیا، جب انہوں نے مجھے دیکھا تو مجھے خوش آمدید کہا، پھر کہنے لگے: ہمیں پتا چلا ہے کہ تم اس آدمی کے پیچھے لگ کر صابی ہو چکے ہو؟ میں نے کہا: نہیں، بلکہ میں تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لایا ہوں۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کا دین اور اس کی شریعت کے احکام سکھانے کے لئے بھیجا ہے، اسی دوران وہ لوگ خون کا بھرا ہوا پیالہ لائے، اور اپنے سامنے رکھ لیا، سب لوگ اس پر جمع ہو گئے اور کھانے لگے۔ انہوں نے مجھے بھی صلح ماری، میں نے کہا: تم ہلاک ہو جاؤ، میں ایسی ہستی کی طرف سے تمہارے پاس آیا ہوں جو خون کو حرام قرار دیتے ہیں اور یہ حکم ان کو اس چیز میں ملا ہے جو ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف اتاری گئی ہے۔ انہوں نے کہا: وہ کیا حکم ہے؟ میں نے کہا: ان پر یہ آیت نازل ہوئی ہے: {حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ وَالْمُنْخَنِقَةُ وَالْمَوْقُوذَةُ وَالْمُتَرَدِّيَةُ وَالنَّطِيحَةُ وَمَا أَكَلَ السَّبُعُ إِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ} [المائدة: 3] ” تم پر حرام ہے مردار اور خون اور سور کا گوشت اور وہ جس کے ذبح میں غیر خدا کا نام پکارا گیا اور وہ جو گلہ گھونٹنے سے مرے اور بے دھار کی چیز سے مارا ہوا اور جو گر کر مرا اور جسے کسی جانور نے سینگ مارا اور جسے کوئی درندہ کھا گیا مگر جنہیں تم ذبح کر لو “ میں ان کو اسلام کی دعوت دینے لگا، لیکن وہ مسلسل انکار کرتے رہے، میں نے ان سے کہا: تمہارے لئے ہلاکت ہو، تم مجھے کوئی پانی وغیرہ پلاؤ، مجھے بہت سخت پیاس لگی ہے، انہوں نے کہا: جی نہیں۔ بلکہ ہم تمہیں چھوڑ دیتے ہیں تو پیاس سے مر جائے گا۔ آپ فرماتے ہیں: میں نے عمامہ باندھا اور اپنا پورا سر عمامے میں چھپا کر سخت گرمی میں دھوپ میں سونے کے لئے لیٹ گیا، خواب میں کوئی شخص آیا، اس کے ہاتھ میں شیشے کا پیالہ تھا، کبھی کسی نے اس سے زیادہ خوبصورت پیالہ نہیں دیکھا ہو گا، اس پیالے میں شربت تھا، کبھی کسی نے اس سے زیادہ لذیذ مشروب نہیں چکھا ہو گا، اس نے وہ پیالہ مجھے دیا، میں نے وہ پی لیا، جب میں پینے سے فارغ ہوا تو میری آنکھ کھل گئی، اللہ کی قسم! اب مجھے ذرا بھی پیاس کا احساس نہیں تھا، اور اس کے بعد کبھی بھی مجھے پیاس نہیں لگی۔ میں نے ان کو باتیں کرتے ہوئے سنا وہ کہہ رہے تھے: تمہارے پاس تمہاری قوم کا ایک مسافر آیا ہے اور تم نے اس کو پینے کے لئے کچھ نہیں دیا، کم از کم اس کو پانی ملا دودھ تو پلا دو، میں نے کہا: مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے، بے شک اللہ تبارک و تعالیٰ نے مجھے کھلا بھی دیا ہے اور پلا بھی دیا ہے، میں نے ان کو اپنا پیٹ دکھایا۔ یہ دیکھتے ہی سب کے سب مسلمان ہو گئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6850]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6850 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) تحرَّف في نسخنا الخطية إلى: هرم، وجاء على الصواب في النسخة المحمودية كما في طبعة الميمان.
📝 نوٹ / توضیح: (2) ہمارے قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "ہرم" بن گیا تھا، جبکہ نسخہ محمودیہ میں یہ درست حالت میں آیا ہے جیسا کہ میمن کی طباعت میں ہے۔
(1) المثبت من (ز)، وفي بقية نسخنا: بمذقتهم. والمَذْقة: الشَّربة من اللبن الممزوج بالماء.
📝 نوٹ / توضیح: (1) یہ متن نسخہ (ز) سے ثابت کیا گیا ہے، جبکہ ہمارے باقی نسخوں میں "بمذقتہم" ہے۔ اور "المَذْقَۃ" اس دودھ کے گھونٹ کو کہتے ہیں جس میں پانی ملا ہوا ہو۔
(2) إسناده ليِّن، أبو غالب - وهو البصري صاحب أبي أمامة - مختلف في اسمه، وهو ليّن الحديث، وقد تفرَّد بهذا الخبر. وصدقة بن هرمز نقل ابن أبي حاتم 4/ 431 عن ابن معين تضعيفه، وقد توبع. وعبد الله بن سلمة لم يؤثر توثيقه ولا تجريحه عن أحد، لكن روى عنه جمع كما في "تلخيص المتشابه" للخطيب 1/ 17، فهو مجهول الحال، وقد توبع.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) اس کی سند کمزور (لین) ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابو غالب - جو کہ بصری اور ابو امامہ کے شاگرد ہیں - ان کے نام میں اختلاف ہے اور وہ "لین الحدیث" (کمزور) ہیں، اور وہ اس خبر میں منفرد ہیں۔ اور صدقہ بن ہرمز کے بارے میں ابن ابی حاتم 4/ 431 نے ابن معین سے ان کی تضعیف نقل کی ہے، البتہ ان کی متابعت کی گئی ہے۔ اور عبد اللہ بن سلمہ کی توثیق یا تجریح کسی سے منقول نہیں، لیکن ان سے ایک جماعت نے روایت کی ہے جیسا کہ خطیب کی "تلخیص المتشابہ" 1/ 17 میں ہے، لہٰذا وہ "مجہول الحال" ہیں، اور ان کی بھی متابعت کی گئی ہے۔
وأخرجه الطبراني في "المعجم الكبير" (8073) عن عبد الله بن أحمد بن حنبل، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبرانی نے "المعجم الکبیر" (8073) میں عبد اللہ بن احمد بن حنبل سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أبو يعلى كما في "المطالب العالية" (4041) - ومن طريقه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 24/ 63 - والروياني في "مسنده" (1184) من طريق عبد الله بن سلمة به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو یعلیٰ نے جیسا کہ "المطالب العالیہ" (4041) میں ہے - اور انہی کے طریق سے ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" 24/ 63 میں - اور رویانی نے اپنی "مسند" (1184) میں عبد اللہ بن سلمہ کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه البيهقي في "دلائل النبوة" 6/ 127 - ومن طريقه ابن عساكر 24/ 63 - 64 - من طريق يونس بن محمد المؤدب، عن صدقة بن هرمز، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "دلائل النبوۃ" 6/ 127 میں - اور انہی کے طریق سے ابن عساکر 24/ 63-64 نے - یونس بن محمد المؤدب کے طریق سے، انہوں نے صدقہ بن ہرمز سے روایت کیا، اسی سند کے ساتھ۔
وأخرجه ابن أبي عاصم في "الآحاد والمثاني" (1234)، والطبراني في "الكبير" (8099)، والبيهقي 6/ 126، وابن عساكر 24/ 62 - 63 و 64 من طريق الحسين بن واقد، والطبراني (8074)، وابن عساكر 24/ 64 - 65 - من طريق بشير بن سريج، كلاهما عن أبي غالب، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی عاصم نے "الآحاد والمثانی" (1234)، طبرانی نے "الکبیر" (8099)، بیہقی 6/ 126، اور ابن عساکر 24/ 62-63 اور 64 نے حسین بن واقد کے طریق سے، اور طبرانی (8074) اور ابن عساکر 24/ 64-65 نے بشیر بن سریج کے طریق سے روایت کیا، یہ دونوں (حسین اور بشیر) ابو غالب سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔
قوله: "تمجعوه": من المَجْع، وهو أكل التمر باللبن وهو أن يحسوَ حسوةً من اللبن ويأكل على إثرها تمرة.
📝 نوٹ / توضیح: قولِ راوی "تمجعوہ": یہ لفظ "مَجْع" سے ماخوذ ہے، جس کا مطلب ہے کھجور کو دودھ کے ساتھ کھانا۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ انسان ایک گھونٹ دودھ پیے اور اس کے فوراً بعد ایک کھجور کھا لے۔