المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1010. ذِكْرُ مَالِكِ بْنِ حَيْدَةَ أَخِي مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
ذِكْرُ مَالِكِ بْنِ حَيْدَةَ أَخِي مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 6853
حَدَّثَنَا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد، حَدَّثَنَا الحسن بن مُكرَم، حَدَّثَنَا يحيى بن حمَّاد، حَدَّثَنَا حماد بن سَلَمة، عن أبي قَزَعة، عن حَكيم بن معاوية بن حَيْدة، عن أبيه: أنه قال لأخيه مالك بن حَيْدة: انطلِقْ بنا إلى رسولِ الله ﷺ فإنه يعرفُك ولا يعرفُني، فقد حبَسَ ناسًا من جِيراني، فأتَيَاه وقال مالك بن حَيْدة: يا رسولَ الله، إني قد أسلمتُ، وأسلمَ جيراني، فخلِّ عنهم، فلم يُجِبْه، ثم أعاد فلم يُجِبْه، فقام متسخِّطًا، فقال: لئن فعلتَ ذاك إنهم يزعمون أنَّك تدعو إلى الأمر وتخالفُ إلى غيره، فجعلتُ أزجرُه وأنهاه، فقال:"ما تقولُ؟" قالوا: إنه يقول: كذا وكذا، فقال:"إن فعلتُ ذاك، فإنَّ ذاك عليَّ، ما عليهم منه شيءٌ، دَعْ له جِيرانَه" (3) . ذكرُ مِخْمَر بن حَيْدة أخيهم (1) الثالث ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6708 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6708 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حکیم بن معاویہ بن حیدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے بھائی مالک بن حیدہ سے کہا: تم ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے چلو کیونکہ وہ تمہیں جانتے ہیں اور مجھے نہیں جانتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے کچھ پڑوسیوں کو (کسی وجہ سے) روک لیا ہے، چنانچہ وہ دونوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مالک بن حیدہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں اسلام لا چکا ہوں اور میرے پڑوسی بھی مسلمان ہو گئے ہیں، لہٰذا انہیں چھوڑ دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جواب نہ دیا، انہوں نے دوبارہ عرض کیا تو بھی جواب نہ ملا، وہ غصے میں کھڑے ہوئے اور کہنے لگے: اگر آپ ایسا کریں گے تو لوگ یہی کہیں گے کہ آپ ایک کام کی دعوت دیتے ہیں اور خود اس کے برعکس کرتے ہیں، (معاویہ کہتے ہیں) میں انہیں ڈانٹنے اور منع کرنے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کیا کہہ رہا ہے؟“ لوگوں نے بتایا کہ وہ اس طرح کی باتیں کر رہا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں نے ایسا کیا تو اس کا وبال مجھ پر ہوگا، ان پر اس سے کوئی اثر نہیں پڑے گا، ان کے پڑوسیوں کو ان کے لیے چھوڑ دو۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6853]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل حكيم بن معاوية. أبو قزعة: هو سويد بن حجير بن بيان الباهلي.» [ترقيم الرساله 6853] [ترقيم الشركة 6773] [ترقيم العلميه 6708]
الحكم على الحديث: إسناده حسن