المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1013. ذِكْرُ الصَّحَابِيَّاتِ مِنْ أَزْوَاجِ رَسُولِ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - وَغَيْرِهِنَّ - رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُنَّ - فَأَوَّلُ مَنْ نَبْدَأُ بِهِنَّ الصِّدِّيقَةُ بِنْتُ الصِّدِّيقِ عَائِشَةُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا -
نبی کریم ﷺ کی ازواج اور دیگر صحابیات رضی اللہ عنہن کے مناقب کا ذکر اور سب سے پہلے صدیق کی بیٹی صدیقہ سیدہ عائشہ بنت ابو بکر رضی اللہ عنہما کا ذکر
حدیث نمبر: 6858
حدَّثَناه أبو النَّضر محمد بن محمد بن يوسف الفقيه، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حَدَّثَنَا أبو عبيد القاسم بن سلّام ﵀ قال: وقد ثبت وصحَّ عندنا أنَّ رسولَ الله ﷺ تزوَّج ثمانيَ عشرةَ امرأةً: سبعٌ منهنَّ من قبائل قريش، وواحدةٌ من حُلفاء قريش، وتسعٌ من سائر قبائل العرب، وواحدةٌ من بني إسرائيلَ من بني هارونَ بن عِمرانَ أخي موسى بن عِمران. قال أبو عبيد: فأولُ من تزوَّج ﷺ من نسائه في الجاهلية خديجةُ، ثم تزوَّج بعدَ خديجة سودةَ بنتَ زَمْعة بمكة في الإسلام، ثم تزوَّج عائشةَ قبل الهجرة بسنتينِ، ثم تزوّج بالمدينة بعد وَقْعة بدرٍ سنة اثنتين من التاريخ أُمَّ سلمة، ثم تزوَّج حفصةَ بنتَ عمر أيضًا سنةَ اثنتين من التاريخ، فهؤلاءِ الخمسةُ من قريش، ثم تزوَّج في سنة ثلاثٍ من التاريخ زينبَ بنتَ جَحْش، ثم تزوّج في سنة خمسٍ من التاريخ جُوَيريَة، ثم تزوّج سنةَ ستٍّ من التاريخ أُمّ حبيبةَ بنت أبي سفيان، ثم تزوَّج في سنة سبعٍ من التاريخ صفيَّةَ بنتَ حُيَي، ثم تزوَّج ميمونةَ بنت الحارث، ثم تزوَّج فاطمةَ بنت شُرَيح، ثم تزوَّج زينبَ بنت خُزيمة، ثم تزوَّج هندَ بنت يزيد، ثم تزوَّج أسماء بنت النُّعمان، ثم تزوَّج قُتيلةَ بنت قيس أختَ الأشعث، ثم تزوَّج أسماء بنت سَنة (1) السُلَمية. ذكرُ الصحابيات من أزواج رسول الله ﷺ وغيرِهنَّ رضي الله تعالى عنهنَّ فأولُ مَن (2) نبدأُ بهنَّ: الصِّدِّيقة بنت الصِّدِّيق عائشةُ بنت أبي بكر ﵄
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6713 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6713 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
ابوعبید القاسم بن سلام فرماتے ہیں: یہ بات ثابت ہے اور ہمارے نزدیک صحیح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے 18 عورتوں سے نکاح کیا۔ ان میں سے 7 عورتیں قریش کے قبیلوں سے ہیں، ایک قریش کے حلیف قبیلے سے ہیں، 7 ازواج دیگر اہل عرب سے ہیں، ایک کا تعلق بنی اسرائیل سے ہے، وہ سیدنا موسیٰ بن ہارون علیہ السلام کے بھائی سیدنا ہارون بن عمران علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔ سیدنا ابوعبیدہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جاہلیت میں سب سے پہلے جس خاتون سے شادی کی وہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا ہیں۔ ان کے بعد زمانہ اسلام میں مکہ مکرمہ میں سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی۔ ہجرت سے دو سال قبل ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکاح کیا۔ جنگ بدر کے بعد سن 2 ہجری کو مدینہ منورہ میں ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکاح کیا۔ اسی سال ام المومنین سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکاح کیا۔ یہ پانچ خواتین اہل عرب سے تھیں۔ 5 ہجری کو ام المومنین سیدہ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکاح کیا۔ 6 ہجری کو سیدہ ام حبیبہ بنت ابوسفیان رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکاح کیا۔ 7 ہجری کو سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکاح کیا۔ ان کے بعد سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکاح کیا۔ ان کے بعد سیدہ فاطمہ بنت شریح رضی اللہ عنہا کے ساتھ کیا۔ ان کے بعد سیدہ زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ کیا۔ ان کے بعد سیدنا ہند بنت یزید رضی اللہ عنہا کے ساتھ کیا۔ ان کے بعد سیدہ اسماء بنت نعمان رضی اللہ عنہا کے ساتھ کیا۔ ان کے بعد سیدنا قتیلہ بنت قیس رضی اللہ عنہا جو کہ اشعث کی بہن ہیں، ان کے ساتھ نکاح کیا۔ ان کے بعد سیدنا سناء بنت صلت سلمیہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6858]
حدیث نمبر: 6859
حدثني أبو جعفر أحمد بن عُبيد بن إبراهيم الأسدي الحافظ بهَمَذان، حَدَّثَنَا إبراهيم بن الحسين بن دِيزِيلَ، حَدَّثَنَا أبو مُسهِر عبد الأعلى بن مُسهر، حَدَّثَنَا عبد الله بن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر، عن عمِّه يزيد بن يزيد بن جابر، عن أبيه قال: تزوَّج النَّبِيُّ ﷺ عائشةَ ولها سبعُ سنينَ، ودخلَ بها ولها تسعُ سنين، وقُبِضَ عنها ولها ثمانِ عشرةَ سنة، وتوفِّيت زمنَ معاويةَ سنة سبعٍ وخمسين (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6714 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6714 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکاح کیا، اس وقت ام المومنین کی عمر مبارک 7 برس تھی، اور جب رخصتی ہوئی تو اس وقت ان کی عمر 9 سال تھی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال مبارک ہوا، اس وقت ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر 18 برس تھی۔ 57 سال کی عمر میں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور حکومت میں آپ کا وصال ہوا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6859]