المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1035. وَفَاةُ أَبِي سَلَمَةَ
وَفَاةُ أَبِي سَلَمَةَ
حدیث نمبر: 6915
قال ابن عمر: حَدَّثَنَا عمر بن عثمان، عن عبد الملك بن عُبيد، عن سعيد بن عبد الرحمن بن يَربُوع، عن عمر بن أبي سَلَمة بن عبد الأَسد، قال: خرج أبي إلى أُحد، فرماه أبو أسامة الجُشَمي في عَضُدِه بسهم، فمكث شهرًا يداوي جرحَه ثم بَرَأ الجرحُ، وبعث رسول الله ﷺ أبي إلى قَطَنٍ (1) في المحرَّم على رأسِ خمسةٍ وثلاثين شهرًا، فغاب تسعًا وعشرين ليلةٌ، ثم رجعَ فدخل المدينةَ لثمانٍ خَلَونَ من صَفَر سنة أربع، والجرحُ منتقِضٌ، فمات منها لثمانٍ خلونَ من جُمادى الآخرة سنةَ أربع من الهجرة، فاعتدَّتْ أمِّي، وحلَّتْ لعشرِ ليالٍ بَقِينَ من شوال سنةَ أربع، وتزوَّجها رسولُ الله ﷺ في ليالٍ بقينَ من شوال سنةَ أربع (2) . ثم إنَّ أهل المدينة قالوا: دخلَتْ أيِّم العرب على سيِّد الإسلام والمسلمين أولَ العشاء عَروسًا، وقامت من آخر الليل تطحنُ، وهي أمُّ المؤمنين أمُّ سلمة ﵂ (3) .
سیدنا عمر بن ابی سلمہ بن عبدالاسد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میرے والد غزوہ احد میں شریک ہوئے تو ابواسامہ جشمی نے ان کے بازو پر ایک تیر مارا، وہ ایک ماہ تک اپنے زخم کا علاج کرتے رہے پھر زخم بھر گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے والد کو ہجرت کے پینتیس ماہ کے آغاز پر محرم میں مقام قطن کی طرف (سریہ دے کر) روانہ فرمایا، وہ وہاں انتیس راتیں غائب رہے، پھر واپس مدینہ منورہ آٹھ صفر سنہ 4 ہجری کو تشریف لائے تو پرانا زخم دوبارہ ہرا ہو گیا، جس کی وجہ سے وہ آٹھ جمادی الآخرہ سنہ 4 ہجری کو وفات پا گئے، پھر میری والدہ نے عدت گزاری اور وہ دس شوال سنہ 4 ہجری کو عدت سے فارغ ہوئیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے شوال سنہ 4 ہجری کے آخری ایام میں نکاح فرمایا۔ پھر مدینہ والوں نے کہا: ایک عرب بیوہ اسلام اور مسلمانوں کے سردار کے پاس شام کے ابتدائی حصے میں بطور دلہن آئی اور رات کے آخری پہر میں اٹھ کر چکی پیسنے لگی، اور وہ ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6915]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 6915] [ترقيم الشركة 6835]