المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1034. خُطْبَةُ النَّجَاشِيِّ عَلَى نِكَاحِ أُمِّ حَبِيبَةَ
نجاشی کا سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے نکاح کا خطبہ پڑھنا
حدیث نمبر: 6912
أخبرناه الحسن بن يعقوب بن يوسف العدل، حَدَّثَنَا السَّري بن خُزيمة، حَدَّثَنَا موسى بن إسماعيل، حَدَّثَنَا حماد بن سَلَمة، أخبرنا ثابت، عن ابن عمر بن أبي سلمة، عن أبيه، عن أمِّ سلمة قالت: قال رسولُ الله ﷺ:"إذا أصابت أحدَكم مصيبةٌ فليقُلْ: إنَّا لله وإنَا إليه راجعون، اللهمَّ عندَك أحتسب مُصيبتي، فأجُرْني فيها"، وكنتُ إذا أردتُ أن أقول: وأبدلني بها خيرًا منها، قلتُ: ومَن خيرٌ من أبي سلمة؟ فلم أزل حتَّى قلتُها، فلما انقضت عِدَّتُها خطَبَها أبو بكر فردَّته، وخطبَها عمرُ فردَّته، فبعث إليها النَّبِيُّ ﷺ ليَخطِبَها فقالت: مرحبًا برسول الله ﷺ وبرسولِه، أقرِئْ رسول الله ﷺ السلامَ، وأخبِرْه أنِّي امرأة مُصبِية غَيْرَى، وأنه ليس أحدٌ من أوليائى [شاهدًا، فبعث إليها رسولُ الله ﷺ:"أما قولُك: إني مُصبِيةٌ، فَإِنَّ الله سيكفيك صِبيانَك، وأما قولُك: إني غَيْرَى، فسأدعو الله أن يُذهِبَ غَيْرتَك، وأما الأولياءُ، فليس أحدٌ منهم] (2) شاهدٌ ولا غائبٌ إلَّا سَيَرْضاني"، فقالت لابنها: قُمْ يا عمرُ، فزوِّج رسولَ الله ﷺ، فزوَّجَها إياه، وقال لها:"لا أنقصُكِ ممّا أعطيتُ أُختَك فلانةً: جَرَّتينِ (1) ورَحاءَين ووِسادةً من أَدَمٍ حَشْوُها لِيفٌ". فكان رسولُ الله ﷺ يأتيها وهي تُرِضُع زينبَ، فكانت إذا جاء النَّبِيُّ ﷺ أخذَتْها فوضعتها في حِجْرها تُرضعُها. قالت: وكان رسولُ الله ﷺ حَبِيًا كريمًا فيرجعُ، فَفَطِنَ لها لها عمارُ بن ياسر، وكان أخًا لها من الرَّضاعة، فأراد رسولُ الله ﷺ أن يأتيَها ذاتَ يوم، فجاء عمار فدخل عليها فانتشطَ زينبَ من حِجْرِها، وقال: دَعِي هذه المقبوحةَ المشقوحةَ التي قد آذيتِ بها رسولَ الله ﷺ، فجاء رسولُ الله ﷺ فدخل يُقلِّبُ بصرَه في البيت: أين زُنَابُ؟ ما لي لا أرى زُنَابَ؟" فقالت: جاء عمَّارٌ فذهب بها، فبنَى رسولُ الله ﷺ بأهله، وقال:"إن شئت أن أسبِّعَ لك، سبَّعتُ للنِّساء" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد. قال: ابن عمر بن أبي سلمة الذي لم يُسمِّه حماد بن سَلَمة في هذا الحديث، سمَّاه غيرُه سعيدَ (3) بن عمر بن أبي سلمة، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6759 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد. قال: ابن عمر بن أبي سلمة الذي لم يُسمِّه حماد بن سَلَمة في هذا الحديث، سمَّاه غيرُه سعيدَ (3) بن عمر بن أبي سلمة، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6759 - صحيح
سعید بن عمر بن ابی سلمہ اپنے والد سے اور وہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی پر کوئی مصیبت آئے تو اسے کہنا چاہیے: «إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللَّهُمَّ عِنْدَكَ أَحْتَسِبُ مُصِيبَتِي، فَأْجُرْنِي فِيهَا» ”یقیناً ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں، اے اللہ! میں اپنی اس مصیبت پر تیرے ہاں اجر کی امید رکھتی ہوں، پس مجھے اس پر اجر عطا فرما۔““ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب میں نے (دعا کا یہ حصہ) کہنا چاہا کہ ”اور مجھے اس کا بہتر بدل عطا فرما“ تو میں نے (دل میں) سوچا کہ بھلا ابوسلمہ سے بہتر کون ہو سکتا ہے؟ لیکن میں مسلسل یہ دعا پڑھتی رہی یہاں تک کہ میں نے اسے پورا کہہ لیا۔ پھر جب ان کی عدت گزر گئی تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں نکاح کا پیغام دیا مگر انہوں نے انکار کر دیا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پیغام دیا تو انہوں نے انہیں بھی انکار کر دیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا قاصد ان کی طرف نکاح کا پیغام دے کر بھیجا تو انہوں نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے قاصد کو خوش آمدید، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میرا سلام کہیے اور انہیں بتائیے کہ میں بال بچوں والی اور بہت زیادہ غیرت مند خاتون ہوں، اور میرا کوئی ولی (سرپرست) بھی یہاں موجود نہیں ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں کہلا بھیجا: ”تمہارا یہ کہنا کہ تم صاحبِ اولاد ہو، تو اللہ تمہارے بچوں کے لیے کافی ہو جائے گا، اور تمہارا یہ کہنا کہ تم غیرت مند ہو، تو میں اللہ سے دعا کروں گا کہ وہ تمہاری غیرت (کا غلبہ) ختم کر دے، رہا اولیاء کا معاملہ، تو ان میں سے کوئی بھی حاضر ہو یا غائب، وہ مجھ سے (اس نکاح پر) ضرور راضی ہو گا۔“ چنانچہ انہوں نے اپنے بیٹے سے کہا: ”اے عمر! اٹھو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میرا نکاح کر دو۔“ تو انہوں نے نکاح کر دیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”میں تمہیں اس سے کم نہیں دوں گا جو میں نے تمہاری بہن فلاں (زوجہ مطہرہ) کو دیا تھا، یعنی: دو مٹکے، دو چکیاں اور چمڑے کا ایک تکیہ جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لاتے تھے اور وہ (اپنی بیٹی) زینب کو دودھ پلا رہی ہوتی تھیں، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے تو وہ بچی کو گود میں لے کر دودھ پلانے لگتیں۔ سیدہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انتہائی حیا دار اور کریم تھے (یہ دیکھ کر) واپس لوٹ جاتے۔ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ، جو ان کے رضاعی بھائی تھے، وہ اس بات کو بھانپ گئے۔ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ان کے پاس آنے کا ارادہ تھا کہ عمار رضی اللہ عنہ آئے اور ان کے پاس داخل ہو کر زینب کو ان کی گود سے اٹھا لیا اور کہا: ”اس بچی کو چھوڑ دو جس کی وجہ سے تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (خلوت میں) تنگی میں ڈالتی ہو۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور گھر میں نظر دوڑائی (اور پوچھا): ”زناب (زینب) کہاں ہے؟ کیا بات ہے میں زناب کو نہیں دیکھ رہا؟“ انہوں نے کہا: ”عمار آئے تھے اور اسے لے گئے ہیں۔“ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اہلیہ کے ساتھ شب باشی فرمائی اور فرمایا: ”اگر تم چاہو تو میں تمہارے پاس سات دن قیام کروں، جیسا کہ میں دیگر ازواج کے پاس (نئی شادی پر) سات دن قیام کرتا ہوں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔ ابن عمر بن ابی سلمہ جن کا نام حماد بن سلمہ نے اس حدیث میں بیان نہیں کیا، دیگر محدثین نے ان کا نام سعید بن عمر بن ابی سلمہ بیان کیا ہے، اور شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6912]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔ ابن عمر بن ابی سلمہ جن کا نام حماد بن سلمہ نے اس حدیث میں بیان نہیں کیا، دیگر محدثین نے ان کا نام سعید بن عمر بن ابی سلمہ بیان کیا ہے، اور شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6912]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات غير ابن عمر بن أبي سلمة فمجهول، وانظر تمام الكلام عليه فيما سلف برقم (2793).» [ترقيم الرساله 6912] [ترقيم الشركة 6832] [ترقيم العلميه 6759]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 6913
فحدَّثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيِه، حَدَّثَنَا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حَدَّثَنَا مصعب بن عبد الله الزُّبيري، حَدَّثَنَا عبد العزيز بن محمد، عن عبد الرحمن بن حُميد بن عبد الرحمن بن عَوف، عن عبد الملك بن أبي بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام، عن أبيه: أنَّ أمَّ سلمة بنت أبي أمية، حين تزوَّجها رسولُ الله ﷺ أخذت بثوبِه مانعةً للخروج من بيتها، فقال رسولُ الله ﷺ:"إن شئتِ زدتُكِ وحاسبتُك للبِكْرِ سبعٌ، وللثيِّب ثلاثٌ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6760 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6760 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوبکر بن عبدالرحمن اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ام سلمہ بنت ابی امیہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو (رخصتی کے وقت) انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کپڑا پکڑ لیا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھر سے باہر جانے سے روک سکیں، تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم چاہو تو میں (تمہاری دلجوئی کے لیے) تمہارے پاس سات دن قیام کروں گا مگر پھر دیگر ازواج کے ساتھ باریوں کا حساب بھی ویسا ہی ہو گا، کیونکہ کنواری کے لیے سات دن ہیں اور بیوہ کے لیے تین دن ہیں۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6913]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6913]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل عبد العزيز بن محمد - وهو الدراوري - وقد توبع، وقد اختُلف فيه على عبد الملك بن أبي بكر وعلى أبيه أيضًا في وصله وإرساله كما هو مبين في "مسند أحمد" (44/ 26504) و (26619).» [ترقيم الرساله 6913] [ترقيم الشركة 6833] [ترقيم العلميه 6760]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 6914
حَدَّثَنَا أبو عبد الله الأصبهانيّ، حَدَّثَنَا الحسين بن الجَهْم، حَدَّثَنَا الحسين بن الفَرَج، حَدَّثَنَا محمد بن عمر، قال: وأمُّ سلمة اسمُها هندُ بنت أبي أُمية، واسمُ أبي أُمية سُهَيل بن المغيرة بن عبد الله بن عمر بن مخزوم، وأمُّها عاتكة بنت عامر بن ربيعة بن مالك بن جَذِيمة (2) بن علقمة بن فِراس بن غَنْم بن مالك بن كِنانة، تزوَّجها أبو سلمة عبدُ الله بن عبد الأسد بن هِلال، وهاجر بها إلى أرض الحبشة في الهجرتين جميعًا، فوَلَدَت له هناك زينبَ، ووَلَدَت له بعد ذلك سلمةَ وعمر ودُرَّةَ بني أبي سَلَمة.
محمد بن عمر سے روایت ہے کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا نام ہند بنت ابی امیہ تھا، اور ابوامیہ کا نام سہیل بن مغیرہ بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم تھا، اور ان کی والدہ عاتکہ بنت عامر بن ربیعہ بن مالک بن جذیمہ بن علقمہ بن فراس بن غنم بن مالک بن کنانہ تھیں۔ ابوسلمہ عبداللہ بن عبدالاسد بن ہلال نے ان سے نکاح کیا اور ان کے ہمراہ سرزمین حبشہ کی طرف دونوں ہجرتیں کیں، وہاں ان کے ہاں زینب پیدا ہوئیں اور اس کے بعد ابوسلمہ کی اولاد میں سے سلمہ، عمر اور درہ پیدا ہوئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6914]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 6914] [ترقيم الشركة 6834]