🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1050. فَضَائِلُ صَفِيَّةَ مِنَ النَّسَبِ
نسب کے اعتبار سے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے فضائل
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6957
أخبرنا دَعْلَج بن أحمد السِّجزي، حدثنا عبد العزيز بن معاوية البصري (2) ، حدثنا شاذُّ بن فَيَّاض أبو عُبيدة، حدثنا هاشم بن سعيد، عن كنانة، عن صفية قالت: دخل علي رسول الله ﷺ وأنا أبكي، فقال:"يا بنتَ حُيَي، ما يُبكيكِ؟" قلتُ: بلغني أنَّ حفصة وعائشة تنالان منِّي وتقولان: نحن خيرٌ منها، نحن بنات عم رسول الله ﷺ وأزواجه، قال:"ألا قلت لهم: كيف تكونان خيرًا مني وأبي هارونُ، وعمِّي موسى، وزوجي محمد؟!" صلوات الله عليهم (3) . [ذكر أم المؤمنين ميمونة بنت الحارث ﵂]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6790 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
ام المؤمنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے جبکہ میں رو رہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”اے بنتِ حیی! تمہیں کیا بات رلا رہی ہے؟“ میں نے عرض کی: مجھے معلوم ہوا ہے کہ سیدہ حفصہ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما مجھ پر طنز کرتی ہیں اور کہتی ہیں کہ ہم ان سے بہتر ہیں کیونکہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چچی زاد بھی ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج بھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے انہیں یہ کیوں نہ کہہ دیا کہ تم دونوں مجھ سے بہتر کیسے ہو سکتی ہو جبکہ میرے والد ہارون، میرے چچا موسیٰ اور میرے شوہر محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں؟“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6957]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف من أجل هاشم بن سعيد الكوفي.» [ترقيم الرساله 6957] [ترقيم الشركة 6877] [ترقيم العلميه 6790]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں