🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1070. ذِكْرُ أُمَيْمَةَ مَوْلَاةِ رَسُولِ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ -
سیدہ امیمہ رضی اللہ عنہا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خادمہ تھیں ان کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7001
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بكير، عن يزيد بن سنان أبي فَرْوة الرهاوي، حدثنا أبو يحيى الكلاعي، عن جبير بن نفير قال: دخلتُ على أميمة مولاة رسول الله ﷺ فقلت: حدثيني بشيء سمعته من رسول الله ﷺ، قالت: كنتُ يومًا أُفرغ على يديه وهو يتوضأ، إذ دخل عليه رجلٌ، فقال: يا رسول الله، إني أريد الرجوع إلى أهلي، فأوصني بوصيةٍ أحفظها، فقال:"لا تُشركنَّ بالله شيئًا وإن قُطِّعت وحُرِّقت بالنار، ولا تَعصِيَنَّ والديكَ، وإن أمَرَاك أن تَخَلَّى من أهلك ودنياك فتخلَّى، ولا تترك صلاة متعمدًا، فمن تركها متعمدًا برئت منه ذِمَّةُ الله ﷿ وذمَّة رسوله ﷺ ولا تشرين الخمر، فإنها رأسُ كل خطيئة، ولا تزداد (1) في تُخومٍ، فإنَّك تأتي يوم القيامة وعلى عُنقك مقدار سبع أرضين، ولا تَفِرنَّ يومَ الزَّحف، فإنه مَن فرَّ يوم الزحف فقد باء بغضب من الله، ومأواه جهنَّمُ وبئس المصير، وأنفق على أهلك من طولك، ولا تَرفَع عصاك عنهم، وأخفهم في الله ﷿" (2) . ذكر رَيْحانة مولاة النَّبيِّ ﷺ بعد التسرِّي
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6830 - سنده واه
سیدہ امیمہ رضی اللہ عنہا (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لونڈی) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں پر وضو کا پانی ڈال رہی تھی کہ ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: یا رسول اللہ! میں اپنے گھر والوں کے پاس واپس جانا چاہتا ہوں، مجھے کوئی ایسی وصیت فرمائیں جسے میں یاد رکھوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا اگرچہ تمہارے ٹکڑے کر دیے جائیں یا تمہیں آگ میں جلا دیا جائے، اور اپنے والدین کی نافرمانی نہ کرنا اگرچہ وہ تمہیں تمہارے گھر بار اور دنیا چھوڑنے کا حکم دیں تو چھوڑ دینا، اور جان بوجھ کر نماز نہ چھوڑنا کیونکہ جس نے جان بوجھ کر نماز چھوڑی اس سے اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ذمہ (حفاظت) ختم ہو گیا، اور شراب ہرگز نہ پینا کیونکہ یہ ہر برائی کی جڑ ہے، اور زمین کی حدود (میڑ) میں تبدیلی نہ کرنا ورنہ قیامت کے دن تمہیں سات زمینوں کے برابر وزن کا طوق پہنایا جائے گا، اور میدانِ جنگ سے پیٹھ پھیر کر نہ بھاگنا کیونکہ جو لڑائی کے دن بھاگا وہ اللہ کے غضب کے ساتھ لوٹا اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے جو کہ بہت برا ٹھکانہ ہے، اور اپنی وسعت کے مطابق اپنے گھر والوں پر خرچ کرنا، اور ان سے (تربیت کے لیے) اپنی لاٹھی نہ اٹھانا اور انہیں اللہ عزوجل کے معاملے میں ڈراتے رہنا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 7001]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف بمرَّة من أجل يزيد بن سنان الرهاوي، فإنَّ الجمهور على تضعيفه. أبو يحيى الكلاعي: هو سليم بن عامر الخبائري. وقال الذهبي في "التلخيص": سنده واهٍ.» [ترقيم الرساله 7001] [ترقيم الشركة 6922] [ترقيم العلميه 6830]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف بمرَّة من أجل يزيد بن سنان الرهاوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں