المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1089. ذِكْرُ أَرْوَى بِنْتِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَمَّةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ -
رسول اللہ ﷺ کی پھوپھی سیدہ اروٰی بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا کا بیان
حدیث نمبر: 7041
كما حدثناه محمد بن أحمد بن بُطَّة، حدثنا الحسن بن الجهم، حدثنا الحسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر، حدثني سلمة بن بُخْت، عن عميرة (1) بنت عبيد الله بن كعب عن أمِّ درَّة (2) ، عن بَرَّةَ بنتِ أبي تجراة قالت: كانت قريش لا تُنكِرُ صلاةَ الضُّحى، إنما تُنكر الوقت، وكان رسول الله ﷺ إذا جاء وقت العصر تفرّقوا إلى الشِّعاب، فصلوا فُرادَى، ومَثْنى، فبينا (3) طليب بن عُمير وحاطب بن عبد شمس يُصلُّون بشعب أجياد، بعضُهم ينظرُ إلى بعض، إذ هَجَمَ عليهم ابن الأصداء وابنُ الغَيْطَلة (4) ، وكانا فاحشَينِ، فرموهم بالحجارة ساعةً حتى خرجا، وانصرفا وهما يشتدَّان، وأتيا أبا جهل وأبا لهب وعُقبة بن أبي معيط، فذاكروهم الخبرَ، فتَلَطَّفوا (5) لهم في الصُّبح، وكانوا يَخرُجونَ في غَلَس الصُّبح فيتوضؤون ويصلون، فبينما هم في شعب إذ هَجَمَ عليهم أبو جهل وعقبة وأبو لهب وعِدَّةٌ من سفهائهم، فبَطَشوا بهم، فنالوا منهم، وأظهر أصحاب رسول الله ﷺ الإسلام وتكلموا به وبادَوْهم، وذبُّوا عن أنفسهم، وتعمَّد طليب بن عُمير إلى أبي جهل فضربه شجَّة، فأخذوه وأوثقوه، فقام دونه أبو لهب حتى خَلَّاه، وكان ابن أخته، فقيل لأروى بنتِ عبد المطلب: ألا ترين إلى ابنك طليب قد اتَّبع محمدًا وصار غَرَضًا له؟! وكانت أروى قد أسلمت، فقالت: خيرُ أيامٍ طُليب يومُ يَذُبُّ عن ابن خاله وقد جاء بالحقِّ من عند الله تعالى، فقالوا: وقد اتبعتِ محمدًا؟ قالت: نعم، فخرج بعضهم إلى أبي لهب فأخبره، فأقبل حتى دخل عليها، فقال: عجبًا لكِ ولا تباعك محمدًا وتَركِك دين عبد المطلب! قالت: قد كان ذلك، فقُمْ دونَ ابن أخيك فاعضُده وامنعه، فإن ظهر أمره فأنت بالخيار، إن شئتَ أن تدخُل معه أو تكون على دينك، وإن لم يكن كنت قد أعذرت ابن أخيك، قال: ولنا طاقةٌ بالعرب قاطبةً؟ ثم يقولون: جاء بدينٍ محدث، قال: ثم انصرف أبو لهب (1) . ذكر أم هانئ فاختةَ بنتِ أبي طالب بن عبد المطلب ابنة عم رسول الله ﷺ وأُختِ عليٍّ، صلوات الله على محمد وآله.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6868 - لم أجد إسلامها إلا عند الواقدي
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6868 - لم أجد إسلامها إلا عند الواقدي
سیدہ برہ بنت ابی تجراۃ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: قریش صلاۃ الضحیٰ (چاشت کی نماز) پر اعتراض نہیں کرتے تھے، بلکہ وہ اس کے وقت پر معترض ہوتے تھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ یہ تھا کہ جب عصر کا وقت ہوتا تو صحابہ کرام گھاٹیوں میں متفرق ہو جاتے اور وہاں تنہا یا دو دو کی شکل میں نماز ادا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ طلیب بن عمیر اور حاطب بن عبد شمس ”شعب اجیاد“ میں نماز پڑھ رہے تھے اور ایک دوسرے کی نگرانی کر رہے تھے کہ اچانک ان پر ابن اصداء اور ابن غیطله نے حملہ کر دیا، یہ دونوں نہایت بدزبان اور فحش گو تھے، انہوں نے کافی دیر تک ان پر پتھراؤ کیا یہاں تک کہ وہ دونوں وہاں سے نکل آئے اور تیزی سے بھاگتے ہوئے ابو جہل، ابو لہب اور عقبہ بن ابی معیط کے پاس پہنچے اور انہیں سارا حال سنایا۔ پھر ان لوگوں نے صبح کے وقت گھات لگا کر حملہ کرنے کی چال چلی؛ صحابہ کرام صبح اندھیرے میں نکلتے تھے اور وضو کر کے نماز پڑھتے تھے، جب وہ ایک گھاٹی میں موجود تھے تو ان پر ابو جہل، عقبہ، ابو لہب اور ان کے چند اوباش ساتھیوں نے اچانک حملہ کر دیا اور ان پر سختی کی اور انہیں مارا پیٹا۔ اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے اپنے اسلام کا علی الاعلان اظہار کیا اور اس کے متعلق علی وجہ البصیرت گفتگو کی، انہوں نے مشرکین کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور اپنا بھرپور دفاع کیا، اور طلیب بن عمیر نے ابو جہل کا رخ کر کے اسے ایسی ضرب ماری کہ اس کا سر پھٹ گیا۔ مشرکین نے طلیب کو پکڑ کر باندھ لیا تو ابو لہب ان کے دفاع میں کھڑا ہو گیا یہاں تک کہ انہیں چھڑوا لیا، کیونکہ وہ اس کا بھانجا تھا۔ پھر سیدہ ارویٰ بنت عبد المطلب سے کہا گیا: ”کیا آپ اپنے بیٹے طلیب کو نہیں دیکھتیں کہ وہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پیچھے چل پڑا ہے اور ان کے لیے (مخالفت کا) نشانہ بن رہا ہے؟“ سیدہ ارویٰ اسلام لا چکی تھیں، انہوں نے جواب دیا: ”طلیب کے بہترین دن وہی ہیں جن میں وہ اپنے ماموں زاد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کا دفاع کرے، جبکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے برحق دین لے کر آئے ہیں۔“ لوگوں نے پوچھا: ”کیا آپ نے بھی محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی پیروی اختیار کر لی ہے؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں۔“ پھر ان میں سے کچھ لوگ ابو لہب کے پاس گئے اور اسے خبر دی، وہ غصے میں ان کے پاس آیا اور کہنے لگا: ”مجھے تم پر حیرت ہے کہ تم نے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی پیروی اختیار کر لی ہے اور عبد المطلب کا دین چھوڑ دیا ہے!“ انہوں نے فرمایا: ”ایسا ہی ہو چکا ہے، اب تم بھی اپنے بھتیجے ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے لیے کھڑے ہو جاؤ اور ان کی مدد و حمایت کرو، اگر ان کا معاملہ غالب آگیا تو تمہیں اختیار ہو گا کہ تم ان کے ساتھ شامل ہو جاؤ یا اپنے دین پر قائم رہو، اور اگر (خدا نخواستہ) وہ کامیاب نہ ہوئے تو کم از کم تم نے اپنے بھتیجے کا ساتھ دے کر اپنا عذر تو پیش کر دیا ہو گا۔“ ابو لہب نے کہا: ”کیا ہم میں پوری عرب قوم کا مقابلہ کرنے کی طاقت ہے؟“ پھر وہ کہنے لگے: ”وہ تو ایک نیا دین لے کر آئے ہیں“، اور یہ کہہ کر ابو لہب وہاں سے چلا گیا۔
سیدہ ارویٰ بنت عبد المطلب رضی اللہ عنہا کے اسلام لانے کا ذکر صرف امام واقدی کی کتاب میں ملا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 7041]
سیدہ ارویٰ بنت عبد المطلب رضی اللہ عنہا کے اسلام لانے کا ذکر صرف امام واقدی کی کتاب میں ملا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 7041]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، عميرة بنت عبيد الله لم نقف لها على ترجمة، وقد روى ابن سعد من طريقها في "الطبقات" روايات تزيد عن الخمس عشرة. وأم ذرة تقدم الكلام عليها في الهامش السابق. وبرة بنت أبي تجراة لها رواية عن النَّبيِّ ﷺ، لذلك ذكرها ابن سعد وابن حبان وأبو نعيم وغيرهم ...» [ترقيم الرساله 7041] [ترقيم الشركة 6962] [ترقيم العلميه 6868]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف