المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1100. جَوَازُ الرُّقْيَةِ مَا لَمْ تَكُنْ شِرْكًا
دم (رقیہ) کا جواز، بشرطیکہ اس میں شرک شامل نہ ہو، اور یہ روایت سیدنا ابو بکر بن سلیمان نے اپنی دادی سے سنی
حدیث نمبر: 7063
كما حدَّثَناه أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيبانيُّ، حدَّثنا حامد بن أبي حامد المُقرئ، حدَّثنا إسحاق بن سليمان الرازي، حدَّثنا الجرَّاح بن الضحَّاك الكِنْدي، عن كُريب بن سليمان (1) الكِنْدي، قال: أخذَ بيدي عليُّ بن الحسين بن علي حتى انطلقَ بي إلى رجلٍ من قُريشٍ أحدِ بني زُهرة، يُقال له: ابن أبي حَثْمة، وهو يُصلِّي قريبًا منه، حتى فَرَغَ ابن أبي حَثْمة من صلاتِه، ثم أقبلَ علينا بوجهه، فقال له عليُّ بن الحسين: الحديثَ الذي ذكرتَ عن أمِّكَ في شأنِ الرُّقية، فقال: نعم، حدَّثتني أمِّي: أنَّها كانت تَرقي برُقْيةٍ في الجاهلية، فلما أن جاءَ الإسلامُ قالت: لا أَرقِي حتى أستأمِرَ رسولَ الله ﷺ، فقال لها النبيُّ ﷺ:"ارقِي ما لم يكن شِركٌ بالله ﷿" (2) .
کریب بن سلیمان کندی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سیدنا علی بن حسین بن علی (امام زین العابدین) نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے قریش کے بنو زہرہ خاندان کے ایک شخص کے پاس لے گئے جنہیں ابن ابی حثمہ کہا جاتا تھا، وہ اپنے قریب ہی نماز پڑھ رہے تھے، جب وہ اپنی نماز سے فارغ ہوئے تو ہماری طرف متوجہ ہوئے، سیدنا علی بن حسین نے ان سے کہا: وہ حدیث بیان کیجئے جو آپ نے اپنی والدہ سے دم (رقیہ) کے متعلق سنی تھی، انہوں نے کہا: جی ہاں، میری والدہ نے مجھے بتایا تھا کہ وہ جاہلیت کے دور میں ایک دم کیا کرتی تھیں، جب اسلام آگیا تو انہوں نے کہا: میں اس وقت تک دم نہیں کروں گی جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت نہ لے لوں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”دم کر لیا کرو جب تک کہ اس میں اللہ عزوجل کے ساتھ شریک ٹھہرانے والی کوئی بات (شرک) نہ ہو۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 7063]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد رجاله لا بأس بهم غير كريب بن سليم الكندي، فهو مجهولٌ تفرَّد بالرواية عنه الجراح بن الضحاك، وذكره البخاري 7/ 231 وابن أبي حاتم 7/ 169، وسكتا عنه، وذكره ابن حبان في "الثقات".» [ترقيم الرساله 7063] [ترقيم الشركة 6983]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره