المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1116. حُكْمُ مَنْ أَهَانَ صَحَابِيًّا
کسی صحابی کی توہین کرنے والے کے حکم کا بیان
حدیث نمبر: 7089
حدثني أحمد بن محمد بن رُمَيح، حدَّثنا يحيى بن محمد بن صاعد، حدثني أبي قال: خاصمَ ابن أبي الفُرات مولى أسامةَ بن زيدٍ الحسنَ بن أُسامة ونازعَه، فقال له ابن أبي الفُرات في كلامه: يا ابنَ بَرَكةَ، يُريدُ أمَّ أيمن، فقال الحسن: اشْهَدُوا، ورفعَه إلى أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حَزْم وهو يومئذٍ قاضي المدينة، وقصَّ عليه القصةَ، فقال أبو بكر لابن أبي الفُرات: ما أردتَ بقولك له: يا ابنَ بركة؟ قال: سمَّيتُها باسمِها، فقال أبو بكر: إنما (1) أردتَ بهذا التصغيرَ بها، وحالُها من الإسلام حالُها، ورسولُ الله ﷺ يقول لها:"يا أمَّهْ" و"يا أمَّ أيمن"، لا أقالَني الله ﷿ إن أقَلتُك، فضربَه سبعينَ سوطًا (2) . ذكرُ أَروى بنت كُرَيز القُرشية ﵂
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6914 - حذفه الذهبي من التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6914 - حذفه الذهبي من التلخيص
سیدنا احمد بن محمد بن رومیح سے مروی ہے کہ اسامہ بن زید کے آزاد کردہ غلام ابن ابی الفرات اور حسن بن اسامہ کے درمیان کوئی جھگڑا ہوا، ابن ابی الفرات نے دورانِ گفتگو ابن ابی الفرات نے انہیں (طنزاً) کہا: اے ابن برکہ!، حسن نے کہا: تم سب گواہ رہنا، پھر وہ اس معاملے کو مدینہ کے اس وقت کے قاضی ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم کے پاس لے گئے اور سارا واقعہ سنایا، ابوبکر نے ابن ابی الفرات سے پوچھا: تمہارا انہیں ”اے برکہ کے بیٹے“ کہنے سے کیا مقصد تھا؟ اس نے کہا: میں نے تو ان کا نام لیا ہے، ابوبکر نے کہا: تمہارا مقصد اس سے ان کی توہین و تحقیر کرنا تھا، حالانکہ اسلام میں ان کا مقام و مرتبہ نہایت بلند ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود انہیں ”اے امی!“ اور ”اے ام ایمن“ کہہ کر پکارتے تھے، اللہ عزوجل مجھے معاف نہ کرے اگر میں نے تمہیں معاف کر دیا، چنانچہ انہوں نے اسے ستر کوڑے مارنے کی سزا دی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 7089]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لإعضاله ولجهالة حال محمد بن صاعد والد يحيى.» [ترقيم الرساله 7089] [ترقيم الشركة 7009] [ترقيم العلميه 6914]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف