🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1117. ذكر أروى بنت كريز القرشية - رضي الله عنها -
سیدہ اروٰی بنت کریز قرشیہ رضی اللہ عنہا کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7089
حدثني أحمد بن محمد بن رُمَيح، حدَّثنا يحيى بن محمد بن صاعد، حدثني أبي قال: خاصمَ ابن أبي الفُرات مولى أسامةَ بن زيدٍ الحسنَ بن أُسامة ونازعَه، فقال له ابن أبي الفُرات في كلامه: يا ابنَ بَرَكةَ، يُريدُ أمَّ أيمن، فقال الحسن: اشْهَدُوا، ورفعَه إلى أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حَزْم وهو يومئذٍ قاضي المدينة، وقصَّ عليه القصةَ، فقال أبو بكر لابن أبي الفُرات: ما أردتَ بقولك له: يا ابنَ بركة؟ قال: سمَّيتُها باسمِها، فقال أبو بكر: إنما (1) أردتَ بهذا التصغيرَ بها، وحالُها من الإسلام حالُها، ورسولُ الله ﷺ يقول لها:"يا أمَّهْ" و"يا أمَّ أيمن"، لا أقالَني الله ﷿ إن أقَلتُك، فضربَه سبعينَ سوطًا (2) . ذكرُ أَروى بنت كُرَيز القُرشية ﵂
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6914 - حذفه الذهبي من التلخيص
یحیی بن محمد بن صاعد اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں، محمد بن صاعد بیان کرتے ہیں کہ اسامہ بن زید کے غلام ابن ابی فرات کا حسن بن امیہ کے ساتھ جھگڑا ہو گیا، ابن ابی فرات نے اپنی گفتگو میں اسے کہا: اے ابن برکۃ! تو ام ایمن کا ارادہ رکھتا ہے؟ حسن نے اس بات پر گواہ قائم کئے اور اس کا معاملہ ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم کے پاس لے گئے، یہ ان دنوں مدینہ منورہ کے قاضی تھے، وہاں جا کر حسن نے پورا قصہ سنایا۔ ابوبکر نے ابن فرات سے کہا: تو نے اس کو یا ابن برکۃ کہا، اس سے تیری کیا مراد تھی؟ انہوں نے کہا: میں نے اس کا اصل نام لیا تھا، ابوبکر نے کہا: تو نے تصغیر کے اس لفظ کے ساتھ ان کا نام لیا ہے، حالانکہ وہ مسلمان ہیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو یا امہ اور یا ام ایمن کہا کرتے تھے، اگر میں تیرے قتل کی سزا سنا دوں تو اللہ تعالیٰ اس پر میری پکڑ نہیں فرمائے گا۔ پھر ان کو ستر کوڑوں کی سزا دی گئی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 7089]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7089 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في (م) و (ص): لا إنما.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (م) اور (ص) میں اس جگہ "لا إنما" کے الفاظ موجود ہیں۔
(2) إسناده ضعيف لإعضاله ولجهالة حال محمد بن صاعد والد يحيى.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کے ضعف کی وجہ سند کا "معضل" (دو یا زائد راویوں کا گرا ہوا) ہونا اور محمد بن صاعد (یحییٰ کے والد) کے حالات کا نامعلوم (مجہول) ہونا ہے۔
وأخرجه ابن سعد في "الطبقات" 10/ 215 - ومن طريقه ابن عساكر في "تاريخه" 13/ 27 - عن الواقدي، فذكره.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد نے "الطبقات" 10/ 215 میں اور ان کے طریق سے ابن عساکر نے اپنی "تاریخ" 13/ 27 میں واقدی (محمد بن عمر) کے واسطے سے روایت کیا ہے۔