🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1128. ذِكْرُ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا -
سیدہ اُمِّ قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7110
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدَّثنا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حدَّثنا مصعب بن عبد الله الزُّبيري قال: وأمُّ قيس بنت مِحصَن بن حُرْثانَ (1) أخت عُكَّاشة بن مِحصَن، أسلمت قديمًا بمكةَ، وهاجرت إلى المدينة مع أهل بيتها، وعاشت بعد رسولِ الله ﷺ، وروت عنه.
سیدنا مصعب بن عبداللہ زبیری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدہ ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا سیدنا عکاشہ بن محصن کی بہن ہیں، وہ مکہ میں قدیم الاسلام تھیں اور اپنے گھر والوں کے ساتھ مدینہ ہجرت کی، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد عرصہ دراز تک حیات رہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایات نقل کیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 7110]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 7110] [ترقيم الشركة 7028]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7111
أخبرني أبو زكريا يحيى بن محمد العَنْبري، حدَّثنا الحسين بن محمد القبَّاني، حدَّثنا محمد بن موسى الحَرَشي، حدَّثنا سَعْد (2) أبو عاصم مولى سليمان بن علي، حدَّثنا نافع، أنَّ أمَّ قيس حدَّثته: أنَّ رسول الله ﷺ خَرَجَ بها آخذًا بيدِها في سِكَّة المدينة حتى انتهى إلى البقيعِ بقيع الغَرْقد، فقال:"يا أُمَّ قيس" قلتُ: لبَّيكَ وسَعدَيكَ يا رسولَ الله، قال:"أَترَينَ هذه المَقبُرةَ؟" قلتُ: نعم يا رسول الله، قال:"يَبعثُ الله (3) منها سبعين ألفًا يوم القيامة بصورةِ القمرِ ليلةَ البدر، يَدخُلُون الجنَّةَ بغير حسابٍ"، فقام عُكَّاشةُ فقال: وأنا يا رسول الله، قال:"وأنت"، فقام آخرُ فقال: وأنا، فقال:"سَبَقَكَ بها عُكَّاشةُ" (4) . ذكرُ جُدَامةَ (1) بنت وَهْب الأسدية ﵂
سیدہ ام قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کا ہاتھ تھامے ہوئے مدینہ کی ایک گلی سے گزر کر بقیع الغرقد تشریف لائے اور فرمایا: ”اے ام قیس!“ میں نے عرض کیا: میں حاضر ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرماں برداری کے لیے تیار ہوں یا رسول اللہ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم یہ قبرستان دیکھ رہی ہو؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں یا رسول اللہ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن یہاں سے ستر ہزار ایسے لوگوں کو اٹھائے گا جن کے چہرے چودھویں کے چاند کی طرح روشن ہوں گے اور وہ بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے۔“ تب سیدنا عکاشہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: اور میں بھی یا رسول اللہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم بھی“، پھر ایک اور صاحب کھڑے ہوئے اور وہی سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عکاشہ تم سے سبقت لے گئے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 7111]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف ومتنه منكر، سعد أبو عاصم - هو ابن زياد - قال أبو حاتم الرازي: يكتب حديثه وليس بالمتين، وذكره ابن حبان في "الثقات"، ونافع - هو مولى حمنة - ذكره البخاري في "الكبير" 8/ 83 - 84، وابن أبي حاتم في "الجرح والتعديل" 8/ 453 - 454، ولم ...» [ترقيم الرساله 7111] [ترقيم الشركة 7029]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف ومتنه منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں