🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1145. مُوَالَاةُ قُرَيْشٍ أَمَانُ أَهْلِ الْأَرْضِ
قریش کی محبت اہل زمین کے لیے امن ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7134
أخبرنا أبو الحسين أحمد بن عثمان بن يحيى المُقرئ ببغداد، حدَّثنا أبو قلابة الرَّقَاشي، حدَّثنا أبو حُذيفة، حدَّثنا زهير بن محمد، عن عبد الله بن محمد بن عَقيل، عن حمزة بن أبي سعيد الخُدْري، عن أبيه قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول على المنبر:"ما بالُ أقوامٍ يقولون: إنَّ رَحِمي لا تنفعُ؟ بلى والله، إِنَّ رَحِمي موصولةٌ في الدنيا والآخرة. وإنِّي أيها الناس فَرَطُكم على الحوض، فإذا جئتُ قام رجالٌ، فقال هذا: يا رسولَ الله، أنا فلانٌ، وقال هذا: يا رسولَ الله، أنا فلانٌ، وقال هذا: يا رسولَ الله، أنا فلانٌ (2) ، فأقولُ: قد عرفتُكم، ولكنَّكم أحدَثتُم بعدي ورجعتُم القَهْقَرى" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6958 - صحيح
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر بیان کرتے ہوئے سنا: ان لوگوں کا کیا حشر ہو گا جو کہتے ہیں کہ میری رشتہ داری نفع نہیں دے گی۔ کیوں نہیں، اللہ کی قسم! میری رشتہ داری دنیا اور آخرت میں فائدہ مند ہے۔ اے لوگو! میں حوض کوثر پر تمہارا انتظار کروں گا، جب میں آؤں گا تو لوگ کھڑے ہو جائیں گے، یہ شخص کہے گا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ میں ہوں، یہ کہے گا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ میں ہوں۔ وہ کہے گا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ میں ہوں۔ میں کہوں گا: میں نے تمہیں پہچان لیا ہے، لیکن تم نے میرے بعد بدعتیں ایجاد کر لی تھیں اور تم الٹے پاؤں پھر گئے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 7134]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7135
أخبرني الشيخ أبو بكر بن إسحاق، فيما قرأتُه عليه من أصلِ كتابه، أخبرنا محمد بن أحمد بن الوليد الكَرَابيسي ببغداد، حدَّثنا إسحاق بن سعيد بن الأُرْكُون الدِّمشقي، حدَّثنا خُلَيد بن دَعْلَج، عن عطاء بن أبي رباح، عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ:"أمان أهلِ الأرض من الاختلافِ المُوالاة لقريشٍ، قريشٌ أهلُ الله، أهلُ آلاءِ الله، فإذا خالفَتْها قبيلةٌ من العرب صاروا (1) حِزبَ إبليسَ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6959 - واه وفي إسناده ضعيفان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اہل زمین کے لئے اختلافات سے امان یہ ہے کہ امارت قریش کو سونپی جائے، اور قریش اللہ والے ہیں، جب عرب کا کوئی قبیلہ ان کا مخالف بنتا ہے وہ ابلیس کی جماعت بن جاتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 7135]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7136
أخبرني أبو جعفر محمد بن علي بن دُحَيم الشَّيباني بالكوفة، حدَّثنا أحمد بن حازم الغِفاري، حدَّثنا محمد بن طَريف البَجَلي، حدَّثنا محمد بن فُضَيل، عن الأعمش، عن أبي سَبْرة النَّخَعي، عن محمد بن كعب القُرَظي، عن العباس بن عبد المطَّلب قال: كُنَّا نلقَى النَّفرَ من قريش وهم يتحدَّثون، فيَقطَعونَ حديثَهم، فذَكَرنا ذلك لرسولِ الله ﷺ، فقال:"ما بالُ أقوامٍ يتحدَّثون، فإذا رأَوُا الرجلَ من أهلي قَطعُوا حديثَهم؟! والله لا يدخُلُ قلبَ رجلٍ الإيمانُ حتى يُحِبَّهم لله تعالى ولِقَرابتي" (1) .
هذا حديث يُعرَف من حديث يزيد بن أبي زياد عن عبد الله بن الحارث عن العبّاس، فإذا حصل هذا الشاهدُ من حديث ابن فُضيل عن الأعمش، حكمنا له بالصِّحة. وأما حديثُ يزيد بن أبي زياد:
سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم لوگ قریش سے ملتے تھے، وہ لوگ بات چیت کر رہے ہوتے، ان کو دیکھتے ہی وہ لوگ اپنی بات ختم کر دیتے، اس عمل کا ذکر ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس قوم کا کیا حشر ہو گا جو آپس میں بات چیت کرتے ہیں، جیسے ہی میرے کسی رشتہ دار کو دیکھتے ہیں تو اپنی بات ختم کر دیتے ہیں، اللہ کی قسم! کسی شخص کے دل میں اس وقت تک ایمان داخل نہیں ہو سکتا جب تک قریش کے ساتھ اللہ کی رضا کے لئے اور میری رشتہ داری کی بناء پر محبت نہ کرے۔ ٭٭ یہ حدیث یزید بن ابی زیاد عن عبداللہ بن الحارث عن العباس کی سند سے معروف ہے جب اس کا شاہد ہمیں ابن فضیل کی اعمش سے روایت کردہ حدیث میں مل گیا تو ہم نے اس کے صحیح ہونے کا فیصلہ کر دیا۔ یزید بن ابی زیاد کی حدیث درج ذیل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 7136]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7137
فحدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدَّثنا يعلى بن عُبيد، عن إسماعيل بن أبي خالد، عن يزيد بن أبي زياد، عن عبد الله بن الحارث، عن العبّاس بن عبد المطَّلب قال: قلتُ: يا رسولَ الله، إذا لَقِيَ قريشٌ بعضُها بعضًا لَقُوا بالبِشَارة، وإذا لَقِيناهم لَقُونا بوجوهٍ لا نعرفُها، قال: فغضِبَ غضبًا شديدًا، ثم قال:"والذي نفسُ محمدٍ بيده، لا يدخُلُ قلبَ رجلٍ الإيمانُ حتى يُحِبَّكم لله ولرسولِه" (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6961 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
یزید بن ابی زیاد عبداللہ بن الحارث کے واسطے سے سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب قریش لوگ ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو بہت خندہ پیشانی سے ملتے ہیں، لیکن جب وہ ہم سے ملتے ہیں تو ان کے چہروں پر ناگواری کے آثار ہوتے ہیں۔ سیدنا عباس بن عبدالمطلب فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت سخت ناراض ہوئے پھر فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ قدرت میں محمد کی جان ہے، کسی آدمی کے دل میں اس وقت تک ایمان داخل نہیں ہو سکتا جب تک وہ اللہ اور اس کے رسول کی رضا کے لئے تم سے محبت نہیں کرے گا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 7137]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں