المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1147. ذِكْرُ أَهْلِ بَدْرٍ
اہل بدر کی فضیلت کا تذکرہ
حدیث نمبر: 7142
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا محمد بن سِنان القزَّاز، حدَّثنا عمر بن يونس بن القاسم اليَمَامي، حدَّثنا عكرمة بن عمار، حدَّثنا أبو زُمَيل قال: قال ابن عباس: قال عمر بن الخطاب: كتَبَ حاطبُ بن أبي بَلْتعةَ إلى أهل مكةَ، فأطلعَ الله تعالى عليه نبيَّه ﷺ، فبعثَ عليًّا والزبيرَ في أثرٍ الكتاب، فأدركا امرأةً على بعير، فاستخرجاه (1) من قَرْنٍ من قُرونها، فأتَيا به نبيَّ الله ﷺ فقُرِئَ عليه، فأرسلَ إلى حاطب، فقال:"يا حاطبُ، إِنَّكَ (2) كتبتَ هذا الكتابَ؟ قال: نعم يا رسولَ الله، قال:"فما حملَكَ على ذلك؟" قال: يا رسولَ الله، إني والله لناصحٌ لله ولرسوله ﷺ ولكنِّي كنتُ غَريبًا في أهل مكةَ، وكان أهلي بين ظَهرانَيْهم، فخشيتُ عليهم، فكتبتُ كتابًا لا يضرُّ الله ورسوله شيئًا، وعسى أن يكون فيه منفعةٌ لأهلي، قال عمر: فاختَرطتُ سيفي فقلت: يا رسولَ الله، أمكِنِّي منه، فإنه قد كفَرَ، فأضربَ عُنقَه، فقال رسول الله ﷺ:"يا ابنَ الخطاب، وما يُدريك لعلَّ الله قد اطَّلعَ على أهلِ هذه العصابة من أهلِ بدرٍ، فقال: اعملُوا ما شئتُم، فإنِّي قد غفرتُ لكم؟!" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه هكذا، إنما اتَّفقا على حديث عبيد الله بن أبي رافع عن عليٍّ: بعثني رسولُ الله ﷺ أنا والزُّبيرَ إلى رَوضةِ خَاخٍ، بغير هذا اللفظ (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6966 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه هكذا، إنما اتَّفقا على حديث عبيد الله بن أبي رافع عن عليٍّ: بعثني رسولُ الله ﷺ أنا والزُّبيرَ إلى رَوضةِ خَاخٍ، بغير هذا اللفظ (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6966 - على شرط مسلم
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: حاطب بن ابی بلتعہ نے اہل مکہ کی طرف ایک (خفیہ) خط لکھا، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر مطلع فرما دیا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہما کو اس خط کے پیچھے روانہ فرمایا، ان دونوں نے ایک اونٹ سوار خاتون کو جا لیا اور اس کے بالوں کے جوڑے میں سے وہ خط نکال لیا، پھر وہ اسے لے کر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھ کر سنایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حاطب کو بلا بھیجا اور دریافت فرمایا: ”اے حاطب! کیا تم نے یہ خط لکھا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں یا رسول اللہ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تمہیں اس پر کس چیز نے ابھارا؟“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ کی قسم، میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا خیر خواہ ہوں لیکن میں اہل مکہ میں ایک پردیسی تھا اور میرا اہل و عیال ان کے درمیان مقیم تھا، پس مجھے ان کے بارے میں خطرہ محسوس ہوا تو میں نے ایک ایسا خط لکھ دیا جس سے اللہ اور اس کے رسول کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا تھا، اور امید تھی کہ اس سے میرے اہل و عیال کو کوئی فائدہ پہنچ جائے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنی تلوار سونت لی اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس کی گردن اڑا دوں کیونکہ اس نے کفر کیا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابن خطاب! تمہیں کیا معلوم کہ شاید اللہ تعالیٰ اہل بدر کے اس گروہ پر مطلع، آگاہ ہونے کی بناء پر ہی ان سے فرمایا: تم جو چاہو کرو، میں نے تمہیں معاف کر دیا ہے؟!“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا، ان کا اتفاق صرف عبید اللہ بن ابی رافع کی سیدنا علی سے مروی اس حدیث پر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور زبیر کو ”روضہ خاخ“ کی طرف بھیجا، مگر اس کے الفاظ اس سے مختلف ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 7142]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا، ان کا اتفاق صرف عبید اللہ بن ابی رافع کی سیدنا علی سے مروی اس حدیث پر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور زبیر کو ”روضہ خاخ“ کی طرف بھیجا، مگر اس کے الفاظ اس سے مختلف ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 7142]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل محمد بن سنان القزار، وقد توبع. أبو زميل: هو سماك بن الوليد الحنفي.» [ترقيم الرساله 7142] [ترقيم الشركة 7061] [ترقيم العلميه 6966]
الحكم على الحديث: صحيح لغيره