المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1148. خيركم خيركم لمواليه
تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے غلاموں کے لیے بہتر ہے
حدیث نمبر: 7142
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا محمد بن سِنان القزَّاز، حدَّثنا عمر بن يونس بن القاسم اليَمَامي، حدَّثنا عكرمة بن عمار، حدَّثنا أبو زُمَيل قال: قال ابن عباس: قال عمر بن الخطاب: كتَبَ حاطبُ بن أبي بَلْتعةَ إلى أهل مكةَ، فأطلعَ الله تعالى عليه نبيَّه ﷺ، فبعثَ عليًّا والزبيرَ في أثرٍ الكتاب، فأدركا امرأةً على بعير، فاستخرجاه (1) من قَرْنٍ من قُرونها، فأتَيا به نبيَّ الله ﷺ فقُرِئَ عليه، فأرسلَ إلى حاطب، فقال:"يا حاطبُ، إِنَّكَ (2) كتبتَ هذا الكتابَ؟ قال: نعم يا رسولَ الله، قال:"فما حملَكَ على ذلك؟" قال: يا رسولَ الله، إني والله لناصحٌ لله ولرسوله ﷺ ولكنِّي كنتُ غَريبًا في أهل مكةَ، وكان أهلي بين ظَهرانَيْهم، فخشيتُ عليهم، فكتبتُ كتابًا لا يضرُّ الله ورسوله شيئًا، وعسى أن يكون فيه منفعةٌ لأهلي، قال عمر: فاختَرطتُ سيفي فقلت: يا رسولَ الله، أمكِنِّي منه، فإنه قد كفَرَ، فأضربَ عُنقَه، فقال رسول الله ﷺ:"يا ابنَ الخطاب، وما يُدريك لعلَّ الله قد اطَّلعَ على أهلِ هذه العصابة من أهلِ بدرٍ، فقال: اعملُوا ما شئتُم، فإنِّي قد غفرتُ لكم؟!" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه هكذا، إنما اتَّفقا على حديث عبيد الله بن أبي رافع عن عليٍّ: بعثني رسولُ الله ﷺ أنا والزُّبيرَ إلى رَوضةِ خَاخٍ، بغير هذا اللفظ (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6966 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه هكذا، إنما اتَّفقا على حديث عبيد الله بن أبي رافع عن عليٍّ: بعثني رسولُ الله ﷺ أنا والزُّبيرَ إلى رَوضةِ خَاخٍ، بغير هذا اللفظ (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6966 - على شرط مسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: حاطب بن ابی بلتعہ نے اہل مکہ کی جانب خط لکھا، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع عطا فرما دی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو خط کے تعاقب میں بھیجا، ان دونوں نے ایک عورت کو ایک اونٹ پر جاتے ہوئے پایا، اس کی مینڈھیوں میں سے خط نکال لیا، اور لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پیش کیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں یہ خط پڑھ کر سنایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حاطب کو بلوایا اور اس سے فرمایا: اے حاطب! یہ خط تو نے لکھا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے ایسا کیوں کیا؟ اس نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، میں اللہ اور اس کے رسول کا خیر خواہ ہوں، لیکن میں اہل مکہ میں اجنبی تھا جبکہ میرے اہل و عیال انہیں لوگوں کے بیچ میں ہیں، مجھے اپنے بچوں کے بارے میں ڈر تھا، اس لئے میں نے ان کی جانب ایک خط لکھ دیا جس کا اللہ اور اس کے رسول کو کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں تھا، ہاں البتہ میرے اہل و عیال کے لئے اس میں فائدہ ہو سکتا تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے اپنی تلوار نکالی اور عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے میرے قبضے میں دیجئے، اس نے کفر کیا ہے، میں اس کو قتل کئے دیتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابن خطاب! تجھے کیا معلوم، شاید کہ اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کی ان کوتاہیوں سے آگاہ ہونے کی بناء پر ہی ان سے فرمایا تھا: تم جو چاہو عمل کرو، میں نے تمہیں بخش دیا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو اس اسناد کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ البتہ دونوں نے عبداللہ بن ابی رافع رضی اللہ عنہ کی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کردہ حدیث نقل کی ہے جس میں (سیدنا علی رضی اللہ عنہ) کا یہ فرمان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور ابومرثد اور زبیر کو روضہ خاخ کی جانب بھیجا، اس حدیث کے الفاظ بھی کچھ مختلف ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 7142]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7142 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في نسخنا الخطية: فاستخرجا، والمثبت من النسخة المحمودية كما في طبعة الميمان.
🔍 فنی نکتہ / علّت: ہمارے پاس موجود قلمی نسخوں میں "فاستخرجا" (تثنیہ کا صیغہ) لکھا ہے، جبکہ ہم نے نسخہ محمودیہ کے مطابق متن میں تصحیح کی ہے جیسا کہ طبعہ میمان میں مذکور ہے۔
(2) في المصادر: أنت، وهو الأنسب.
📝 نوٹ / توضیح: دیگر مصادر میں "أنت" (تم) کا لفظ ہے، اور یہی زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔
(3) صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل محمد بن سنان القزار، وقد توبع. أبو زميل: هو سماك بن الوليد الحنفي.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح لغیرہ" ہے (یعنی دیگر شواہد کی بنا پر صحیح ہے)۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: متابعات اور شواہد کی روشنی میں یہ سند "حسن" ہے، جس کی وجہ اس میں موجود راوی محمد بن سنان القزار ہیں جن کی متابعت بھی موجود ہے۔ 📌 اہم نکتہ: سند میں مذکور "ابو زمیل" سے مراد سماک بن ولید الحنفی ہیں۔
وأخرجه البزار (197)، وأبو يعلى كما في "المطالب العالية" لابن حجر (3756/ 1) ومن طريقه الضياء المقدسي في "المختارة" 1/ (174) - والطحاوي في "شرح المشكل" (4436) من طرق عن عمر بن يونس اليمامي، بهذا الإسناد. ورواية الضياء سقط منها ذكر عمر.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام بزار (197)، اور ابو یعلیٰ نے (جیسا کہ مطالب عالیہ 3756/1 میں ہے) روایت کیا ہے۔ ضیاء مقدسی نے "المختارہ" 1/ (174) میں اور طحاوی نے "شرح مشکل الآثار" (4436) میں عمر بن یونس الیمامی کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ضیاء مقدسی کی ایک روایت میں "عمر" (بن خطاب رضی اللہ عنہ) کا ذکر ساقط ہو گیا ہے۔
وأخرجه تامًّا ومختصرًا يعقوب بن شيبة في "مسند عمر" ص 54 - 55، والطبراني في "الأوسط" (2647)، والقطيعي في "جزء الألف دينار" (255)، والضياء المقدسي 1/ (175 - 177) من طريق أبي حذيفة موسى بن مسعود، عن عكرمة بن عمار، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے مکمل اور مختصراً یعقوب بن شیبہ نے "مسند عمر" ص 54-55 میں، طبرانی نے "الاوسط" (2647)، قطیعی نے "جزء الالف دینار" (255) اور ضیاء مقدسی 1/ (175-177) میں ابو حذیفہ موسیٰ بن مسعود از عکرمہ بن عمار کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وسلف عن ابن عبّاس في آخر حديث طويل برقم (4702).
📝 نوٹ / توضیح: یہ روایت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک طویل حدیث کے آخر میں پہلے نمبر (4702) پر گزر چکی ہے۔
وسلف أيضًا عن عبد الرحمن بن حاطب بن أبي بلتعة برقم (5393)، وذكرنا شواهده هناك.
📝 نوٹ / توضیح: یہ روایت عبد الرحمن بن حاطب بن ابی بلتعه کے واسطے سے بھی نمبر (5393) پر گزر چکی ہے، جہاں ہم نے اس کے شواہد کا تذکرہ کر دیا ہے۔
وسيأتي مختصرًا من حديث أبي هريرة برقم (7144).
🧾 تفصیلِ روایت: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے یہ روایت مختصراً آگے نمبر (7144) پر آئے گی۔
(1) البخاري (3007) و (4274) و (4890)، ومسلم (2494)، بلفظ: بعثني رسولُ الله ﷺ أنا والزبير والمقداد بن الأسود، ولم يذكر المصنف المقداد بن الأسود.
📖 حوالہ / مصدر: یہ روایت بخاری (3007، 4274، 4890) اور مسلم (2494) میں ان الفاظ کے ساتھ ہے: "رسول اللہ ﷺ نے مجھے، زبیر اور مقداد بن اسود کو بھیجا"۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یہاں مصنف نے حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کا نام ذکر نہیں کیا ہے۔
ووقع في رواية أبي عبد الرحمن السلمي عن علي عند البخاري (3983) و (6259): بعثني رسول الله ﷺ وأبا مرثد الغنوي والزبير بن العوام، وكلنا فارس.
🧾 تفصیلِ روایت: ابو عبدالرحمن سلمی کی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت میں (بخاری 3983، 6259) یہ الفاظ ہیں: "رسول اللہ ﷺ نے مجھے، ابو مرثد غنوی اور زبیر بن عوام کو بھیجا، اور ہم سب شہسوار تھے"۔