المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
4. لَا يَقْبَلُ اللَّهُ صَلَاةَ إِمَامٍ يَحْكُمُ بِغَيْرِ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ
اللہ اس امام کی نماز قبول نہیں فرماتا جو نازل کردہ احکامات کے خلاف فیصلہ کرے
حدیث نمبر: 7184
أخبرني أبو النَّضر الفقيه ومحمد بن الحسن الشامي قالا: حدثنا الحسن بن حمّاد الكوفي، حدثنا عبد الله بن محمد العَدَوي قال: سمعتُ عمرَ بن عبد العزيز على المنبر يقول: حدثني عُبادة بن عبد الله بن عُبَادة، عن طلحة بن عُبيد الله قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"ألا أيها الناسُ، لا يقبلُ اللهُ صلاةَ إِمَامٍ حَكَمَ بغيرِ ما أَنزل الله" (1) وذكر باقيَ الحديث (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7008 - سنده مظلم
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7008 - سنده مظلم
سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”آگاہ ہو جاؤ اے لوگو! اللہ تعالیٰ کسی ایسے امام (حکمران) کی نماز قبول نہیں کرتا جس نے اللہ کے نازل کردہ حکم کے سوا کسی اور حکم کے مطابق فیصلہ کیا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَحْكَامِ/حدیث: 7184]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَحْكَامِ/حدیث: 7184]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا، الحسن بن حماد الكوفي لم نتبينه ونُسب عند الباغندي: الكريزي، وعبد الله بن محمد العدوي متَّهم كما قال الذهبي في "تلخيصه"، ولذا قال: سنده مظلم. وعبادة بن عبد الله بن عبادة لم نقف له على ترجمة، ووقع في إسناد الحديث عند العقيلي في "الضعفاء": عبادة بن عبادة بن عبد الله.» [ترقيم الرساله 7184] [ترقيم الشركة 7103] [ترقيم العلميه 7008]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا
حدیث نمبر: 7185
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الربيع بن سليمان، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني مَخْرَمة بن بُكير، عن أبيه، عن بُسْر بن سعيد، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"ما مِن أحدٍ يُؤمَّر على عشرة فصاعدًا، لا يُقسِطُ فيهم، إلّا جاء يومَ القيامة في الأصفادِ والأغلال" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، ولسنا بمعذُورِين في ترك أحاديث مَخْرَمة بن بُكير أصلًا (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7009 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، ولسنا بمعذُورِين في ترك أحاديث مَخْرَمة بن بُكير أصلًا (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7009 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کسی کو بھی دس یا اس سے زیادہ افراد پر امیر بنایا جائے اور وہ ان کے درمیان انصاف نہ کرے، تو وہ قیامت کے دن بیڑیوں اور طوقوں میں جکڑا ہوا آئے گا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور مخرَمہ بن بکیر کی احادیث کو چھوڑنے میں ہمارے پاس اصلاً کوئی عذر نہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَحْكَامِ/حدیث: 7185]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور مخرَمہ بن بکیر کی احادیث کو چھوڑنے میں ہمارے پاس اصلاً کوئی عذر نہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَحْكَامِ/حدیث: 7185]
تخریج الحدیث: «إسناده قوي، من أجل مخرمة بن بكير.» [ترقيم الرساله 7185] [ترقيم الشركة 7104] [ترقيم العلميه 7009]
الحكم على الحديث: إسناده قوي
حدیث نمبر: 7186
أخبرنا أحمد بن سلمان الفقيه ﵀ ببغداد، حدثنا أبو داود سليمان بن الأشعث وجعفر بن محمد بن شاكر، قالا: حدثنا عفّان، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن عاصم، عن أبي وائل: أنَّ ناسًا سألوا أسامةَ بنَ زيد: أنْ كلِّمْ لنا هذا الرجلَ - يعني عثمان بن عفّان -! قال: قد كلَّمناه ما دون أن نفتحَ بابًا أن لا نكونَ أولَ من فتحه، ما أقول: أمراؤُكم خِياركم، بعد شيءٍ سمعتُه من رسول الله ﷺ؛ سمعت رسول الله ﷺ يقول:"يُؤتَى بالوالي الذي كان يُطاع في معصية الله ﷿، فيُؤْمَرُ به إلى النار، فيُقذَفُ فيها فتندَلِقُ به أقتابُه - يعني أمعاءَه فيستديرُ فيها كما يستديرُ الحِمارُ في الرَّحى، فيأتي عليه أهلُ طاعته من الناس فيقولون له أيْ فُلُ، أين ما كنتَ تأمرنا؟! فيقول: كنتُ آمرُكم بأمرٍ وأخالفُكم إلى غيرِه" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7010 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7010 - صحيح
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے ان سے عرض کیا کہ آپ اس شخص (عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ) سے ہمارے لیے بات کیوں نہیں کرتے؟ انہوں نے کہا: میں نے ان سے پوشیدہ طور پر وہ سب باتیں کر لی ہیں جو مجھے کرنی تھیں اور میں ایسا دروازہ نہیں کھولنا چاہتا جس کا کھولنے والا میں پہلا شخص بنوں، اور میں کسی کے متعلق یہ نہیں کہتا کہ تمہارے امراء تم میں سب سے بہتر ہیں، اس بات کے بعد جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؛ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”قیامت کے دن اس والی (حکمران) کو لایا جائے گا جس کی اللہ عزوجل کی نافرمانی میں اطاعت کی جاتی تھی، پھر اسے آگ کی طرف لے جانے کا حکم ہوگا اور اسے اس میں ڈال دیا جائے گا، تو اس کی آنتیں نکل آئیں گی، وہ ان میں اس طرح چکر لگائے گا جیسے گدھا چکی میں چکر لگاتا ہے، پھر اس کے وہ لوگ آئیں گے جو اس کی اطاعت کیا کرتے تھے اور اس سے کہیں گے: اے فلاں! کیا تو ہمیں (بھلائی کا) حکم نہیں دیتا تھا؟! وہ کہے گا: میں تمہیں ایک بات کا حکم دیتا تھا اور خود اس کے خلاف دوسرے کام کرتا تھا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَحْكَامِ/حدیث: 7186]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَحْكَامِ/حدیث: 7186]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عاصم» [ترقيم الرساله 7186] [ترقيم الشركة 7105] [ترقيم العلميه 7010]
الحكم على الحديث: حديث صحيح