المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
4. لا يقبل الله صلاة إمام يحكم بغير ما أنزل الله
اللہ اس امام کی نماز قبول نہیں فرماتا جو نازل کردہ احکامات کے خلاف فیصلہ کرے
حدیث نمبر: 7185
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الربيع بن سليمان، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني مَخْرَمة بن بُكير، عن أبيه، عن بُسْر بن سعيد، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"ما مِن أحدٍ يُؤمَّر على عشرة فصاعدًا، لا يُقسِطُ فيهم، إلّا جاء يومَ القيامة في الأصفادِ والأغلال" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، ولسنا بمعذُورِين في ترك أحاديث مَخْرَمة بن بُكير أصلًا (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7009 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، ولسنا بمعذُورِين في ترك أحاديث مَخْرَمة بن بُكير أصلًا (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7009 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس آدمی کو دس آدمیوں کا ذمہ دار بنایا گیا، (اگر) وہ ان کے درمیان انصاف نہیں کرے گا، قیامت کے اس کو طوق اور ہتھکڑیاں پہنا کر لایا جائے گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اور مخرمہ بن بکیر کی روایت چھوڑنے میں ہمارے پاس کوئی معقول عذر نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأحكام/حدیث: 7185]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7185 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده قوي من أجل مخرمة بن بكير.
⚖️ درجۂ حدیث: مخرمہ بن بکیر کی موجودگی کی وجہ سے اس کی سند 'قوی' ہے۔
وأخرجه أحمد 15 / (9573) من طريق سعيد المقبري وعجلان، عن أبي هريرة. ولفظه: "ما من أمير عشرة إلّا يؤتى به يوم القيامة مغلولًا، لا يفكُّه إلا العدلُ، أو يُوبِقه الجَوْر". وانظر تتمة تخريجه وطرقه هناك.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (15/9573) نے سعید المقبری اور عجلان عن ابی ہریرہ کے طریق سے روایت کیا ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: حدیث کے الفاظ ہیں: "دس افراد کا جو بھی امیر ہو گا، اسے قیامت کے دن بیڑیوں میں جکڑ کر لایا جائے گا، اسے صرف اس کا عدل ہی چھڑا سکے گا یا اس کا ظلم اسے تباہ کر دے گا"۔ اس کی مزید تفصیل اور طرق کے لیے وہیں (مسند احمد میں) مراجعت کریں۔
(2) انظر كلامه بإثر الحديث (722).
📖 حوالہ / مصدر: ان کی کلام حدیث نمبر (722) کے بعد ملاحظہ کریں۔