🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

4. إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يُوصِيكُمْ بِالْأَقْرَبِ فَالْأَقْرَبِ
بے شک اللہ تعالیٰ تمہیں قریبی رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک کی وصیت فرماتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7432
ما أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عبد الوهاب، أخبرنا جعفر بن عَوْن، أخبرنا المسعودي، عن إياد بن لَقِيط، عن أبي رِمْثة، قال: انتهيتُ إلى رسول الله ﷺ فسمعتُه يقول:"أُمَّكَ وأباك، وأُختَك وأخاك، ثم أدْناكَ أدْناكَ" (1) . ومنها:
سیدنا ابورمثہ فرماتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اپنی ماں کے ساتھ، اپنے باپ کے ساتھ، اپنی بہن کے ساتھ، اپنے بھائی کے ساتھ حسن سلوک کر (اور رشتہ داری کے قرب کے مراتب کا لحاظ کرتے ہوئے) جو زیادہ قریبی ہو، وہ زیادہ حسن سلوک کا مستحق ہے۔ چوتھی شاہد حدیث: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7432]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7433
ما حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الرّبيع بن سليمان، حدثنا أسَد بن موسى حدثنا إسماعيل بن عيّاش عن بَحِير بن سعد، عن خالد بن مَعْدان عن المِقْدام بن مَعْدي كَرِبَ، عن النبيِّ ﷺ قال:"إنَّ الله تعالى يُوصِيكم الأَقرَب فالأقربَ" (2) . إسماعيل بن عياش أحدُ أئمّة أهلِ الشام إنما نُقِمَ عليه سوءُ الحفظ فقط. ومنها:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7246 - إنما نقم على إسماعيل سوء الحفظ فقط
مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ جو زیادہ قریبی رشتہ دار ہو، اس کے ساتھ اتنا زیادہ حسن سلوک کرو۔ ٭٭ اسماعیل بن عیاش اہل شام کے ائمہ میں سے ہیں، ان کے اوپر سوء حفظ کا الزام ہے۔ پانچویں شاہد حدیث یہ ہے: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7433]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7434
ما أخبرَناه أبو عبد الله محمد بن علي الصَّنعاني بمكة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن الزُّهْري، عن عُرْوة، عن عائشة قالت: قال رسول الله ﷺ:"نِمتُ فرأيتُني في الجنَّة، فسمعتُ صوتَ قارئٍ يقرأُ، فقلت: مَن هذا؟ قالوا: حارثةُ بن النُّعمان، فقال رسول الله ﷺ:"كذلك البِرُّ"؛ وكان أبرَّ الناسِ بأُمِّه (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة. قال ابن عيينة (2) وغيرُه، قالوا فيه: دخل رسولُ الله ﷺ الجنةَ، ولم يذكروا فيه النومَ ولا بِرَّ أُمِّه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7247 - على شرط البخاري ومسلم
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں سویا تو میں نے خود کو خواب میں جنت میں دیکھا، میں نے ایک قاری کی آواز سنی، میں نے پوچھا: وہ کون ہے؟ فرشتوں نے بتایا کہ وہ حارثہ بن نعمان ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خدمت کا یہی صلہ ملا کرتا ہے، وہ اپنی ماں کی بہت خدمت کیا کرتا تھا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو اس اسناد کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ ٭٭ ابن عیینہ اور دیگر محدثین نے یہی حدیث روایت کی ہے، انہوں نے یہ بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنت میں داخل ہوئے، اس میں انہوں نے یہ خواب کا ذکر نہیں کیا اور نہ ہی ماں کی خدمت کا ذکر ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7434]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں