المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
26. مَنْ كَسَا مُسْلِمًا ثَوْبًا لَمْ يَزَلْ فِي سِتْرِ اللَّهِ
جس نے کسی مسلمان کو کپڑا پہنایا، وہ ہمیشہ اللہ کی پردہ پوشی میں رہے گا
حدیث نمبر: 7610
حدثنا أبو عليٍّ الحافظ، أخبرنا عَبْدان الأهوازي، حدثنا إبراهيم بن مُسلم (3) بن رُشَيد إمامُ الجامع بالبصرة، حدثنا أبو أحمد محمد بن عبد الله بن الزُّبَير الزُّبيري، حدثنا خالد بن طَهْمان عن حُصين قال: كنتُ عند ابن عباس، فجاء سائلٌ فسألَ فقال له ابنُ عباس: أتشهدُ أن لا إله إلَّا الله؟ قال: نعم، قال: وتشهدُ أنَّ محمدًا رسول الله؟ قال: نعم، قال: وتُصلِّي الخَمس؟ قال: نعم، قال وتصومُ رمضان؟ قال: نعم، قال: أَمَا إِنَّ لك علينا حقًّا، يا غلامُ، اكْسُه ثوبًا، فإِنِّي سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"مَن كَسَا مسلمًا ثوبًا، لم يَزَلْ في سَتْرِ الله ما دام عليه منه خَيطٌ أو سِلْكٌ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. آخر كتاب اللباس كتاب الطب (1) ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7422 - خالد بن طهمان ضعيف
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. آخر كتاب اللباس كتاب الطب (1) ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7422 - خالد بن طهمان ضعيف
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کے پاس ایک سائل آیا اور اس نے سوال کیا، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس سے پوچھا: کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں، انہوں نے پوچھا: کیا تم گواہی دیتے ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں، انہوں نے پوچھا: کیا تم پانچ نمازیں پڑھتے ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں، انہوں نے پوچھا: کیا تم رمضان کے روزے رکھتے ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں، انہوں نے فرمایا: سنو! تمہارا ہم پر حق ہے، اے لڑکے! اسے ایک لباس پہناؤ، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس نے کسی مسلمان کو لباس پہنایا، وہ اس وقت تک اللہ کی پناہ و حفاظت میں رہتا ہے جب تک اس (لباس) کا ایک دھاگا یا تارہ بھی اس پر باقی رہتا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ اللِّبَاسِ/حدیث: 7610]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ اللِّبَاسِ/حدیث: 7610]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، إبراهيم بن مسلم أو سَلْم لم نتبين حاله كما ذكرنا، وخالد بن طهمان ضعيف، وبه أعلّه الذهبي في "التلحيص"» [ترقيم الرساله 7610] [ترقيم الشركة 7518] [ترقيم العلميه 7422]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف