المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
9. التَّدَاوِي مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ بِالْقُسْطِ الْبَحْرِيِّ وَالزَّيْتِ
قسطِ بحری اور زیتون کے تیل سے "ذات الجنب" (پسلی کے درد) کا علاج
حدیث نمبر: 7630
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بكر بن سهل الدِّمياطي، حدثنا عمرو بن بكر السَّكسَّكي، حدثنا إبراهيم بن أبي عَبْلة، قال: سمعتُ أبا أُبيِّ ابنَ أَمْ حَرَام -وكان قد صلَّى مع رسول الله ﷺ الصلاتين- يقول: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"عليكم بالسَّنَا والسَّنُّوت، فإنَّ فيهما شِفاءً من كلَّ داءٍ إِلَّا السامَ (2) " قيل: يا رسولَ الله، وما السامُ؟ قال:"الموتُ" (3) . قال إبراهيم بن أبي عَبْلة: والسَّنُّوت: الشِّبِتُّ. قال عمرو بن بكر: وغيرُه يقول: السَّنُّوت: هو العسل الذي يكون في الزِّق، وهو قول الشاعر: همُ السَّمْنُ بالسَّنُّوتِ لا أَلْسَ فيهمُ … وهم يمنعون الجارَ أنْ يُتَقرَّدا (1)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7442 - عمرو بن بكر اتهمه ابن حبان
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7442 - عمرو بن بكر اتهمه ابن حبان
ابوابی بن ام حزام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ دو نمازیں پڑھی ہیں، آپ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم سنا اور سنوت کو لازم پکڑو، کیونکہ اس میں سام کے سوا ہر چیز کا علاج ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی گئی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ” سام “ کس کو کہتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: موت۔ ابراہیم بن ابی عبلہ فرماتے ہیں: سنوت سے مراد ” زیرہ “۔ اور دیگر کئی محدثین کا موقف یہ ہے کہ سنوت اس شہد کو کہتے ہیں جو گھی والے مشکیزے میں ہوتا ہے۔ جیسا کہ ایک شاعر نے کہا ہے۔ وہ گھی کے ساتھ سنوت کی طرح ہیں ان دونوں میں خیر نہیں ہے وہ تو پڑوسی کو خالی نہیں ہونے دیتے۔ (بعض نے کہا ہے کہ سنوت ” کلونجی “ کو کہتے ہیں) [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطِّبِّ/حدیث: 7630]
حدیث نمبر: 7631
أخبرنا أحمد بن كامل القاضي، حدثنا محمد بن سعد العَوْفي، حدثنا عمرو ابن محمد بن أبي رَزين، حدثنا شُعْبة (2) ، عن خالد الحذَّاء، عن ميمون أبي عبد الله، عن زيد بن أرقم قال: أمَرَنا رسولُ الله ﷺ أن نَتداوَى من ذات الجَنْب بالقُسْط البحريِّ والزَّيت (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد رواه قَتَادة عن ميمون أبي عبد الله:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7443 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد رواه قَتَادة عن ميمون أبي عبد الله:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7443 - صحيح
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم ” ذات الجنب “ (یعنی نمونیا) کا علاج ” قسط البحری “ (یعنی عود ہندی) اور زیتون کے تیل کے ساتھ کریں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اور اسی حدیث کو قتادہ نے میمون ابوعبداللہ سے روایت کیا ہے۔ (جیسا کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطِّبِّ/حدیث: 7631]
حدیث نمبر: 7632
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا معاذ بن هشام، حدثني أبي، عن قَتَادة، عن أبي عبد الله، عن زيد بن أرقَم قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يَنعَتُ الزَّيتَ والوَرْسَ من ذات الجَنْب (2) . قال قَتَادة: تَلُدُّه من الجانب الذي يَشتَكي. وقد رواه عبد الرحمن بن ميمون عن أبيه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7444 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7444 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
ابوعبداللہ، زید بن ارقم کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ذات الجنب (نمونیا) کے لئے زیتون کے تیل اور ورس (زرد رنگ کی گھاس نما ایک بوٹی) کی بہت تعریف کرتے ہوئے سنا ہے۔ سیدنا قتادہ کہتے ہیں: جو جانب متاثر ہو، منہ کی اس جانب سے دوا پلائی جائے۔ اس حدیث کو عبدالرحمن بن میمون نے اپنے والد سے روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطِّبِّ/حدیث: 7632]
حدیث نمبر: 7633
أخبرَناه عبد الله بن إسحاق الخُراساني، حدثنا عبد الملك بن محمد الرَّقَاشي، حدثنا يعقوب بن إسحاق الحَضرَمي، حدثني عبد الرحمن بن ميمون، حدثني أبي، عن زيد بن أرقَم قال: نَعَتَ لنا رسول الله ﷺ من ذاتِ الجَنْب وَرْسًا وزيتًا وقُسْطًا (1) .
عبدالرحمن بن میمون اپنے والد کے حوالے سے سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذات الجنب کے لئے ہمیں ورس (زرد رنگ کی گھاس نما ایک بوٹی)، زیتون کے تیل اور قسط (عود ہندی) کی بہت تاکید فرمائی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطِّبِّ/حدیث: 7633]
حدیث نمبر: 7634
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن علي الصنعاني بمكة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن الزُّهْري، أخبرني أبو بكر بن عبد الرحمن ابن الحارث بن هشام، عن أسماء بنت عُميس قالت: أولُ ما اشتَكى رسولُ الله ﷺ في بيت ميمونة، فاشتدَّ وجعُه (2) حتى أُغميَ عليه، قال: فتشاور نساءٌ في لَدِّه فلَدُّوه، فلمَّا أفاقَ قال:"ما هذا؟! فِعل نساءٍ جِئْنَ من هاهنا؟" وأشار إلى أرض الحَبَشة، وكانت فيهنَّ أسماءُ بنت عُميس، فقالوا كنا نَتَّهم بك ذاتَ الجَنْب يا رسولَ الله، قال:"إنَّ ذلك لداءٌ ما كان الله لِيَقذِفَني به، لا يَبقَيَنَّ (3) في البيت أحدٌ إِلَّا التَدَّ إِلَّا عَمَّ رسولِ الله"؛ يعني عباسًا، قال: فلقد الْتدَّتْ ميمونةُ يومئذٍ وأنها لصائمةٌ بعَزيمةِ رسول الله ﷺ (4) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7446 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7446 - على شرط البخاري ومسلم
سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر بیمار ہوئے، آپ کی تکلیف میں اس قدر تیزی آئی کہ آپ بے ہوش ہو گئے، گھر کی خواتین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ” لد “ (منہ کے کنارے سے دوا پلانے) کے بارے میں مشورہ کیا۔ (دوا پلانے کا یہ ایک خاص طریقہ ہوتا تھا) مشورے کے بعد انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منہ کے ایک کنارے سے دوا پلا دی۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو افاقہ ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سرزمین حبشہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اس علاقے سے آنے والی عورتوں نے یہ کیا ہے، ان خواتین میں سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بھی تھیں۔ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سمجھ رہے تھے کہ آپ کو ” ذات الجنب “ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو بیماری ہے، اللہ تعالیٰ مجھے اس میں مبتلا نہیں کرے گا۔ اس وقت گھر میں جتنے لوگ ہیں سب کو منہ کے کنارے سے دوا پلائی جائے، سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے۔ اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی بناء پر ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے بھی منہ کے کنارے سے دوا پی حالانکہ وہ اس دن روزے سے تھیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطِّبِّ/حدیث: 7634]