المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1. باب:
باب:
حدیث نمبر: 7793
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا هارون بن سليمان، حدثنا عبد الرحمن بن مَهدي. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرحمن، عن سفيان، عن سَلَمة بن كُهَيل، عن عِمران بن الحَكَم (1) السُّلَمي، عن ابن عباس قال: قالت قريشٌ للنبيِّ ﷺ: ادعُ لنا ربَّك أن يجعلَ لنا الصَّفا ذهبًا ونؤمنَ بك، قال:"أفتَفعَلون؟" قالوا: نعم، فدعا، فأتاه جبريلُ ﵇ فقال:"إنَّ الله تعالى يقرأُ عليك السَّلامَ، ويقول: إن شئتَ أصبحَ الصَّفا ذهبًا، فمن كَفَرَ بعدَ ذلك عذّبتُه عذابًا لا أُعذِّبُه أحدًا من العالَمِين، وإن شئتَ فَتَحتُ لهم بابَ التَّوبة والرَّحمة، قال: بل بابَ التَّوبةِ والرَّحمة" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7601 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7601 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قریش نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: آپ اپنے رب سے دعا کریں کہ وہ ہمارے لیے صفا پہاڑ کو سونے کا بنا دے تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم ایسا کرو گے؟“ انہوں نے کہا: ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی، پھر جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے اور عرض کیا: ”بے شک اللہ تعالیٰ آپ کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے: اگر آپ چاہیں تو صفا پہاڑ سونا بن جائے گا، لیکن اس کے بعد جس نے کفر کیا تو میں اسے ایسا عذاب دوں گا جو جہان والوں میں سے کسی کو نہ دیا ہوگا، اور اگر آپ چاہیں تو میں ان کے لیے توبہ اور رحمت کا دروازہ کھول دوں“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ توبہ اور رحمت کا دروازہ۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّوْبَةِ وَالْإِنَابَةِ/حدیث: 7793]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّوْبَةِ وَالْإِنَابَةِ/حدیث: 7793]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 7793] [ترقيم الشركة 7700] [ترقيم العلميه 7601]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح