المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
2. مِنْ سَعَادَةِ الْمَرْءِ أَنْ يَطُولَ عُمْرُهُ وَيَرْزُقَهُ اللَّهُ الْإِنَابَةَ .
انسان کی خوش بختی یہ ہے کہ اس کی عمر طویل ہو اور اللہ اسے رجوع و انابت کی توفیق دے
حدیث نمبر: 7793
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا هارون بن سليمان، حدثنا عبد الرحمن بن مَهدي. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرحمن، عن سفيان، عن سَلَمة بن كُهَيل، عن عِمران بن الحَكَم (1) السُّلَمي، عن ابن عباس قال: قالت قريشٌ للنبيِّ ﷺ: ادعُ لنا ربَّك أن يجعلَ لنا الصَّفا ذهبًا ونؤمنَ بك، قال:"أفتَفعَلون؟" قالوا: نعم، فدعا، فأتاه جبريلُ ﵇ فقال:"إنَّ الله تعالى يقرأُ عليك السَّلامَ، ويقول: إن شئتَ أصبحَ الصَّفا ذهبًا، فمن كَفَرَ بعدَ ذلك عذّبتُه عذابًا لا أُعذِّبُه أحدًا من العالَمِين، وإن شئتَ فَتَحتُ لهم بابَ التَّوبة والرَّحمة، قال: بل بابَ التَّوبةِ والرَّحمة" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7601 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7601 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: قریش نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں عرض کی: آپ ہمارے لیے دعا کریں کہ صفا پہاڑ ہمارے لیے سونا بن جائے، تب ہم آپ پر ایمان لائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم واقعی ایمان لے آؤ گے۔ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ تب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا مانگی۔ فوراً سیدنا جبریل امین علیہ السلام حاضر بارگاہ ہو گئے اور عرض کی: اللہ تعالیٰ آپ کو سلام ارشاد فرماتا ہے اور فرماتا ہے، اگر آپ کی خواہش ہے تو ہم کوہ صفا سونے کا بنا دیتے ہیں، لیکن اگر اس کے باوجود کسی نے انکار کیا تو پھر میں ان کو ایسا عذاب دونگا جو ساری کائنات میں کبھی کسی کو نہیں دیا ہو گا۔ اور اگر آپ چاہیں تو میں ان کے لیے توبہ اور رحمت کے دروازے کھول دیتا ہوں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے یا اللہ۔ ان کے لیے توبہ اور رحمت کے دروازے کھول دے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّوْبَةِ وَالْإِنَابَةِ/حدیث: 7793]