🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

43. باب اخْتِيَارِ الْفِطْرِ
باب: سفر میں روزہ نہ رکھنا بہتر ہے اس کے قائلین کی دلیل۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2407
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَسَنٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يُظَلَّلُ عَلَيْهِ وَالزِّحَامُ عَلَيْهِ. فَقَالَ:" لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جس پر سایہ کیا جا رہا تھا اور اس پر بھیڑ لگی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی کا کام نہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2407]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا ایک شخص کو سایہ کیا جا رہا ہے اور لوگ اس پر ازدحام کیے ہوئے ہیں (روزے اور گرمی کے باعث وہ غش کھا گیا تھا) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی کا کام نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2407]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الصوم 36 (1946)، صحیح مسلم/الصیام 15 (1115)، سنن النسائی/الصیام 27 (2264)، (تحفة الأشراف: 2645)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/299، 317، 319، 352، 399) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1946) صحيح مسلم (1115)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2408
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ الرَّاسِبِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ سَوَادَةَ الْقُشَيْرِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ إِخْوَةِ بَنِي قُشَيْرٍ، قَالَ: أَغَارَتْ عَلَيْنَا خَيْلٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْتَهَيْتُ، أَوْ قَالَ: فَانْطَلَقْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَأْكُلُ. فَقَالَ: اجْلِسْ فَأَصِبْ مِنْ طَعَامِنَا هَذَا. فَقُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ. قَالَ: اجْلِسْ أُحَدِّثْكَ عَنِ الصَّلَاةِ وَعَنِ الصِّيَامِ" إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى وَضَعَ شَطْرَ الصَّلَاةِ أَوْ نِصْفَ الصَّلَاةِ وَالصَّوْمَ عَنِ الْمُسَافِرِ وَعَنِ الْمُرْضِعِ أَوِ الْحُبْلَى وَاللَّهِ لَقَدْ قَالَهُمَا جَمِيعًا أَوْ أَحَدَهُمَا". قَالَ: فَتَلَهَّفَتْ نَفْسِي أَنْ لَا أَكُونَ أَكَلْتُ مِنْ طَعَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
انس بن مالک ۱؎ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے (جو بنی قشیر کے برادران بنی عبداللہ بن کعب کے ایک فرد ہیں) وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھوڑ سوار دستے نے ہم پر حملہ کیا، میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا، یا یوں کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چلا، آپ کھانا تناول فرما رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیٹھو، اور ہمارے کھانے میں سے کچھ کھاؤ، میں نے کہا: میں روزے سے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا بیٹھو، میں تمہیں نماز اور روزے کے بارے میں بتاتا ہوں: اللہ نے (سفر میں) نماز آدھی کر دی ہے، اور مسافر، دودھ پلانے والی، اور حاملہ عورت کو روزہ رکھنے کی رخصت دی ہے، قسم اللہ کی! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کا ذکر کیا یا ان دونوں میں سے کسی ایک کا، مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کھانے میں سے نہ کھا پانے کا افسوس رہا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2408]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ (کعبی) سے روایت ہے اور یہ بنی عبداللہ بن کعب کے خاندان سے ہیں جو کہ بنی قشیر کے بھائی تھے۔ (انس بن مالک رضی اللہ عنہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم تھے وہ خزرجی انصاری ہیں) (کہا) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سواروں نے ہم پر حملہ کر دیا تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچا اور (دیکھا کہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ تناول فرما رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آؤ! بیٹھو اور ہمارے اس طعام میں سے کچھ کھا لو۔ میں نے عرض کیا: میں روزے سے ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیٹھ جاؤ میں تمہیں نماز اور روزے کے متعلق بتاتا ہوں۔ اللہ نے مسافر سے آدھی نماز اور روزہ معاف فرما دیا ہے اور دودھ پلانے والی اور حاملہ عورت سے بھی روزہ معاف کر دیا ہے۔ قسم اللہ کی! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کا ذکر فرمایا تھا یا کسی ایک کا۔ بیان کرتے ہیں کہ مجھے (بعد میں) بہت افسوس ہوا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کھانے میں سے کیوں نہ کھایا۔ (کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر کھانا سعادت اور باعث برکت تھا اور روزہ نفل محض۔) [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2408]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الصوم 21 (715)، سنن النسائی/الصیام 28 (2276)، سنن ابن ماجہ/الصیام 12 (1667)، (تحفة الأشراف: 1732)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/347، 5/29) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم خاص کے علاوہ ہیں۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (2025)
رواه النسائي (2317 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں