🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

باب: تاجر روزہ چھوڑ سکتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2403
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْمَدَنِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ حَمْزَةَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْزَةَ الْأَسْلَمِيَّ، يَذْكُرُ أَنَّ أَبَاهُ، أَخْبَرَهُ عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قُلْتُ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي صَاحِبُ ظَهْرٍ أُعَالِجُهُ أُسَافِرُ عَلَيْهِ وَأَكْرِيهِ، وَإِنَّهُ رُبَّمَا صَادَفَنِي هَذَا الشَّهْرُ يَعْنِي رَمَضَانَ، وَأَنَا أَجِدُ الْقُوَّةَ وَأَنَا شَابٌّ وَأَجِدُ بِأَنْ أَصُومَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَهْوَنَ عَلَيَّ مِنْ أَنْ أُؤَخِّرَهُ فَيَكُونُ دَيْنًا، أَفَأَصُومُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْظَمُ لِأَجْرِي، أَوْ أُفْطِرُ؟ قَالَ: أَيُّ ذَلِكَ شِئْتَ يَا حَمْزَةُ".
حمزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! میں سواریوں والا ہوں، انہیں لے جایا کرتا ہوں، ان پر سفر کرتا ہوں اور انہیں کرایہ پر بھی دیتا ہوں، اور بسا اوقات مجھے یہی مہینہ یعنی رمضان مل جاتا ہے اور میں جوان ہوں اپنے اندر روزہ رکھنے کی طاقت پاتا ہوں، میں یہ بھی سوچتا ہوں کہ روزہ مؤخر کرنے سے آسان یہ ہے کہ اسے رکھ لیا جائے، تاکہ بلاوجہ قرض نہ بنا رہے، اللہ کے رسول! میرے لیے روزہ رکھنے میں زیادہ ثواب ہے یا چھوڑ دینے میں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حمزہ! جیسا بھی تم چاہو۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2403]
جناب حمزہ بن محمد بن حمزہ اسلمی بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد نے ان کے دادا سے بیان کیا (کہ سیدنا حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ نے) عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے سواری کے جانور رکھے ہوئے ہیں، میرا کام انہی سے متعلق ہے، میں سفر میں رہتا ہوں، جانور کرائے پر چلاتا ہوں اور بسا اوقات یہ رمضان کا مہینہ بھی آ جاتا ہے اور میں اپنے اندر طاقت پاتا ہوں اور جوان ہوں، اے اللہ کے رسول! میں روزے مؤخر کرنے کی بجائے رکھ لینا زیادہ آسان سمجھتا ہوں، ورنہ میرے ذمے رہ جائیں گے، تو اے اللہ کے رسول! کیا مجھے روزہ رکھنے میں زیادہ اجر ملے گا یا افطار کرنے میں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے حمزہ! جو چاہو کر سکتے ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2403]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد المؤلف بہذا السیاق، وانظر ماقبلہ، (تحفة الأشراف: 3440) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے رواة محمد بن حمزة اور محمد بن عبد المجید لین الحدیث ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
محمد بن عبدالمجيد و حمزة بن محمد بن حمزة : مجهولان انظرالتحرير (6096،1531)
والحديث السابق (الأصل :2402) صحيح،يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 89

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2404
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ حَتَّى بَلَغَ عُسْفَانَ، ثُمَّ دَعَا بِإِنَاءٍ فَرَفَعَهُ إِلَى فِيهِ لِيُرِيَهُ النَّاسَ وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ. فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ: قَدْ" صَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَفْطَرَ، فَمَنْ شَاءَ صَامَ وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے مکہ کے لیے نکلے یہاں تک کہ مقام عسفان پر پہنچے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (پانی وغیرہ کا) برتن منگایا اور اسے اپنے منہ سے لگایا تاکہ آپ اسے لوگوں کو دکھا دیں (کہ میں روزے سے نہیں ہوں) اور یہ رمضان میں ہوا، اسی لیے ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ بھی رکھا ہے اور افطار بھی کیا ہے، تو جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2404]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے مکہ کی طرف روانہ ہوئے حتیٰ کہ مقام عسفان پر پہنچ گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن منگوایا اور اسے اپنے منہ کی طرف بلند کیا تاکہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیں (کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم افطار کر رہے ہیں) اور یہ رمضان کا واقعہ ہے۔ چنانچہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے: بلاشبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا ہے اور چھوڑا بھی، سو جو چاہے رکھ لے اور جو چاہے افطار کر لے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2404]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الصوم 38 (1948)، صحیح مسلم/الصیام 15 (1113)، سنن النسائی/الصیام 31 (2293)، (تحفة الأشراف: 5749)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الصیام 10(1661)، موطا امام مالک/الصیام 7 (21)، مسند احمد (1/244، 350)، سنن الدارمی/الصوم 15 (1749) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1948) صحيح مسلم (1133)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2405
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ، فَصَامَ بَعْضُنَا وَأَفْطَرَ بَعْضُنَا." فَلَمْ يَعِبْ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ وَلَا الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ رمضان میں سفر کیا تو ہم میں سے بعض لوگوں نے روزہ رکھا اور بعض نے نہیں رکھا تو نہ تو روزہ توڑنے والوں نے، روزہ رکھنے والوں پر عیب لگایا، اور نہ روزہ رکھنے والوں نے روزہ توڑنے والوں پر عیب لگایا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2405]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، انہوں نے کہا: ہم نے رمضان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کیا تو ہم میں سے کچھ نے روزہ رکھا اور کچھ نے نہ رکھا۔ چنانچہ روزے داروں نے چھوڑنے والوں پر یا چھوڑنے والوں نے روزے داروں پر کوئی عیب نہ لگایا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2405]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الصوم 37 (1947)، صحیح مسلم/الصیام 15 (1118)، (تحفة الأشراف: 660)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصیام 7 (23) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1947) صحيح مسلم (1118)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2406
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، وَوَهْبُ بْنُ بَيَانٍ، الْمَعْنَى قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ قَزَعَةَ، قَالَ: أَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ وَهُوَ يُفْتِي النَّاسَ وَهُمْ مُكِبُّونَ عَلَيْهِ، فَانْتَظَرْتُ خَلْوَتَهُ. فَلَمَّا خَلَا سَأَلْتُهُ عَنْ صِيَامِ رَمَضَانَ فِي السَّفَرِ. فَقَالَ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ عَامَ الْفَتْحِ. فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ وَنَصُومُ حَتَّى بَلَغَ مَنْزِلًا مِنَ الْمَنَازِلِ، فَقَالَ:" إِنَّكُمْ قَدْ دَنَوْتُمْ مِنْ عَدُوِّكُمْ وَالْفِطْرُ أَقْوَى لَكُمْ". فَأَصْبَحْنَا مِنَّا الصَّائِمُ وَمِنَّا الْمُفْطِرُ. قَالَ: ثُمَّ سِرْنَا فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا، فَقَالَ:" إِنَّكُمْ تُصَبِّحُونَ عَدُوَّكُمْ وَالْفِطْرُ أَقْوَى لَكُمْ، فَأَفْطِرُوا". فَكَانَتْ عَزِيمَةً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: ثُمَّ لَقَدْ رَأَيْتُنِي أَصُومُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ ذَلِكَ وَبَعْدَ ذَلِكَ.
قزعہ کہتے ہیں کہ میں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور وہ لوگوں کو فتوی دے رہے تھے، اور لوگ ان پر جھکے جا رہے تھے تو میں تنہائی میں ملاقات کی غرض سے انتظار کرتا رہا، جب وہ اکیلے رہ گئے تو میں نے سفر میں رمضان کے مہینے کے روزے کا حکم دریافت کیا، انہوں نے کہا: ہم فتح مکہ کے سال رمضان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر پر نکلے، سفر میں اللہ کے رسول بھی روزے رکھتے تھے اور ہم بھی، یہاں تک کہ جب منزلیں طے کرتے ہوئے ایک پڑاؤ پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب تم دشمن کے بالکل قریب آ گئے ہو، روزہ چھوڑ دینا تمہیں زیادہ توانائی بخشے گا، چنانچہ دوسرے دن ہم میں سے کچھ لوگوں نے روزہ رکھا اور کچھ نے نہیں رکھا، پھر ہمارا سفر جاری رہا پھر ہم نے ایک جگہ قیام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صبح تم دشمن کے پاس ہو گے اور روزہ نہ رکھنا تمہارے لیے زیادہ قوت بخش ہے، لہٰذا روزہ چھوڑ دو، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے تاکید تھی۔ ابوسعید کہتے ہیں: پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس سے پہلے بھی روزے رکھے اور اس کے بعد بھی۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2406]
قزعہ بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ وہ لوگوں کے سوالوں کے جواب دے رہے تھے اور لوگ ان پر جھکے ہوئے تھے۔ میں نے بھیڑ کے چھٹ جانے کا انتظار کیا۔ جب وہ اکیلے ہو گئے تو میں نے ان سے سفر میں رمضان کے روزوں کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے کہا: فتح مکہ کے سال ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے رکھے، تو ہم بھی رکھتے رہے حتیٰ کہ ایک منزل پر پہنچے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اب اپنے دشمن کے قریب آ گئے ہو اور افطار کرنا تمہارے لیے زیادہ قوت کا باعث ہے۔ تو ہم میں سے کچھ نے روزہ رکھا اور کچھ نے افطار کر لیا۔ پھر ہم چلے اور ایک منزل پر پڑاؤ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ صبح کو اپنے دشمن کے مقابل آنے والے ہو اور افطار کرنا تمہارے لیے زیادہ قوت کا باعث ہے، سو افطار کر لو۔ چنانچہ یہ حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے تاکیدی تھا۔ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے یاد ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس سے پہلے روزے رکھے ہیں اور بعد میں بھی۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2406]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الصیام 16 (1120)، (تحفة الأشراف: 4283)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الصیام 31 (2311)، مسند احمد (3/35) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1120)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں