المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
41. الْحَمَّامُ حَرَامٌ عَلَى نِسَاءِ هَذِهِ الْأُمَّةِ .
اس امت کی عورتوں کے لیے (پبلک) حمام میں جانا حرام ہے
حدیث نمبر: 7977
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد بن عبد الله البغدادي، حدثنا يحيى بن عثمان بن صالح السَّهْمي، حدثنا عمرو بن الرَّبيع بن طارق، حدثنا يحيى بن أيوب، حدثني أبو يوسف يعقوب بن إبراهيم، عن محمد بن ثابت بن شُرَحْبيل القُرشي، فذكر الحديث (3) .
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی سابقہ حدیث کی ہی ایک اور سند سے توثیق ہے جس کے راوی امام ابویوسف (قاضی) ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَدَبِ/حدیث: 7977]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره كسابقه» [ترقيم الرساله 7977]
الحكم على الحديث: حسن لغيره ك
حدیث نمبر: 7978
أخبرنا إسماعيل بن محمد بن الفضل بن محمد الشَّعراني، حدثنا جَدِّي، حدثنا سعيد بن أبي مريم، حدثنا نافع بن يزيد، حدثني يحيى بن أبي أُسَيد، عن عُبيد بن أبي سَوِيَّة، أنه سمع سُبَيعة الأسلميّة تقول: دخل على عائشةَ نِسوةٌ من أهل الشام فقالت عائشةُ: ممن أنتنَّ؟ فقلن: من أهل حِمصَ، فقالت: صَواحبُ الحمَّامات؟ فقُلنَ: نعم، قالت عائشةُ: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"الحمَّامُ حرامٌ على نساءِ أُمتي". فقالت امرأةٌ منهنَّ: فلي بناتٌ أمشُطُهنَّ بهذا الشَّراب، قالت: بأي الشَّراب؟ فقالت: الخمر، فقالت عائشة: أفكنتِ طيّبةَ النَّفْسِ أن تمتشطي بدَمِ خِنْزير؟ قالت: لا، قالت: فإنه مِثلُه (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7784 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7784 - صحيح
سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اہل حمص کی خواتین سے، جو حمام استعمال کرتی تھیں، فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”حمام میری امت کی عورتوں پر حرام ہے۔“ ان میں سے ایک خاتون نے پوچھا: میں اپنی بیٹیوں کے بال اس مشروب (شراب) سے کنگھی کرتی ہوں؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: کون سا مشروب؟ اس نے کہا: شراب، تو آپ نے فرمایا: کیا تم اس بات پر خوش ہو گی کہ خنزیر کے خون سے کنگھی کرو؟ اس نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: تو یہ (شراب) بھی اسی کی طرح (ناپاک) ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَدَبِ/حدیث: 7978]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، من أجل يحيى بن أبي أُسيد وعبيد بن أبي سويَّة، فقد روى عن كل واحدٍ جمعٌ، وذكرهما ابن حبان في "الثقات" إلا أنه سمَّى الثانيَ حميدَ بن سويد» [ترقيم الرساله 7978] [ترقيم الشركة 7883] [ترقيم العلميه 7784]
الحكم على الحديث: إسناده حسن