المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
48. لَا تَطْرُقُوا النِّسَاءَ لَيْلًا
رات کے وقت (سفر سے واپسی پر) اچانک گھر والوں کے پاس نہ پہنچو
حدیث نمبر: 7992
أخبرني محمد بن موسى الفقيه، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا محمد بن المثنَّى ومحمد بن بشار قالا حدثنا عبد الرحمن، حدثنا سفيان، عن حُميد الأعرج، عن محمد بن إبراهيم، عن أبي سَلَمة، عن عبد الله بن رَوَاحة: أنه كان في سفر فقَدِمَ، فتعجَّل إلى أهله ليلًا، فإذا شيءٌ نائم مع امرأته، فأخذ السَّيف، فقالت امرأته: هذه فلانةُ مَشَطَتْني، فأتى النبيَّ ﷺ فذكر له ذلك، فقال رسول الله ﷺ:"لا تَطْرُقوا النِّساء ليلًا" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7798 - ذا مرسل
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7798 - ذا مرسل
سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ ایک سفر سے رات کے وقت اچانک اپنے گھر پہنچے، انہوں نے اپنی بیوی کے پاس کسی کو سویا ہوا دیکھا تو (غیرت میں) تلوار اٹھا لی، ان کی بیوی نے فوراً کہا: (رکیے!) یہ فلاں عورت ہے جو میرے بال سنوار رہی تھی، پھر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ واقعہ ذکر کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رات کے وقت اچانک گھر والوں کے پاس نہ جایا کرو (تاکہ وہ تیاری کر سکیں)۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَدَبِ/حدیث: 7992]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَدَبِ/حدیث: 7992]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات لكن أبا سلمة» [ترقيم الرساله 7992] [ترقيم الشركة 7897] [ترقيم العلميه 7798]
الحكم على الحديث: صحيح لغيره