المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1. النَّذْرُ لَا يُقَدِّمُ شَيْئًا وَلَا يُؤَخِّرُهُ
نذر کسی چیز کو وقت سے پہلے لا سکتی ہے اور نہ ٹال سکتی ہے
حدیث نمبر: 8033
حدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا علي بن الحسين بن جُنَيد، حدثنا المُعافَى بن سليمان الحَرَّاني، حدثنا فُلَيح بن سليمان، عن سعيد بن الحارث، أنه سمع عبد الله بن عمرو بن عمر، وسأله رجلٌ من بني كعب يقالُ له: مسعود بن عمرو: يا أبا عبد الرحمن، إنَّ ابني كان بأرضِ فارسَ فيمن كان عند عمر بن عبيد الله، وإنه وقع بالبصرة طاعونٌ شديد، فلما بلغ ذلك نَذَرتُ إن الله جاء بابني أن أمشيَ (1) إلى الكعبة، فجاء مريضًا، فمات، فما ترى؟ فقال ابن عمر: أَوَلَم تُنهَوا عن النَّذر؟ إِنَّ رسول الله ﷺ قال:"النَّدْرُ لا يُقدِّمُ شيئًا ولا يُؤخِّرُه، فإنما يُستخرج به من البخيل"، أُوفِ بنَذركِ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7837 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7837 - على شرط البخاري ومسلم
سعید بن حارث سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو سنا جب بنو کعب کے مسعود بن عمرو نامی ایک شخص نے ان سے دریافت کیا کہ اے ابوعبدالرحمن! میرا بیٹا ملکِ فارس میں ان لوگوں کے ہمراہ تھا جو عمر بن عبید اللہ کے پاس مقیم تھے، اور اسی دوران بصرہ میں شدید طاعون کی وبا پھیل گئی، جب مجھے اس کی اطلاع ملی تو میں نے یہ منت مانی کہ اگر اللہ تعالیٰ میرے بیٹے کو بخیر و عافیت واپس لے آئے تو میں پیدل چل کر بیت اللہ جاؤں گا، چنانچہ وہ بیمار حالت میں واپس آیا اور پھر فوت ہو گیا، اب اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”کیا تمہیں نذر ماننے سے منع نہیں کیا گیا تھا؟ یقیناً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «النَّذْرُ لَا يُقَدِّمُ شَيْئًا وَلَا يُؤَخِّرُهُ، فَإِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ» ”نذر (تقدیر کی) کسی چیز کو نہ تو وقت سے پہلے لا سکتی ہے اور نہ ہی اسے ٹال سکتی ہے، اس کے ذریعے تو صرف بخیل سے مال نکلوایا جاتا ہے“، تم اپنی نذر پوری کرو۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے سیاق و سباق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النُّذُورِ/حدیث: 8033]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے سیاق و سباق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النُّذُورِ/حدیث: 8033]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، في المتابعات والشواهد من أجل فليح بن سليمان، وقد توبع» [ترقيم الرساله 8033] [ترقيم الشركة 7936] [ترقيم العلميه 7837]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن