المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
2. بَيَانُ حَقِيقَةِ النَّذْرِ
نذر کی حقیقت کا بیان
حدیث نمبر: 8033
حدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا علي بن الحسين بن جُنَيد، حدثنا المُعافَى بن سليمان الحَرَّاني، حدثنا فُلَيح بن سليمان، عن سعيد بن الحارث، أنه سمع عبد الله بن عمرو بن عمر، وسأله رجلٌ من بني كعب يقالُ له: مسعود بن عمرو: يا أبا عبد الرحمن، إنَّ ابني كان بأرضِ فارسَ فيمن كان عند عمر بن عبيد الله، وإنه وقع بالبصرة طاعونٌ شديد، فلما بلغ ذلك نَذَرتُ إن الله جاء بابني أن أمشيَ (1) إلى الكعبة، فجاء مريضًا، فمات، فما ترى؟ فقال ابن عمر: أَوَلَم تُنهَوا عن النَّذر؟ إِنَّ رسول الله ﷺ قال:"النَّدْرُ لا يُقدِّمُ شيئًا ولا يُؤخِّرُه، فإنما يُستخرج به من البخيل"، أُوفِ بنَذركِ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7837 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7837 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں مروی ہے کہ بنی کعب کے مسعود بن عمرو نامی ایک آدمی ان سے کہنے لگا: اے ابوعبدالرحمن! میرا ایک بیٹا سرزمین فارس میں تھا، وہ عمر بن عبیداللہ کے ساتھیوں میں شامل تھا، اور بصرہ میں طاعون کی وباء میں پھیل گئی ہے، جب مجھے یہ اطلاع ملی تو میں نے نذر مانی تھی کہ یا اللہ اگر میرا بیٹا گھر آ جائے تو میں کعبہ تک پیدل چل کر جاؤں گا، میرا بیٹا گھر تو آ گیا، لیکن بیمار ہو کر آیا اور اسی بیماری میں وہ فوت بھی ہو گیا، آپ اس سلسلہ میں کیا فرماتے ہیں؟ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کیا تمہیں نذر ماننے سے منع نہیں کیا گیا تھا؟ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نذر نہ تو کسی چیز کو پہلے لے آتی ہے اور نہ کسی چیز میں تاخیر کر سکتی ہے، اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ بخیل کا مال نکلواتا ہے۔ تم اپنی نذر پوری کرو۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو اس اسناد ہے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النُّذُورِ/حدیث: 8033]
حدیث نمبر: 8034
حدثنا علي بن حَمْشاذ العَدْل، حدثنا أبو عمرو أحمد بن المبارك وأبو سعيد محمد بن شاذانَ، قالا: حدثنا قُتيبة بن سعيد، حدثنا إسماعيل بن جعفر، حدثنا عمرو بن أبي عمرو مولى ابن المطَّلِب، عن عبد الرحمن الأعرج، عن أبي هريرة، أنَّ النبيَّ ﷺ قال:"إنَّ النَّذرَ لم (1) يُقرب من ابن آدم شيئًا لم يكن الله تعالى قدَّره له، ولكنّ النَّذِرَ يُوافِقُ القَدَرَ فيُخرجُ بذلك من البخيل ما لم يكنِ البخيلُ يريدُ أن يُخرِجَه" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7838 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7838 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نذر انسان کے لیے ایسی کوئی چیز پہلے نہیں لے آتی جس کو اللہ تعالیٰ نے دیر سے لکھا ہوتا ہے، بلکہ خود نذر تقدیر کے مطابق ہوتی ہے (یعنی انسان نذر بھی تبھی مانتا ہے جب وہ تقدیر میں لکھی ہو) اس کے ذریعے بخیل سے وہ مال نکلوایا جاتا ہے جو وہ عام حالات میں نکالنا نہیں چاہتا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو اس اسناد کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النُّذُورِ/حدیث: 8034]