🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

23. الْكَلَامُ فِي تَمْثِيلِ الدُّنْيَا
دنیا کی مثال کے بیان میں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8096
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا حامد بن محمود المُقرئ، حدثنا عبد الرحمن بن عبد الله بن سعد، حدثنا عمرو بن [أبي] (2) قيس، عن إبراهيم بن مُهاجِر، عن قيس بن أبي حازم، عن المُستورِد قال: كُنَّا عند النبي ﷺ، فتذاكروا الدُّنيا والآخرةَ، فقال بعضُهم: إنما الدنيا بلاغٌ للآخرة، وفيها العملُ وفيها الصلاةُ وفيها الزَّكاة، وقالت طائفةٌ منهم: الآخرةُ فيها الجنَّةُ، وقالوا ما شاءَ الله، فقال رسول الله ﷺ: ما الدُّنيا في الآخرة إِلَّا كما يمشي أحدُكم إلى اليَمِّ فأدخل إصبَعَه فيه، فما خرجَ منه فهي الدُّنيا" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7898 - صحيح
سیدنا مستورد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے اور لوگ دنیا و آخرت کا تذکرہ کر رہے تھے، بعض نے کہا: دنیا تو آخرت تک پہنچنے کا ایک ذریعہ ہے، اسی میں عمل، نماز اور زکوٰۃ ہے، جبکہ ایک گروہ نے کہا: آخرت میں تو جنت ہے، اور انہوں نے جو اللہ نے چاہا وہ باتیں کیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آخرت کے مقابلے میں دنیا کی حیثیت صرف اتنی ہے جیسے تم میں سے کوئی سمندر کے پاس جائے اور اس میں اپنی انگلی ڈالے، پھر وہ (انگلی) جو کچھ لے کر نکلے وہی دنیا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الرِّقَاقِ/حدیث: 8096]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل إبراهيم بن مهاجر، وقد توبع» [ترقيم الرساله 8096] [ترقيم الشركة 7997] [ترقيم العلميه 7898]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں