المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
2. لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ
کسی مسلمان کا خون حلال نہیں سوائے تین وجوہات کے
حدیث نمبر: 8226
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حمّاد بن زيد، عن يحيى بن سعيد، عن أبي أُمامة بن سهل بن حُنيف: أنَّ عثمان بن عفّان أشرَفَ يومَ الدار، فقال: أَنشَدتُكم بالله، أتعلمون أنَّ رسول الله ﷺ قال:"لا يَحِلُّ دمُ امرئ مسلم إلَّا بإحدى ثلاثٍ: زَنَى بعد إحصان، أو ارتدَّ بعد إسلام، أو قَتَل نفسًا بغير حقٍّ يُقتَلُ به"؟ فوالله ما زَنَيتُ في جاهلية ولا إسلام، ولا ارتَدَدتُ منذ بايعتُ رسولَ الله ﷺ، ولا قتلتُ النفسَ التي حرَّم اللهُ، فبِمَ تقتلوني؟! (1)
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8028 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8028 - على شرط البخاري ومسلم
ابوامامہ بن سہل بن حنیف سے روایت ہے کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے (محصوری کے ایام میں) اپنے گھر کی چھت سے جھانک کر لوگوں کو مخاطب کیا اور فرمایا: ”میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”کسی مسلمان کا خون تین صورتوں کے سوا حلال نہیں ہے: شادی شدہ ہونے کے بعد زنا کرنا، یا اسلام لانے کے بعد مرتد ہو جانا، یا کسی جان کو ناحق قتل کرنا جس کے بدلے اسے قتل کیا جائے“؟ پس اللہ کی قسم! میں نے نہ جاہلیت میں کبھی زنا کیا اور نہ اسلام میں، اور جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی ہے تب سے کبھی مرتد نہیں ہوا، اور نہ ہی میں نے کبھی اس جان کو قتل کیا جسے اللہ نے حرام قرار دیا ہے، پھر تم مجھے کس جرم میں قتل کرنا چاہتے ہو؟!“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8226]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8226]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8226] [ترقيم الشركة 8127] [ترقيم العلميه 8028]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح