المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
15. مِنْ أَجْلِ غَيْرَةِ اللَّهِ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ
اللہ کی غیرت کی وجہ سے بے حیائی کے کاموں کو حرام قرار دیا گیا ہے
حدیث نمبر: 8258
حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا الحسن بن علي بن زياد، حدثنا إبراهيم بن موسى، حدثنا أبو خالد الأحمر، عن ابن عَجْلان، عن أبي حازم، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"مَن وَقَاهُ الله شرَّ ما بين لَحْيَيه وما بين رجليه، دخل الجنَّةَ" (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8059 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8059 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس کو اللہ تعالیٰ نے دو جبڑوں کے درمیان والی چیز اور دو ٹانگوں کے درمیان والی چیز کے شر سے بچا لیا، وہ جنت میں جائے گا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8258]
حدیث نمبر: 8259
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن مِهْران، حدثنا عبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن عبد الملك بن عُمير، عن مولى للمغيرة بن شُعبة عن [المغيرة] (1) قال: ذُكِر لسعد بن عُبَادة رجلٌ (2) يأتي امرأةَ أبيه، فقال: لو أدركتُه لضربتُه بالسيف، فذكرتُ ذلك للنبي ﷺ، فقال:"أنا أَغْيرُ من سعدٍ، واللهُ أَغْيرُ مِنِّي، وما من أحدٍ أحبَّ إليه العذرُ من الله ﷿، من أجلِ ذلك بعثَ المرسلين، وما أحدٌ أحب إليه المَدحُ من الله ﷿، من أجلِ ذلك وَعَدَ الجنَّةَ." (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، فإنَّ أبا عَوَانة سمَّى مولى المغيرة هذا في روايته، وأَتى بالمَتْن على وجهه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8060 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، فإنَّ أبا عَوَانة سمَّى مولى المغيرة هذا في روايته، وأَتى بالمَتْن على وجهه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8060 - صحيح
سیدنا مغیرہ فرماتے ہیں: سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے ہاں ایک ایسے آدمی کا ذکر ہوا جس نے اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کیا تھا، آپ نے فرمایا: اگر میں اس کو پاؤں تو تلوار کے ساتھ اس کو قتل کر دوں، سیدنا مغیرہ کہتے ہیں: میں نے یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں سعد سے زیادہ غیرت والا ہوں، اور اللہ تعالیٰ مجھ سے بھی زیادہ غیرت والا ہے، اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں معذرت سے زیادہ پسندیدہ کوئی چیز نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ نے اسی کام کے لیے رسولوں کو مبعوث فرمایا، اور اللہ تعالیٰ کو مدح سے زیادہ کوئی چیز عزیز نہیں ہے اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے جنت کا وعدہ فرمایا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ ابوعوانہ نے اس اسناد میں سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام کا نام ذکر کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8259]
حدیث نمبر: 8260
كما حدَّثَناه علي بن حَمْشاذ العَدْل، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا أبو الوليد الطَّيَالسي، حدثنا أبو عَوَانة عن عبد الملك بن عُمير، عن ورَّاد كاتب المغيرة، عن المغيرة بن شُعْبة، قال: قال سعد بن عُبَادة: لو رأيتُ رجلًا مع امرأة.. (1) لضربتُه بالسيف غيرَ مُصْفَح، فبلغ ذلك رسولَ الله ﷺ، فقال:"أَتعجبونَ من غَيْرةِ سعد، فوالله لأنا أَغْيرُ منه، واللهُ أَغْيرُ مني، ومن أجل غَيْرَةِ الله حرَّمَ الفواحش ما ظهرَ منها وما بطَنَ، ولا شخصَ أَغْيرُ من الله، ولا شخصَ أحبُّ إليه العُذْرُ، من أجل ذلك بعثَ اللهُ المرسَلين مُبشِّرِينَ ومُنذِرين، ولا شخصَ أحبُّ إليه من الله، من أجل ذلك وَعَدَ الجنَّةَ" (2) .
سیدنا مغیرہ بن شعبہ فرماتے ہیں: سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ فرمایا: اگر میں کسی آدمی کو اس کے باپ کی بیوی کے ساتھ دیکھ لوں تو تلوار کے ساتھ اس کی گردن اڑا دوں، سیدنا سعد کی یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچ گئی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سعد کی غیرت سے تعجب کرتے ہو؟ میں اس سے بھی زیادہ غیرت والا ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھ سے بھی زیادہ غیرت والا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی غیرت کی وجہ سے ظاہری باطنی فحاشی حرام کی گئی، اور کوئی آدمی اللہ تعالیٰ سے زیادہ غیرت والا نہیں ہے اور معافی مانگنے والے سے زیادہ اللہ تعالیٰ کو کوئی شخص پسند نہیں ہے۔ اسی وجہ سے اس نے جنت کا وعدہ کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8260]
حدیث نمبر: 8261
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا مُسلِم بن إبراهيم حدثنا شدَّاد بن سعيد، حدثنا سعيد بن إياس أبو مسعود الجُرَيري، عن أبي نَضْرة، عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ:"يا شبابُ قريش، لا تَزْنُوا، أَلَا مَن حَفِظَ فَرْجَه فله الجنَّةُ" (3)
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8062 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8062 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے قریشی جوانو! زنا مت کرو۔ خبردار! جس نے اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی، وہ جنتی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8261]
حدیث نمبر: 8262
حدثني أبو بكر بن إسحاق من أصل كتابه، أخبرنا علي بن الحسين بن الجُنَيد، حدثنا المُعافَى بن سليمان الحَرَّاني، حدثنا موسى بن أَعَين، عن عبد الله بن محمد بن عَقِيل، عن سليمان بن يَسَار، عن عَقِيل مولى ابن عباس، عن أبي موسى، قال: كنتُ أنا وأبو الدَّرداء عند النبيِّ ﷺ، فسمعته يقول:"مَن حَفِظَ ما بينَ فُقْمَيهِ ورِجلَيهِ دخل الجنَّةَ" (1) .
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں اور ابوالدرداء رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں موجود تھے، میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ” جس نے اپنے جبڑوں کے درمیان والی اور اپنی ٹانگوں کے درمیان والی چیز کی حفاظت کر لی، وہ جنت میں جائے گا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8262]