المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1. القيد ثبات في الدين
خواب میں بیڑیاں (قید و بند) دیکھنا دین میں ثابت قدمی کی علامت ہیں
حدیث نمبر: 8372
كما حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا بشر بن موسى، حدَّثنا الحُميدي. وحدثنا أبو بكر، أخبرنا أبو مُسلِم، حدَّثنا علي بن المَدِيني؛ جميعًا عن سفيان، عن عبد الملك بن عُمَير، قال: سمعتُ عطية القُرَظي يقول: كنتُ غلامًا يومَ حَكَمَ سعدُ بنُ معاذ في بني قُريظة: أن تُقتَلَ مُقاتِلتُهم، وتُسبَى ذَرَارتُهم، فشكُوا فيَّ، فلم يَجِدوني أُنبِتُ الشَّعر، فها أنا ذا بين أظهُرِكم (1) . آخر كتاب الحدود [كتاب تعبير الرؤيا] ﷽
عبدالملک بن عمیر فرماتے ہیں: عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب سعد بن معاذ کو حکم ملا کہ بنی قریظہ کے جنگجوؤں کو قتل کر دو، اور ان کے بچوں کو گرفتار کر لو، ان دنوں میں چھوٹا بچہ تھا، سیدنا سعد کے ساتھیوں کو میرے بارے میں شک ہوا، انہوں نے (میرے کپڑے اتروا کر دیکھا تو) میرے زیر ناف بال نہیں آگے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ میں آج زندہ و جاوید تمہارے سامنے بیٹھا ہوں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ تَعْبِيرِ الرُّؤْيَا/حدیث: 8372]
حدیث نمبر: 8373
حدَّثنا أبو عبد الله محمد بن علي الصَّنعاني بمكة من أصل كتابه، حدَّثنا إسحاق بن إبراهيم الدَّبَري، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن أيوب، عن ابن سِيرين، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ قال:"في آخر الزمانِ لا تكادُ رُؤْيا المؤمنِ تَكذِب، وأصدَقُهم رُؤيا أصدَقُهم حديثًا. والرُّؤيا ثلاثٌ: فالرؤيا الحسنةُ بُشْرى من الله ﷿، والرؤيا يُحدِّث بها الرجلُ نفسَه، والرؤيا تحزينٌ من الشيطان، فإذا رأى أحدُكم رؤيا يَكرهُها، فلا يُحدِّث بها أحدًا وليَقُم فليُصلِّ. ورؤيا المؤمن جزءٌ من ستةٍ وأربعين جزءًا من النبوَّة". قال أبو هريرة: يُعجِبُني القَيدُ وأكرهُ الغُلَّ، القَيدُ ثباتٌ في الدِّين (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8174 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8174 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: آخری زمانے میں (بھی بعض) مومنوں کے خواب سچے ہوں گے، اور سب سے زیادہ سچا خواب اس کا ہو گا جو سب سے زیادہ سچ بولنے والا ہو گا، اور خواب تین طرح کے ہوتے ہیں۔ 1۔ اچھا خواب، یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندے کے لئے خوشخبری ہوتا ہے۔ 2۔ ایسا خواب کہ انسان خود اپنے آپ سے گفتگو کر رہا ہوتا ہے (یعنی انسان کی سوچیں متشکل ہو کر دکھائی دیتی ہیں) 3۔ ایسا خواب جو شیطان کی جانب سے انسان کو پریشان کرنے کے لئے دکھایا جاتا ہے۔ جب کوئی ناپسندیدہ خواب دیکھے، وہ کسی کے سامنے بیان نہیں کرنا چاہئے، اور بیدار ہو کر نماز پڑھ کر دعا مانگنی چاہئے۔ اور مومن کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، خواب میں قید دیکھنے کو میں اچھا سمجھتا ہوں اور ہتھکڑی یا طوق کو اچھا نہیں سمجھتا، خواب میں خود کو قید دیکھنا دین میں ثابت قدمی کی نشانی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ تَعْبِيرِ الرُّؤْيَا/حدیث: 8373]