🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

13. مَثَلُهُ وَمَثَلُ أُمَّتِهِ فِي رُؤْيَاهُ
نبی کریم ﷺ کے خواب میں آپ ﷺ کی اور آپ ﷺ کی امت کی مثال
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8400
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حَدَّثَنَا يحيى بن محمد بن يحيى الذُّهْليُّ، حَدَّثَنَا مسدَّد، حَدَّثَنَا المعتمِر بن سليمان، عن عَوْف، حَدَّثَنَا أبو رَجَاء، عن سَمُرة بن جُندُب قال: كان رسول الله ﷺ يقول:"هل رأى أحدٌ منكم رؤيا؟" قال: فيقصُّ عليه مَن شاء، وإنه قال ذاتَ غَدَاةٍ:"إنه أتاني الليلةَ آتيانِ مَلَكان فقعد أحدُهما عند رأسي والآخرُ عند رجليَّ، فقال الذي عند رجليَّ للذي عند رأسي: اضْرِبْ مَثَل هذا ومَثَلَ أُمتِه، فقال: إِنَّ مَثَلَه ومَثَلَ أُمَّتِهِ كَمَثَل قومٍ سَفْرٍ انتهَوْا إلى رأس مَفازةٍ فلم يكن معهم من الزادِ ما يقطعون به المَفَازةَ ولا ما يَرجِعون به، فبينما هم كذلك إذْ أتاهم رجلٌ مُرجِّلٌ في حُلّةٍ حِبَرَة، فقال: أرأيتم إن وَرَدتُ بكم رِيَاضًا مُعشِبةً وحِياضًا رِوَاءً، أتتَّبعوني؟ فقالوا: نعم، فانطَلَق بهم فأورَدَهم رِياضًا مُعْشِبةً وحِياضًا رِوَاءً، فأكلوا وشربوا وسَمِنوا، فقال لهم: ألم ألْقَكم على تلك الحال فقلتُ لكم: إِنْ وَرَدتُ بكم رياضًا مُعْشِبةً وحِياضًا رِوَاءً، أتتَّبعوني؟ فقالوا: بلى، فقال: إنَّ بين أيديكم رِياضًا أعشَبَ من هذا، وحِياضًا أرْوَى من هذه، فاتَّبِعوني، فقالت طائفةٌ: صدق والله، لنتَّبِعَنَّ، وقالت طائفةٌ: قد رَضِينا بهذا نُقِيمُ عليه" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8200 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (صحابہ سے) اکثر پوچھا کرتے تھے: کیا تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے؟ چنانچہ جس کا جی چاہتا وہ اپنا خواب بیان کر دیتا، ایک صبح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج رات میرے پاس دو فرشتے آئے، ان میں سے ایک میرے سرہانے اور دوسرا میرے قدموں کے پاس بیٹھ گیا، میرے قدموں کے پاس والے نے سرہانے والے سے کہا: ان کی اور ان کی امت کی مثال بیان کرو، اس نے کہا: بیشک ان کی اور ان کی امت کی مثال ان مسافروں کی سی ہے جو ایک ریگستان کے کنارے پر پہنچے اور ان کے پاس اتنا زادِ راہ نہ تھا کہ وہ اس صحرا کو پار کر سکیں اور نہ ہی اتنا کہ وہ واپس لوٹ سکیں، وہ اسی کشمکش میں تھے کہ اچانک ان کے پاس ایک خوش لباس اور آراستہ شخص آیا اور اس نے کہا: اگر میں تمہیں ایسی سرسبز چراگاہوں اور بھرپور حوضوں تک لے جاؤں جہاں پانی وافر ہو، تو کیا تم میری پیروی کرو گے؟ انہوں نے کہا: ہاں، چنانچہ وہ انہیں لے گیا اور انہیں سرسبز چراگاہوں اور لبالب حوضوں پر اتار دیا، پس انہوں نے کھایا، پیا اور وہ موٹے تازہ ہو گئے، پھر اس شخص نے ان سے کہا: کیا میں تمہیں اسی بے بسی کی حالت میں نہیں ملا تھا اور میں نے تم سے کہا تھا کہ اگر میں تمہیں ہری بھری چراگاہوں اور بھرپور حوضوں تک پہنچا دوں تو کیا تم میری پیروی کرو گے؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں (ضرور کریں گے)، اس نے کہا: تو سنو! تمہارے سامنے اس سے بھی زیادہ سرسبز باغات اور ان سے بھی زیادہ شیریں حوض ہیں، لہٰذا میری پیروی کرو، اس پر ایک گروہ نے کہا: اللہ کی قسم! اس نے سچ کہا ہے، ہم ضرور اس کی پیروی کریں گے، جبکہ دوسرے گروہ نے کہا: ہم تو اسی پر راضی ہیں اور یہیں قیام کریں گے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ تَعْبِيرِ الرُّؤْيَا/حدیث: 8400]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8400] [ترقيم الشركة 8301] [ترقيم العلميه 8200]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں