المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
14. رُؤْيَا قَارُورَةِ دَمِ الْحُسَيْنِ وَتُرْبَتِهِ
سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے خون کی شیشی اور وہاں کی مٹی کا خواب
حدیث نمبر: 8400
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حَدَّثَنَا يحيى بن محمد بن يحيى الذُّهْليُّ، حَدَّثَنَا مسدَّد، حَدَّثَنَا المعتمِر بن سليمان، عن عَوْف، حَدَّثَنَا أبو رَجَاء، عن سَمُرة بن جُندُب قال: كان رسول الله ﷺ يقول:"هل رأى أحدٌ منكم رؤيا؟" قال: فيقصُّ عليه مَن شاء، وإنه قال ذاتَ غَدَاةٍ:"إنه أتاني الليلةَ آتيانِ مَلَكان فقعد أحدُهما عند رأسي والآخرُ عند رجليَّ، فقال الذي عند رجليَّ للذي عند رأسي: اضْرِبْ مَثَل هذا ومَثَلَ أُمتِه، فقال: إِنَّ مَثَلَه ومَثَلَ أُمَّتِهِ كَمَثَل قومٍ سَفْرٍ انتهَوْا إلى رأس مَفازةٍ فلم يكن معهم من الزادِ ما يقطعون به المَفَازةَ ولا ما يَرجِعون به، فبينما هم كذلك إذْ أتاهم رجلٌ مُرجِّلٌ في حُلّةٍ حِبَرَة، فقال: أرأيتم إن وَرَدتُ بكم رِيَاضًا مُعشِبةً وحِياضًا رِوَاءً، أتتَّبعوني؟ فقالوا: نعم، فانطَلَق بهم فأورَدَهم رِياضًا مُعْشِبةً وحِياضًا رِوَاءً، فأكلوا وشربوا وسَمِنوا، فقال لهم: ألم ألْقَكم على تلك الحال فقلتُ لكم: إِنْ وَرَدتُ بكم رياضًا مُعْشِبةً وحِياضًا رِوَاءً، أتتَّبعوني؟ فقالوا: بلى، فقال: إنَّ بين أيديكم رِياضًا أعشَبَ من هذا، وحِياضًا أرْوَى من هذه، فاتَّبِعوني، فقالت طائفةٌ: صدق والله، لنتَّبِعَنَّ، وقالت طائفةٌ: قد رَضِينا بهذا نُقِيمُ عليه" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8200 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8200 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پوچھا کرتے تھے کہ کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے، جس نے کوئی خواب دیکھا ہوتا وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا خواب سناتا۔ ایک دفعہ خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا خواب صحابہ کرام کو سنایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: گزشتہ رات میرے پاس دو فرشتے آئے، ایک میرے سر کی جانب اور دوسرا قدموں کی جانب کھڑا ہو گیا، ایک نے دوسرے سے کہا: اس کی اور اس کی امت کی کوئی مثال بیان کریں، اس نے کہا: اس کی اور اس کی امت کی مثال یوں ہے جیسے کچھ مسافر اپنی منزل کے بالکل قریب ایک جنگل کے آغاز میں ہوں۔ ان کے پاس اتنا زاد راہ نہ ہو، جس سے وہ اس جنگل کو عبور کر سکیں، اور نہ ہی وہ وہاں سے واپس جا سکتے ہوں، وہ ابھی اسی مخمصے میں ہوں کہ ان کے پاس ایک آدمی آئے، وہ قیمتی جبہ زیب تن کئے ہوئے، بالوں میں کنگھی کئے ہوئے ہو، وہ ان سے کہے: اگر میں تمہیں، پھلدار باغ، اور بھرے ہوئے چشموں تک پہنچا دوں، کیا تم میرے پیچھے چلو گے؟ وہ لوگ کہیں: جی بالکل۔ وہ ان کو ساتھ لے کر چل پڑے، اور ان کو پھلدار باغات اور پانی سے بھرے حوضوں تک پہنچا دے، وہ وہاں سے خوب سیر ہو کر کھائیں اور پئیں، وہ آدمی ان سے کہے: کیا تم سے میری ملاقات تمہاری کسمپرسی کے عالم میں نہیں ہوئی؟ اور میں نے تمہیں کہا تھا: اگر میں تمہیں پھلدار باغات تک اور پانی سے بھرے چشموں تک لے جاؤں تو کیا تم میرے ساتھ چلو گے؟ تم نے کہا تھا: جی بالکل چلیں گے۔ اس نے کہا: تمہارے اگلے زمانے میں اس سے بھی زیادہ پھلدار باغات ہیں، اور اس سے بھی زیادہ پانی سے بھرے ہوئے چشمے ہیں، اس لئے تم میرے پیچھے چلو، تب ایک جماعت نے کہا: اللہ کی قسم! یہ سچ کہہ رہا ہے، ہم ضرور ضرور اس کے پیچھے چلیں گے، اور ایک جماعت نے کہا: ہم تو انہیں باغات پر راضی ہیں، ہم تو یہیں رہیں گے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ تَعْبِيرِ الرُّؤْيَا/حدیث: 8400]
حدیث نمبر: 8401
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حَدَّثَنَا بِشْر بن موسى الأَسَدي، حَدَّثَنَا الحسن بن موسى الأشْيَب، حَدَّثَنَا حماد بن سَلَمة، عن عمّار بن أبي عمّار (2) ، عن ابن عبّاس قال: رأيتُ النَّبِيّ ﷺ فيما يرى النائمُ نِصفَ النهار، أشعثَ أغبرَ معه قارورةٌ فيها دم، فقلتُ: يا نبيَّ الله، ما هذا؟ قال:"هذا دمُ الحُسين وأصحابِه، لم أزَلْ أَلتقِطُه منذ اليومِ"، قال: فأُحصيَ ذلك اليومُ فوجدوه قُتل قبل ذلك بيوم (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8201 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8201 - على شرط مسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے خواب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، دوپہر کا وقت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زلف عنبریں غبار آلود ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شیشی ہے، اس میں خون ہے۔ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں حسین اور اس کے ساتھیوں کا خون ہے۔ میں سارا دن اس خواب کی وجہ سے بہت پریشان رہا، میں نے جب معلومات جمع کیں تو پتہ چلا کہ ایک دن قبل سیدنا حسین اور ان کے ساتھیوں کو شہید کر دیا گیا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ تَعْبِيرِ الرُّؤْيَا/حدیث: 8401]