🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

14. رُؤْيَا قَارُورَةِ دَمِ الْحُسَيْنِ وَتُرْبَتِهِ
سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے خون کی شیشی اور وہاں کی مٹی کا خواب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8401
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حَدَّثَنَا بِشْر بن موسى الأَسَدي، حَدَّثَنَا الحسن بن موسى الأشْيَب، حَدَّثَنَا حماد بن سَلَمة، عن عمّار بن أبي عمّار (2) ، عن ابن عبّاس قال: رأيتُ النَّبِيّ ﷺ فيما يرى النائمُ نِصفَ النهار، أشعثَ أغبرَ معه قارورةٌ فيها دم، فقلتُ: يا نبيَّ الله، ما هذا؟ قال:"هذا دمُ الحُسين وأصحابِه، لم أزَلْ أَلتقِطُه منذ اليومِ"، قال: فأُحصيَ ذلك اليومُ فوجدوه قُتل قبل ذلك بيوم (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8201 - على شرط مسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے دوپہر کے وقت خواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال بکھرے ہوئے ہیں اور آپ گرد آلود ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شیشی ہے جس میں خون ہے، میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! یہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ حسین اور ان کے ساتھیوں کا خون ہے، میں آج کے دن سے مسلسل اسے جمع کر رہا ہوں، راوی کہتے ہیں: اس دن کا حساب لگایا گیا تو پتہ چلا کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اس سے ایک دن پہلے شہید ہوئے تھے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ تَعْبِيرِ الرُّؤْيَا/حدیث: 8401]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8401] [ترقيم الشركة 8302] [ترقيم العلميه 8201]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8402
أخبرَناه أبو الحسين علي بن عبد الرحمن السَّبيعي (2) بالكوفة، حَدَّثَنَا أحمد بن حازمٍ الغِفَاريّ، حَدَّثَنَا خالد بن مَخْلَد القَطَواني، قال: حدثني موسى بن يعقوب الزَّمْعي، أخبرني هاشم بن هاشم بن عُتْبة بن أبي وَقّاص، عن عبد الله بن وهب بن زَمْعة، قال: أخبرتنى أم سَلَمة: أنَّ رسول الله ﷺ اضطَجَعَ ذات ليلةٍ للنوم فاستيقظ وهو خاثرٌ، ثم اضطجع فرَقَدَ، ثم استيقظ خاثرًا دون ما رأيتُ به المرةَ الأُولى، ثم اضطجع فاستيقظ وفي يده تُرْبةٌ حمراءُ يُقلِّبُها (3) ، فقلتُ: ما هذه التربةُ يا رسول الله؟ قال:"أخبرَني جبريل ﵇ أنَّ هذا يُقتَلُ بأرض العِرَاق - للحُسين - فقلتُ لجبريل: أَرِني تربةَ الأرض التي يُقتَل بها، فهذه تُربَتُها" (4) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8202 - مر هذا على شرط البخاري ومسلم
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات سونے کے لیے لیٹے تو بیدار ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پریشانی کے عالم میں تھے، پھر لیٹے اور سو گئے، پھر بیدار ہوئے تو پہلی مرتبہ کی نسبت کم پریشان تھے، پھر لیٹے اور جب بیدار ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں سرخ مٹی تھی جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم الٹ پلٹ کر دیکھ رہے تھے، میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! یہ مٹی کیسی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے جبرائیل علیہ السلام نے خبر دی ہے کہ یہ (حسین) عراق کی سرزمین میں شہید کر دیا جائے گا، میں نے جبرائیل سے کہا کہ مجھے اس جگہ کی مٹی دکھائیں جہاں اسے شہید کیا جائے گا، تو یہ وہاں کی مٹی ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ تَعْبِيرِ الرُّؤْيَا/حدیث: 8402]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، خالد بن مخلد القطواني وشيخه موسى بن يعقوب الزمعي فيهما مقال، وهما إلى الضعف أقرب، لكن خالدًا القطواني قد توبع على موسى بن يعقوب، وموسى بن يعقوب هذا قد خولف في سياقة متن الحديث، وقد اضطرب أيضًا في تسمية الراوي عن أم سلمة» [ترقيم الرساله 8402] [ترقيم الشركة 8303] [ترقيم العلميه 8202]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں