🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

11. لَوْ كَانَ فِي شَيْءٍ شِفَاءٌ مِنَ الْمَوْتِ لَكَانَ فِي السَّنَاءِ
اگر کسی چیز میں موت سے شفا ہوتی تو وہ "سنا مکی" میں ہوتی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8437
حَدَّثَنَا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد، حَدَّثَنَا يحيى بن جعفر (1) بن الزَّبرِقان، حَدَّثَنَا أبو بكر عُبيد الله (2) بن عبد المجيد الحنفيّ، حَدَّثَنَا عبدُ الحميد بن جعفر عن عُتبة بن عبد الله التّيمي، عن أسماءَ بنت عُميس قالت: سألني رسول الله ﷺ:"بماذا تَسْتمشِينَ؟" قلت بالشُّبْرُم، قالت: قال:"حارٌّ جارٌّ"، قالت: ثم قلت: استمشيتُ بالسَّنَا، قال:"لو كان في شيء شفاءٌ من الموت، لكان في السَّنَا" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8233 - صحيح
سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: تم پیٹ صاف کرنے کے لیے کیا استعمال کرتی ہو؟ میں نے عرض کیا: «الشُّبْرُم» شبرم، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو بہت گرم اور مضر ہے، کہتی ہیں: پھر میں نے عرض کیا کہ میں نے «السَّنَا» سنا استعمال کیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر کسی چیز میں موت سے شفاء ہوتی تو وہ سنا میں ہوتی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطِّبِّ/حدیث: 8437]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف كما سلف بيانه برقم (7629)» [ترقيم الرساله 8437] [ترقيم الشركة 8335] [ترقيم العلميه 8233]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں