المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
2. سِتَّةٌ مِنْ آثَارِ الْقِيَامَةِ
قیامت کے آثار میں سے چھ نشانیوں کا تذکرہ
حدیث نمبر: 8500
حَدَّثَنَا أبو بكر أحمد بن كامل القاضي، حَدَّثَنَا محمد بن إسماعيل السُّلَمي، حَدَّثَنَا أبو أيوب الدِّمشقي، حَدَّثَنَا الوليد بن مُسلِم، حَدَّثَنَا عبد الله بن العلاء بن زَبْر الرَّبَعي قال: سمعت بُسرَ بنَ عبيد الله الحَضْرمي يحدِّث، أنه سمع أبا إدريس الخَوْلانيَّ يقول: سمعتُ عوفَ بن مالك الأشجعيَّ يقول: أَتيتُ رسولَ الله ﷺ في غزوة تَبُوك وهو في قُبَّة من أَدَم، فقال لي:"يا عوفُ، اعدُدْ سِتًّا بين يَدَي الساعة: مَوْتي، ثم فتحُ بيتِ المَقدِس، ثم مُوتانٌ يأخذ فيكم كقُعَاص (1) الغَنَم، ثم استفاضةُ المال فيكم حتَّى يُعطَى الرجل مئة دينار فيَظَلُّ ساخطًا، ثم فتنةٌ لا يبقى بيتٌ من العرب إلَّا دَخَلَته، ثم هُدْنةٌ تكون بينكم وبين بني الأصفر فيَغدِرون فيأتونكم تحتَ ثمانين غايةً، تحتَ كل غايةٍ اثنا عشرَ ألفًا" (2) . قال الوليد بن مسلم: فذاكَرْنا هذا الحديثَ شيخًا من شيوخ أهل المدينة؛ قولَه:"ثم فتحُ بيتِ المَقدِس"، فقال الشيخ: أخبرني سعيد المَقبُري، عن أبي هريرة: أنه كان يُحدِّث بهذه السِّتة عن رسول الله ﷺ، ويقول بدلَ"فتح بيت المقدس":"عُمْرانُ بيت المَقدِس" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8295 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8295 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں غزوہ تبوک کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چمڑے کے ایک خیمے میں تشریف فرما تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اے عوف! قیامت سے پہلے چھ چیزیں شمار کر لو: میری وفات، پھر بیت المقدس کی فتح، پھر ایک ایسی موت (وبا) جو تم میں اس طرح پھیلے گی جیسے بکریوں میں «قُعَاص» (گردن توڑ بخار) کی بیماری پھیلتی ہے، پھر تمہارے درمیان مال کی اتنی کثرت ہو جائے گی کہ ایک شخص کو سو دینار دیے جائیں گے تب بھی وہ (ناشکری کرتے ہوئے) غصے میں رہے گا، پھر ایسا فتنہ ہوگا جو عربوں کے ہر گھر میں داخل ہو جائے گا، پھر تمہارے اور بنو اصفر (رومیوں) کے درمیان صلح ہوگی مگر وہ غداری کریں گے اور تمہارے پاس اسی (80) جھنڈوں کے تلے آئیں گے اور ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار (فوجی) ہوں گے۔“ ولید بن مسلم کہتے ہیں کہ ہم نے اس حدیث کا تذکرہ اہل مدینہ کے ایک شیخ سے کیا جس میں ”بیت المقدس کی فتح“ کا ذکر تھا، تو اس بزرگ نے کہا: مجھے سعید مقبری نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے بتایا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان چھ نشانیوں کے بارے میں روایت کرتے ہوئے ”بیت المقدس کی فتح“ کے بجائے ”بیت المقدس کی آبادی“ کے الفاظ بیان کرتے تھے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8500]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8500]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8500] [ترقيم الشركة 8397] [ترقيم العلميه 8295]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح