المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
3. الْمُتَحَابُّونَ فِي اللَّهِ لَهُمْ مَنَابِرُ مِنْ نُورٍ يَغْبِطُهُمُ الشُّهَدَاءُ
اللہ کی رضا کے لیے آپس میں محبت کرنے والوں کے لیے نور کے منبر ہوں گے جن پر شہداء رشک کریں گے
حدیث نمبر: 8500
حَدَّثَنَا أبو بكر أحمد بن كامل القاضي، حَدَّثَنَا محمد بن إسماعيل السُّلَمي، حَدَّثَنَا أبو أيوب الدِّمشقي، حَدَّثَنَا الوليد بن مُسلِم، حَدَّثَنَا عبد الله بن العلاء بن زَبْر الرَّبَعي قال: سمعت بُسرَ بنَ عبيد الله الحَضْرمي يحدِّث، أنه سمع أبا إدريس الخَوْلانيَّ يقول: سمعتُ عوفَ بن مالك الأشجعيَّ يقول: أَتيتُ رسولَ الله ﷺ في غزوة تَبُوك وهو في قُبَّة من أَدَم، فقال لي:"يا عوفُ، اعدُدْ سِتًّا بين يَدَي الساعة: مَوْتي، ثم فتحُ بيتِ المَقدِس، ثم مُوتانٌ يأخذ فيكم كقُعَاص (1) الغَنَم، ثم استفاضةُ المال فيكم حتَّى يُعطَى الرجل مئة دينار فيَظَلُّ ساخطًا، ثم فتنةٌ لا يبقى بيتٌ من العرب إلَّا دَخَلَته، ثم هُدْنةٌ تكون بينكم وبين بني الأصفر فيَغدِرون فيأتونكم تحتَ ثمانين غايةً، تحتَ كل غايةٍ اثنا عشرَ ألفًا" (2) . قال الوليد بن مسلم: فذاكَرْنا هذا الحديثَ شيخًا من شيوخ أهل المدينة؛ قولَه:"ثم فتحُ بيتِ المَقدِس"، فقال الشيخ: أخبرني سعيد المَقبُري، عن أبي هريرة: أنه كان يُحدِّث بهذه السِّتة عن رسول الله ﷺ، ويقول بدلَ"فتح بيت المقدس":"عُمْرانُ بيت المَقدِس" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8295 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8295 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عوف بن مالک اشجعی فرماتے ہیں: غزوہ تبوک کے موقع پر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ اس وقت چمڑے کے ایک خیمے میں موجود تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عوف، قیامت سے پہلے 6 چیزیں شمار کر لینا۔ (1) میری وفات۔ (2) بیت المقدس کی فتح (3) کثیر اموات ہوں گی جیسا کہ بھیڑ بکریوں میں کوئی وباء آ جائے، جس سے وہ موت سے بچ نہ سکیں۔ (4) تم میں مال بہت عام ہو جائے گا، حتی کہ کسی کو 100 دینار ملیں گے تو وہ اس پر بھی راضی نہیں ہو گا۔ (5) پھر ایک ایسا فتنہ اٹھے گا جو عرب کے ہر گھر میں پہنچ جائے گا۔ (6) تمہارے اور بنی الاصفر کے درمیان مصالحت ہو گی، لیکن وہ لوگ غداری کریں گے، یہ 80 جھنڈوں کے نیچے (ہر جھنڈے کے نیچے) بارہ ہزار کے لشکر کے ساتھ تم پر چڑھائی کریں گے۔ ولید بن مسلم کہتے ہیں: ہم نے اہل مدینہ کے ایک بزرگ کے پاس یہ حدیث سنائی، تو انہوں نے اپنی اسناد کے ہمراہ ہمیں اس سے ملتا جلتا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان سنایا تاہم اس میں بیت المقدس کے فتح ہونے کی بجائے اس کے تعمیر ہونے کا ذکر تھا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو اس اسناد کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8500]