🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

74. باب مَنْ رَأَى عَلَيْهِ الْقَضَاءَ
باب: توڑے ہوئے نفلی روزے کی قضاء کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2457
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ زُمَيْلٍ مَوْلَى عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: أُهْدِيَ لِي وَلِحَفْصَةَ طَعَامٌ وَكُنَّا صَائِمَتَيْنِ فَأَفْطَرْنَا، ثُمَّ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْنَا لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا أُهْدِيَتْ لَنَا هَدِيَّةٌ فَاشْتَهَيْنَاهَا فَأَفْطَرْنَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا عَلَيْكُمَا صُومَا مَكَانَهُ يَوْمًا آخَرَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے اور ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کے لیے کچھ کھانا ہدیے میں آیا، ہم دونوں روزے سے تھیں، ہم نے روزہ توڑ دیا، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ہم نے آپ سے دریافت کیا: اللہ کے رسول! ہمارے پاس ہدیہ آیا تھا ہمیں اس کے کھانے کی خواہش ہوئی تو روزہ توڑ دیا (یہ سن کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: روزہ توڑ دیا تو کوئی بات نہیں، دوسرے دن اس کے بدلے رکھ لینا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2457]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ بیان کرتی ہیں کہ مجھے اور حفصہ رضی اللہ عنہا کو کوئی کھانا ہدیہ بھیجا گیا جبکہ ہم نے روزہ رکھا ہوا تھا، پس ہم نے روزہ توڑ لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ہم نے ان سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہمیں ہدیہ دیا گیا تھا اور ہمارا کھانے کو دل چاہا تو ہم نے روزہ افطار کر لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی حرج نہیں، اس کی بجائے ایک روزہ رکھ لینا۔ابوسعید بن الاعرابی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ روایت ثابت نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2457]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 16337)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصوم 36 (735)، موطا امام مالک/الصیام 18 (50) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی زُمَیل مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
زميل مجهول (تق : 2036) وقال البخاري : ’’ ولا يعرف لزميل سماع من عروة ولا ليزيد من زميل ولا تقوم به الحجة ‘‘ (التاريخ الكبير 450/3)
وللحديث شاهد ضعيف عند الترمذي (735)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 91

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں