سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
74. باب مَنْ رَأَى عَلَيْهِ الْقَضَاءَ
باب: توڑے ہوئے نفلی روزے کی قضاء کا بیان۔
حدیث نمبر: 2457
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ زُمَيْلٍ مَوْلَى عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: أُهْدِيَ لِي وَلِحَفْصَةَ طَعَامٌ وَكُنَّا صَائِمَتَيْنِ فَأَفْطَرْنَا، ثُمَّ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْنَا لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا أُهْدِيَتْ لَنَا هَدِيَّةٌ فَاشْتَهَيْنَاهَا فَأَفْطَرْنَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا عَلَيْكُمَا صُومَا مَكَانَهُ يَوْمًا آخَرَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے اور ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کے لیے کچھ کھانا ہدیے میں آیا، ہم دونوں روزے سے تھیں، ہم نے روزہ توڑ دیا، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ہم نے آپ سے دریافت کیا: اللہ کے رسول! ہمارے پاس ہدیہ آیا تھا ہمیں اس کے کھانے کی خواہش ہوئی تو روزہ توڑ دیا (یہ سن کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزہ توڑ دیا تو کوئی بات نہیں، دوسرے دن اس کے بدلے رکھ لینا“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2457]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ بیان کرتی ہیں کہ ”مجھے اور حفصہ رضی اللہ عنہا کو کوئی کھانا ہدیہ بھیجا گیا جبکہ ہم نے روزہ رکھا ہوا تھا، پس ہم نے روزہ توڑ لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ہم نے ان سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہمیں ہدیہ دیا گیا تھا اور ہمارا کھانے کو دل چاہا تو ہم نے روزہ افطار کر لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں، اس کی بجائے ایک روزہ رکھ لینا۔“”ابوسعید بن الاعرابی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”یہ روایت ثابت نہیں ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2457]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 16337)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصوم 36 (735)، موطا امام مالک/الصیام 18 (50) (ضعیف)» (اس کے راوی زُمَیل مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
زميل مجهول (تق : 2036) وقال البخاري : ’’ ولا يعرف لزميل سماع من عروة ولا ليزيد من زميل ولا تقوم به الحجة ‘‘ (التاريخ الكبير 450/3)
وللحديث شاهد ضعيف عند الترمذي (735)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 91
إسناده ضعيف
زميل مجهول (تق : 2036) وقال البخاري : ’’ ولا يعرف لزميل سماع من عروة ولا ليزيد من زميل ولا تقوم به الحجة ‘‘ (التاريخ الكبير 450/3)
وللحديث شاهد ضعيف عند الترمذي (735)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 91
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
735
| اقضيا يوما آخر مكانه |
سنن أبي داود |
2457
| صوما مكانه يوما آخر |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2457 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2457
فوائد ومسائل:
نفلی روزے کی قضا واجب نہیں ہے اگر رکھے تو مستحب ہے۔
تاہم اس طرح کہ عمل کو اپنی عادت نہیں بنانا چاہیے۔
مذکورہ روایت ضعیف ہے۔
نفلی روزے کی قضا واجب نہیں ہے اگر رکھے تو مستحب ہے۔
تاہم اس طرح کہ عمل کو اپنی عادت نہیں بنانا چاہیے۔
مذکورہ روایت ضعیف ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2457]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 735
نفل روزہ توڑنے پر اس کی قضاء لازم ہے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں اور حفصہ دونوں روزے سے تھیں، ہمارے پاس کھانے کی ایک چیز آئی جس کی ہمیں رغبت ہوئی، تو ہم نے اس میں سے کھا لیا۔ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آ گئے، تو حفصہ مجھ سے سبقت کر گئیں - وہ اپنے باپ ہی کی بیٹی تو تھیں - انہوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! ہم لوگ روزے سے تھے۔ ہمارے سامنے کھانا آ گیا، تو ہمیں اس کی خواہش ہوئی تو ہم نے اسے کھا لیا، آپ نے فرمایا: ”تم دونوں کسی اور دن اس کی قضاء کر لینا۔“ [سنن ترمذي/كتاب الصيام/حدیث: 735]
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں اور حفصہ دونوں روزے سے تھیں، ہمارے پاس کھانے کی ایک چیز آئی جس کی ہمیں رغبت ہوئی، تو ہم نے اس میں سے کھا لیا۔ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آ گئے، تو حفصہ مجھ سے سبقت کر گئیں - وہ اپنے باپ ہی کی بیٹی تو تھیں - انہوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! ہم لوگ روزے سے تھے۔ ہمارے سامنے کھانا آ گیا، تو ہمیں اس کی خواہش ہوئی تو ہم نے اسے کھا لیا، آپ نے فرمایا: ”تم دونوں کسی اور دن اس کی قضاء کر لینا۔“ [سنن ترمذي/كتاب الصيام/حدیث: 735]
اردو حاشہ:
1؎:
لیکن جمہور نے اسے تخییر پر محمول کیا ہے کیونکہ ام ہانی کی ایک روایت میں ہے ((وَإِنْ كَانَ تَطَوُّعاً فَإِنْ شِئْتِ فَأقْضِي وَإِنْ شِئْتِ فَلَا تَقْضِي)) ”اور اگر نفلی روزہ ہے تو چاہو تو تم اس کی قضا کرو اور چاہو تو نہ کرو“ اس روایت کی تخریج احمد نے کی ہے اور ابوداؤد نے بھی اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے۔
نوٹ:
(جعفر بن برقان زہری سے روایت میں ضعیف ہیں،
نیز صحیح بات یہ ہے کہ اس میں عروہ کا واسطہ غلط ہے سند میں عروہ ہیں ہی نہیں)
1؎:
لیکن جمہور نے اسے تخییر پر محمول کیا ہے کیونکہ ام ہانی کی ایک روایت میں ہے ((وَإِنْ كَانَ تَطَوُّعاً فَإِنْ شِئْتِ فَأقْضِي وَإِنْ شِئْتِ فَلَا تَقْضِي)) ”اور اگر نفلی روزہ ہے تو چاہو تو تم اس کی قضا کرو اور چاہو تو نہ کرو“ اس روایت کی تخریج احمد نے کی ہے اور ابوداؤد نے بھی اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے۔
نوٹ:
(جعفر بن برقان زہری سے روایت میں ضعیف ہیں،
نیز صحیح بات یہ ہے کہ اس میں عروہ کا واسطہ غلط ہے سند میں عروہ ہیں ہی نہیں)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 735]
Sunan Abi Dawud Hadith 2457 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق