🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

43. لَيَعُودَنَّ الْأَمْرُ كَمَا بَدَأَ حَتَّى يَكُونَ كُلُّ إِيمَانٍ بِالْمَدِينَةِ
دین کا معاملہ ویسے ہی لوٹ آئے گا جیسے شروع ہوا تھا، یہاں تک کہ سارا ایمان مدینہ میں سمٹ آئے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8606
أخبرنا الحسن بن يعقوب بن يوسف العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا عبد الوهاب بن (1) عطاء، أخبرنا سعيد بن إياس الجريري، عن أبي نضرة، عن جابر بن عبد الله قال: يوشك أهل العراق أن لا يجيء إليهم درهمٌ ولا قَفِيزٌ، قالوا: ممَّ ذاك يا أبا عبد الله؟ قال: من قِبَل العَجَم، يَمنَعون ذاك، ثم سكت هنيهةً، ثم قال: يوشك أهل الشام أن لا يجيء إليهم دينارٌ ولا مُدٌّ، قالوا: ممَّ ذاك؟ قال: من قِبَل الرُّوم، يَمنَعون ذلك، ثم قال: قال رسول الله ﷺ:"يكون في أمتي خليفةٌ يَحْثي المال حَثيًا لا يَعُدُّه عدًّا". ثم قال: والذي نفسي بيده، ليعودَنَّ الأمر كما بدأ، ليعودَنَّ كلُّ إيمان إلى المدينة كما بدأ بها، حتى يكون كل إيمان بالمدينة. ثم قال: قال رسول الله ﷺ"لا يخرج رجل من المدينة رَغْبةً عنها، إلَّا أبدَلَها الله خيرًا منه، وليَسمَعنَّ ناسُ برُخصٍ من أسعارٍ ورِيفٍ فيَتَّبِعونه، والمدينة خير لهم لو كانوا يعلمون" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة. إنما أخرج مسلم حديث داود بن أبي هند، عن أبي نَضْرة، عن أبي سعيد، عن النبي ﷺ:"يكون في آخرِ الزمان خَليفةٌ يُعطي المال لا يعده عدًّا" (1) ، وهذا له علَّة (2) :
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8400 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: عنقریب اہل عراق کے پاس نہ کوئی درہم آئے گا اور نہ غلہ (قفيز)، لوگوں نے پوچھا: اے ابوعبداللہ! یہ کس وجہ سے ہوگا؟ انہوں نے کہا: عجمیوں کی طرف سے، وہ اسے روک دیں گے، پھر وہ تھوڑی دیر خاموش رہے اور فرمایا: عنقریب اہل شام کے پاس نہ کوئی دینار آئے گا اور نہ غلہ (مُدّ)، لوگوں نے پوچھا: یہ کس وجہ سے ہوگا؟ انہوں نے کہا: رومیوں کی طرف سے، وہ اسے روک دیں گے۔ پھر انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں ایک ایسا خلیفہ ہوگا جو مال لپ بھر بھر کر دے گا اور اسے شمار نہیں کرے گا۔ پھر انہوں نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! یہ معاملہ (دین) ضرور اسی طرح پلٹ آئے گا جیسے اس کا آغاز ہوا تھا، ہر ایمان والا مدینہ کی طرف اسی طرح لوٹ آئے گا جیسے اس کا آغاز وہیں سے ہوا تھا، یہاں تک کہ سارا ایمان مدینہ میں سمٹ آئے گا۔ پھر انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص بھی مدینہ سے بے رغبتی کرتے ہوئے اسے چھوڑے گا، اللہ اس کے بدلے اس سے بہتر شخص وہاں لے آئے گا، اور کچھ لوگ خوشحالی، ارزانی اور سستے داموں کی خبریں سنیں گے تو وہ (مدینہ چھوڑ کر) ان کے پیچھے چلے جائیں گے، حالانکہ مدینہ ان کے لیے بہتر ہے اگر وہ جانتے ہوتے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اس سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔ امام مسلم نے صرف داؤد بن ابی ہند کی روایت ابونضرہ سے، انہوں نے ابوسعید سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ: آخری زمانے میں ایک خلیفہ ہوگا جو مال دے گا اور اسے شمار نہیں کرے گا، اور اس میں ایک علمی علت ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8606]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل يحيى بن أبي طالب وشيخه عبد الوهاب بن عطاء، فهما صدوقان لا بأس بهما، وهما متابعان» [ترقيم الرساله 8606] [ترقيم الشركة 8502] [ترقيم العلميه 8400]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8607
فقد حدَّثَناه علي بن عيسى، حدثنا الحسين بن محمد بن زياد، حدثنا أبو موسى ومحمد بن بشار قالا: حدثنا عبد الوهاب بن عبد المجيد (3) ، حدثنا داود بن أبي هند، عن أبي نضرة، عن جابر أو أبي سعيد (4) ، أنَّ نبي الله ﷺ قال:"يكون في آخر هذه الأمة خليفةٌ يَقسِمُ المالَ لا يَعُدُّه عدًّا" (5) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8401 - رواه مسلم
سیدنا جابر یا سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس امت کے آخری دور میں ایک خلیفہ ایسا ہوگا جو مال تقسیم کرے گا اور اسے شمار نہیں کرے گا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8607]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8607] [ترقيم الشركة 8503] [ترقيم العلميه 8401]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8608
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا محمد بن إبراهيم بن أُورمة، حدثنا الحسين بن حفص، حدثنا سفيان، عن الأعمش، عن إبراهيم؛ وسلمة بن كهيل، عن أبي الزَّعْراء، عن ابن مسعود قال: يأتي على الناس زمانٌ يأتي الرجلُ القبر فيضطجع عليه فيقول: يا ليتني مكان صاحبه؛ ما به حبُّ لقاء الله، إِلَّا لِمَا يرى من شدة البلاء (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8402 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ ایک آدمی قبر کے پاس آئے گا اور اس پر لیٹ کر کہے گا: کاش! میں اس قبر والے کی جگہ ہوتا؛ وہ یہ بات اللہ سے ملاقات کے شوق میں نہیں کہے گا، بلکہ ان آزمائشوں اور بلاؤں کی سختی کی وجہ سے کہے گا جو وہ (دنیا میں) دیکھ رہا ہوگا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8608]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهو موقوف، محمد بن إبراهيم بن أورمة مجهول، لكنه لم ينفرد به، وله في هذا الخبر إسنادان، الأول: من رواية سفيان» [ترقيم الرساله 8608] [ترقيم الشركة 8504] [ترقيم العلميه 8402]

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8609
أخبرني محمد بن علي الصنعاني بمكة حرسها الله، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن الزهري، عن عُروة بن الزبير، عن كُرْز بن علقمة الخُزاعي قال: قال أعرابي: يا رسول الله، هل للإسلام منتهى؟ قال:"نعم، أيُّما أهل بيتٍ من العرب والعجم أراد الله بهم خيرًا، أدخل عليهم الإسلام" قالوا: ثم ماذا يا رسول الله؟ قال:"ثم تقعُ فتنٌ كأنها الظُّلل" قال: فقال أعرابي: كلَّا يا رسول الله! فقال النبي ﷺ:"والذي نفسي بيده، لَتَعودُنَّ فيها أَساوِدَ صُبًّا، يَضربُ بعضكم رقاب بعض" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه (2) .
سیدنا کرز بن علقمہ خزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا اسلام کی کوئی انتہا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، عرب و عجم کا جو بھی گھرانہ ایسا ہو جس کے ساتھ اللہ بھلائی کا ارادہ فرمائے، ان میں اسلام داخل کر دیتا ہے، صحابہ نے پوچھا: پھر کیا ہوگا یا رسول اللہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر ایسے فتنے برپا ہوں گے گویا وہ سیاہ بادلوں کے سائے ہوں، اس اعرابی نے (حیرت سے) کہا: ہرگز نہیں یا رسول اللہ! تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! تم ان فتنوں میں ایک دوسرے پر ٹوٹ پڑنے والے ان سیاہ سانپوں کی طرح ہو جاؤ گے جو سر اٹھا کر حملہ کرتے ہیں، کہ تم میں سے بعض بعض کی گردنیں ماریں گے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8609]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8609] [ترقيم الشركة 8505]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8610
أخبرنا علي بن عبد الرحمن بن عيسى السبيعي بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم الغفاري، حدثنا إسماعيل بن أبان، حدثنا أبو أُوَيس، حدثني ثَوْر بن زَيْد الكناني وموسى بن ميسرة، عن عكرمة، عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ:"لتركبُنَّ سَنَنَ مَن كان قبلكم، شِبرًا بشبرٍ، وذراعًا بذراع، حتى إنَّ أحدهم لو دَخَل جُحْرَ ضَبٍّ لدخلتُم، وحتى لو أنَّ أحدهم جامع امرأته بالطريق لفعلتُموه" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه بهذه السياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8404 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے سے پہلے لوگوں کے طریقوں کی بالشت برابر بالشت اور ہاتھ برابر ہاتھ ایسی مکمل پیروی کرو گے کہ اگر ان میں سے کوئی گوہ کے سوراخ میں داخل ہوا ہوگا تو تم بھی اس میں داخل ہو گے، یہاں تک کہ اگر ان میں سے کسی نے اپنی بیوی کے ساتھ سرِ راہ جماع کیا ہوگا تو تم بھی ویسا ہی کرو گے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8610]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن في المتابعات والشواهد من أجل أبي أُويس» [ترقيم الرساله 8610] [ترقيم الشركة 8506] [ترقيم العلميه 8404]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں