🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

81. باب الْمُعْتَكِفِ يَعُودُ الْمَرِيضَ
باب: اعتکاف کرنے والا مریض کی عیادت کر سکتا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2472
حَدَّثَنَا عبد الله بن محمد النفيلي، وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَ النُّفَيْلِيُّ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَمُرُّ بِالْمَرِيضِ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ، فَيَمُرُّ كَمَا هُوَ وَلَا يُعَرِّجُ يَسْأَلُ عَنْهُ"، وَقَالَ ابْنُ عِيسَى: قَالَتْ: إِنْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُ الْمَرِيضَ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حالت اعتکاف میں مریض کے پاس سے عیادت کرتے ہوئے گزر جاتے جس طرح کے ہوتے اور ٹھہرتے نہیں بغیر ٹھہرتے اس کا حال پوچھتے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2472]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایامِ اعتکاف میں مریض کے پاس سے گزرتے اور اپنی راہ چلتے جاتے اور اس کا حال احوال پوچھتے مگر اس غرض سے اس کی طرف مڑتے نہ تھے۔ اور ابن عیسیٰ نے کہا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف کی حالت میں مریض کی عیادت کر لیتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2472]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17515) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی لیث بن ابی سلیم ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ليث بن أبي سليم ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 91

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2473
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ:" السُّنَّةُ عَلَى الْمُعْتَكِفِ أَنْ لَا يَعُودَ مَرِيضًا وَلَا يَشْهَدَ جَنَازَةً وَلَا يَمَسَّ امْرَأَةً وَلَا يُبَاشِرَهَا وَلَا يَخْرُجَ لِحَاجَةٍ إِلَّا لِمَا لَا بُدَّ مِنْهُ، وَلَا اعْتِكَافَ إِلَّا بِصَوْمٍ، وَلَا اعْتِكَافَ إِلَّا فِي مَسْجِدٍ جَامِعٍ". قَالَ أَبُو دَاوُد: غَيْرُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، لَا يَقُولُ فِيهِ: قَالَتْ: السُّنَّةُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: جَعَلَهُ قَوْلَ عَائِشَةَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ سنت یہ ہے کہ اعتکاف کرنے والا کسی مریض کی عیادت نہ کرے، نہ جنازے میں شریک ہو، نہ عورت کو چھوئے، اور نہ ہی اس سے مباشرت کرے، اور نہ کسی ضرورت سے نکلے سوائے ایسی ضرورت کے جس کے بغیر کوئی چارہ نہ ہو، اور بغیر روزے کے اعتکاف نہیں، اور جامع مسجد کے سوا کہیں اور اعتکاف نہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبدالرحمٰن کے علاوہ دوسروں کی روایت میں «قالت السنة» کا لفظ نہیں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: انہوں نے اسے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول قرار دیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2473]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: معتکف کے لیے سنت یہ ہے کہ مریض کی عیادت کو نہ جائے، جنازے میں شریک نہ ہو، عورت سے مس نہ کرے اور نہ اس سے مباشرت (صحبت) کرے اور کسی انتہائی ضروری کام کے بغیر مسجد سے نہ نکلے۔ اور روزے کے بغیر اعتکاف نہیں اور مسجد جامع کے علاوہ کہیں اعتکاف نہیں۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عبدالرحمٰن بن اسحاق کے علاوہ کسی نے «السُّنَّة» کے لفظ نہیں کہے اور انہوں نے اسے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول قرار دیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2473]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 7354) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
الزھري صرح بالسماع عند الطبراني في مسند الشاميين (2910)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2474
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُدَيْلٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ جَعَلَ عَلَيْهِ أَنْ يَعْتَكِفَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ لَيْلَةً أَوْ يَوْمًا عِنْدَ الْكَعْبَةِ، فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" اعْتَكِفْ وَصُمْ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے زمانہ جاہلیت میں اپنے اوپر کعبہ کے پاس ایک دن اور ایک رات کے اعتکاف کی نذر مانی تھی تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: اعتکاف کرو اور روزہ رکھو۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2474]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایام جاہلیت میں یہ نذر مانی تھی کہ کعبہ میں ایک رات یا دن کا اعتکاف کروں گا۔ پس انہوں نے اس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اعتکاف کرو اور روزہ (بھی) رکھو۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2474]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 7354)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الاعتکاف 16 (2043)، صحیح مسلم/الأیمان والنذور 7 (1656)، سنن الترمذی/الأیمان والنذور 11 (1539)، سنن النسائی/الکبری/ الاعتکاف (3355)، كلهم رووا هذا الحديث بلفظ: ’’أوف بنذرك‘‘۔ (صحیح) دون قوله: ’’أو يومًا‘‘ وقوله: ’’وصم‘‘ (سب کے یہاں صرف ’’اپنی نذر پوری کر“ کا لفظ ہے اوربس)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح دون قوله أو يوما وقوله وصم ق
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قال أبو بكر النيسا بوري : ’’ ھذا حديث منكروابن بديل ضعيف الحديث‘‘ (سنن الدارقطني 200/2،201)
والحديث الصحيح ليس فيه ’’وصم ‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 91

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2475
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ يَعْنِي الْعَنْقَزِيَّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُدَيْلٍ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ، قَالَ: فَبَيْنَمَا هُوَ مُعْتَكِفٌ إِذْ كَبَّرَ النَّاسُ، فَقَالَ: مَا هَذَا يَا عَبْدَ اللَّهِ؟ قَالَ: سَبْيُ هَوَازِنَ، أَعْتَقَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ: وَتِلْكَ الْجَارِيَةُ فَأَرْسَلَهَا مَعَهُمْ.
اس سند سے بھی عبداللہ بن بدیل سے اسی طرح مروی ہے، اس میں ہے اسی دوران کہ وہ (عمر رضی اللہ عنہ) حالت اعتکاف میں تھے لوگوں نے الله أكبر کہا، تو پوچھا: عبداللہ! یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ قبیلہ ہوازن والوں کے قیدیوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آزاد کر دیا ہے، کہا: یہ لونڈی بھی (تو انہیں میں سے ہے) ۱؎ چنانچہ انہوں نے اسے بھی ان کے ساتھ آزاد کر دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2475]
عبداللہ بن بدیل نے (یہی روایت) اپنی سند سے اسی کی مانند روایت کی، اس میں اضافہ ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اعتکاف میں تھے کہ لوگوں نے یکایک تکبیر بلند کی۔ انہوں نے پوچھا: اے عبداللہ (ابن عمر)! یہ کیا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ ہوازن کے قیدیوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آزاد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا: تو اس لونڈی کو بھی (جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تھی) ان کے ساتھ چھوڑ دو۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2475]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، وانظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 7354) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: مطلب یہ ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ سے جب یہ سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہوازن کے قیدیوں کو آزاد کر دیا ہے تو اپنے بیٹے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ یہ لونڈی جو میرے پاس ہے وہ بھی تو انہیں قیدیوں میں سے ہے پھر تم اسے کیسے روکے ہوئے ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (2474)
وقصة عتق سبي ھوازن صحيحة،انظر صحيح البخاري (4318،4319)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 91

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں